بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سابق صہیونی وزیر اعظم نے کہا: نیتن یاہو نے ہمیں اس جنگ میں پھنسا دیا، اس نے اپنا وہم ٹرمپ کو فروخت کیا اور اسرائیلیوں کو بھی وہی کچھ فروخت کر رہا ہے۔
بلاشبہ نیتن یاہو ہی تھا جس نے ٹرمپ کو ایران میں اس افسوسناک صورت حال میں کھینچ لیا۔ اس نے اپنا وہم ٹرمپ کو فروخت کیا، جیسا کہ وہ اسرائیلوں کو بھی وہم فروخت کرتا ہے۔
نیتن یاہو نے حتیٰ خود بھی اپنے توہمات ماننا شروع کر دیا ہے اور اس بڑے خلا میں اس 'یقین' پر پہنچا ہے کہ یہ اوہام حقیقی ہیں!
نیتر یاہو کے وہمیات کا ایک نمونہ جنگ کے آغاز کے دو سال بعد حزب اللہ کی واپسی ہے جو اسرائیلی کابینہ کے لئے تزویراتی شکست سمجھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ صہیونی ریاست کے تمام تر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ایران کے خلاف جنگ پر بھی سب متفق و متحد تھے، لیکن اب چونکہ صہیونی ریاست کی ہڈیاں ایرانی حملوں میں ٹوٹ چکی ہیں، چنانچہ وہ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ اگر نیتن یاہو جنگ میں شکست نہ کھا چکا ہوتا تو آج یہی ایہود باراک اس کو تہنیتی پیغامات دیتا نظر آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ