2 مئی 2026 - 13:35
مآخذ: ابنا
لبنان کو جولانی سے کیا سبق سیکھنا چاہیے

لبنان اور خطے کی صورتحال پر ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مفاہمت سے پہلے شام کی موجودہ صورتحال سے سبق سیکھنا چاہیے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان اور خطے کی صورتحال پر ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مفاہمت سے پہلے شام کی موجودہ صورتحال سے سبق سیکھنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، حسان الحسن نے کہا ہے کہ لبنان کی حکومت امریکی و اسرائیلی دباؤ کے تحت ایک خطرناک مذاکراتی راستے پر چل رہی ہے، جبکہ وہ اپنی “اصل طاقت” یعنی مزاحمتی قوت کو نظر انداز کر رہی ہے۔

مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل لبنان کے جنوبی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہری املاک کو نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی ایک نیا سیکیورٹی منصوبہ بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے جس میں “زرد لائن” کے نام پر جنوبی لبنان میں ایک بفر زون بنانے کی کوشش شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس خطے کو ایک “محفوظ زون” کے طور پر تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جو بتدریج لبنان اور شام کے کچھ علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس منصوبے کو بعض مبصرین ایک بڑے جغرافیائی و اسٹریٹجک منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل شام کے دروزی علاقوں، خصوصاً سویدا تک اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور بعض دعوؤں کے مطابق جنوبی لبنان اور شام کے کچھ حصوں کو ایک جغرافیائی دائرے میں لانے کی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔

تجزیے میں شام کی صورتحال کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ابو محمد الجولانی کی قیادت میں بعض گروہوں نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مفاہمت کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود زمینی صورتحال میں اسرائیلی پیش قدمی اور اثر و رسوخ میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا گیا۔

آخر میں مضمون میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا لبنان کی موجودہ حکومت ایسے مذاکراتی راستے پر جا رہی ہے جس کے نتائج ملک کے اندرونی استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اور کیا یہ عمل اسرائیل کو وہ فائدہ دے سکتا ہے جو وہ براہ راست جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha