30 اپریل 2026 - 17:13
خلیج فارس وہ نام ہے جو پانی پر نہیں لکھا گیا  ہے بلکہ حافظہ تاریخ میں نقش ہوچکا ہے۔

ایسٹ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین امیرحسینی نے خلیج فارس کے نقشے سے، لفظ " فارس" حذف کرنے کو پرانی تہذیب سے ایران کا تاریخی رابطہ کاٹ دینے اور ایران کو محو کردینے کی سازش قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایسٹ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین امیرحسینی نے اپنی ایک یاد داشت میں لکھا ہے خلیج فارس کا نام پانی پر نہیں لکھا ہے  بلکہ تاریخ کے حافظ میں ن‍قش ہوچکا ہے اوراس کا دفاع سیاسی تحریف کے مقابلے میں حقیقت کا دفاع ہے۔  

انھوں نے ارنا کے لئے لکھے گئے اپنے اس مقالے میں لکھا ہے کہ  آج لڑائیاں صرف فوجی میدان میں ہی شروع نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ایک اصطلاح اور ایک نام حتی نقشے سے کسی صفت کو حذف کردینا بھی بہت گہرا تنازعہ شروع ہوجانے کا باعث ہوسکتا ہے۔

  پروفیسرمحمد حسین امیرحسینی لکھتے ہیں کہ خلیج فارس وہ جگہ ہے کہ جہاں، تاریخ، سیاست اور تشخص، سب ایک نام میں  ضم ہوجاتے ہیں اور خلیج فارس ایک جغرافیائی نام ہے جو ایک  تمدن کا تاریخی حافظہ ہے۔

  وہ لکھتے ہیں کہ خلیج فارس کا مسئلہ ایک جغرافیائی نام پر صرف لفظی اختلاف کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس نام میں، تہہ در تہہ ، تاریخ ایران، تجارتی گروہ، جہازرانی، علاقائی سلامتی، نقشوں  کی زبان، سفرناموں کی ادبیات، سفارتی دستاویزات اور نام رکھنے کا بین الاقوامی نظام، سب کچھ موجود ہے۔ بنابریں، اس وسیع سمندری علاقے کے نام سے لفظ " فارس" کو حذف کرنے کی کوشش، درحقیقت، اہم ترین جیوپولیٹیکل خطے اور قدیمی ترین تہذیب سے ایران کا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش ہے۔  

وہ لکھتے ہیں کہ یورپی نقشوں میں بھی یہی نام موجود ہے۔  معتبر برطانوی آرکائیوز، منجملہ بریٹش لائبریری میں متعدد نقشے اور سمندری چارٹ موجود ہیں جن میں اس خطے کے مقامی اور عربی  نام کے ساتھ ہی، انگریزی میں  Persian Gulf  یعنی خلیج فارس لکھا ہوا ہے۔ ان میں، انیسویں اور بیسویں صدی کے  اوائل سے متعلق نقشے اورسمندری چارٹ بھی شامل ہیں۔  اس سے  پتہ چلتا ہے کہ  جس زمانے میں یورپی نقشہ نویس، جنوبی ساحلوں کے نام لکھ رہے تھے، انھوں نے  اس پورے سمندری علاقے کا نام خلیج فارس لکھا ہے۔  

  پروفیسرمحمد حسین امیر حسینی نے لکھا ہے کہ " خلیج کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال اورمستقبل سے ہے۔ جب ہم اس کام صحیح نام لیتے ہیں تو صرف ایک صحیح اصطلاح  کا دفاع نہیں کرتے بلکہ تاریخ رابطے اور حقیقت کا بھی دفاع کرتے ہیں۔

 وہ لکھتے ہیں کہ  خلیج فارس پانی پر لکھا ہوا نام نہیں ہے جس کو  لہریں مٹادیں، یہ نام تاریخ کے حافظ میں محفوظ ہے۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha