الوداعی نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں زور دے کر کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ عبدالوہاب حسین ایک معمر شخص ہیں اور انہیں چلنے پھرنے کے لئے عصا کا سہارا لینا پڑتا ہے، آل خلیفہ کے "جو" نامی جیلخانے کی انتظامیہ نے تقریباً 5 ماہ قبل ان پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
بحرینی انسٹی ٹیوٹ برائے حقوق و جمہوریت کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ عبدالوہاب حسین کو صحت کے لحاظ سے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم مسئلہ انہیں درپیش غیر منظم ذیابیطس کا مرض ہے، جس کے لئے ماہر ڈاکٹروں کے توسط سے مسلسل طبی معائنات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس وقت ان کی یہ بیماری اس قدر شدید ہے کہ ان کے پیروں کی جلد پھٹ چکی ہے۔
انھوں نے کہا: عبدالوہاب حسین پابند سلاسل ہونے سے پہلے اعصابی امراض میں مبتلا تھے لیکن خلیفی حکام نے انہیں دوا دینے سے انکار کیا، لیکن فوجی اسپتال میں انہیں منظم طبی خوراک فراہم کی جاتی تھی، جو پابندیوں کی وجہ سے روک دی گئی ہے اور وہ اس وقت علاج معالجے سے بالکل محروم ہیں۔
سید احمد الوداعی کا کہنا تھا کہ 10 ماہ قبل ان کے لئے ڈاکٹروں سے وقت لیا گیا تھا لیکن جیل کے خلیفی حکام نے انہیں پروگرام کے مطابق ڈاکٹروں کے پاس نہیں جانے دیا؛ اور ان کے دانتوں کا علاج بھی کئی ماہ قبل روک دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے۔
سید الوداعی نے خلیفی وزیر صحت رشید بن عبداللہ آل خلیفہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عبدالوہاب حسین کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے اور انہیں فوری طور پر رہا کر دے۔
واضح رہے کہ شیخ حسن مُشَیمَع، شیخ عبدالجلیل المقداد، شیخ علی سلمان اور عبدالوہاب حسین نامی گرامی لبنانی علماء اور سیاسی راہنما ہیں جنہیں سنہ 2011ع سے اب تک آل خلیفہ کے قیدخانوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور انہیں مسلسل جبر و تشدد اور انسانی سہولیات سے محروم، رکھا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110