2 مئی 2026 - 23:44
حصۂ سوئم | ایران جنگ کے بعد ابھرنے والی طاقت ہوگا/ نیتن یاہو امریکہ کو قلعہ شکن مشین سمجھتا ہے، گریگ سائمنز

گریگ سائمنز، پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر، کہتے ہیں کہ ہم ایک مختلف دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ممکنہ طور پر 'پوسٹ پیکس امریکانا' (امریکی امن کے بعد) کا دور اور صہیونی پراجیکٹ کا خاتمہ ہوگا، جبکہ ایران اس دور میں ابھرنے والی طاقت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جارحانہ جنگ نہ صرف اعلان کردہ اہداف، ـ یعنی بشمول ایران کے اسلامی جمہوریہ کے نظام کی تبدیلی اور ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی تباہی، ـ تک نہیں پہنچی، بلکہ اس نے ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا جو اگر چاہے تو آبنائے ہرمز میں پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب: ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے یہ جنگ کیوں شروع کی۔ امریکہ کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ 1979 میں [اسلامی میں] ان کی زخمی ہونے والی ساکھ واپس لینے کا ہے؛ جب ایران ایک محکوم ملک تھا اور آزاد ہو گیا؛ اور اس کے علاوہ، امریکہ کا غرور اور اس کی جہالت کی بنا پر، جس کا بظاہر کوئی  علاج نہیں ہے۔ "اسرائیل بھی بڑے شوق سے امریکہ کو قربانی کا بکرا بنانے کے لئے تیار ہے،" کیونکہ ان کے نزدیک، امریکہ اسرائیل کے لئے محض ایک قلعہ شکن مشین  کا کردار ادا کرتا ہے!! اگر امریکی ایران کی تباہی میں مدد کریں، تو یہ کام خطے میں امریکی طاقت کی تباہی کی قیمت پر ممکن ہوگا۔ [اسرائیل کے نقطہ نظر سے] یہ معاملہ 'عظیم تر اسرائیل' کے منصوبے سے جڑا ہے، کیونکہ 'ایران عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کے راستے میں اصل رکاوٹ' ہے۔ لیکن نیتن یاہو اور اس کی قلعہ شکن مشین، دونوں، شکست کھا چکے ہیں۔

ہم ایک بہت ہی مختلف دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ممکنہ طور پر "پوسٹ پیکس امریکانا [post-Pax Americana]" "امریکی امن، کے بعد" کا دور ہوگا۔ یہ ممکنہ طور پر صہیونی پراجیکٹ کا خاتمہ بھی ہوگا، کیونکہ وہ دونوں اندرونی طور پر ایک ٹوٹی پھوٹی اور بکھری ہوئی ریاستیں ہیں؛ ان نقصانات کے علاوہ جو [باہر سے] انہیں پہنچے ہیں؛ جبکہ ایران ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ اور یقیناً اس کے عظیم اثرات خلیج فارس میں امریکہ کے سابقہ ماتحت اور محکوم ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ مثال کے طور پر، قطر کو بہت جلد پتہ چل گیا کہ اس کے ملک میں امریکی اڈوں کا وجود ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں، بلکہ یہ دوسرے ممالک کے خلاف امریکی طاقت کے استعمال کا ایک ذریعہ ہے۔ بایں معنی کہ جنگ امریکہ لڑے گا اور نقصان قطر کو اٹھانا پڑے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس حقیقت کو سمجھنے کے معاملے میں قدرے 'مزاحمت' کر رہا ہے، لیکن میرے خیال میں ہم دیکھیں گے کہ وہ بھی [کچھ مزید نقصانات اٹھا کر] اس نتیجے پر پہنچ ہی جائے گا۔ خلیج [فارس] کے ممالک کو جو رعایتیں حاصل تھیں اور جو انہیں امیر، خوشحال اور طاقتور بنا رہی تھیں، وہ اب ختم ہو چکی ہیں، کیونکہ یہ ایک 'ظاہری منظر' اور سلامتی (فزیکی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی وغیرہ) کے مفروضے پر مبنی تھیں جو اب ثابت ہو چکا ہے کہ جو کچھ ہو رہا تھا ـ [ان ممالک کے قیام سے لے کر خوشحالی اور ترقی تک] ـ ایک وہم تھا؛ خاص طور پر جب کوئی غیر ملکی اداکار، مغربی ایشیا میں ایک انتخاب شدہ تنازع پیدا کر دیں [تو یہ تلخ حقیقت مزید عیاں ہوجاتی ہے کہ خلیج فارس کی یہ ریاستیں اسرائیل اور امریکہ کے مفاد کے لئے بنی تھیں اور ان کے قیام اور بقاء کا فلسفہ بھی اجاگر ہوجاتا ہے]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha