27 اپریل 2026 - 14:59
مآخذ: ابنا
براہِ راست مذاکرات نہیں چاہتے، حزب‌الله دشمن کو کھلی چھوٹ نہیں دے گا

لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے سیاسی معاون علی حسن خلیل نے کہا ہے کہ لبنان دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا خواہاں نہیں، اور حزب‌الله کسی بھی صورت دشمن کو کھلی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے سیاسی معاون علی حسن خلیل نے کہا ہے کہ لبنان دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا خواہاں نہیں، اور حزب‌الله کسی بھی صورت دشمن کو کھلی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔

لبنانی میڈیا کے مطابق، علی حسن خلیل نے زور دیا کہ صرف جنگ بندی کا اعلان کافی نہیں بلکہ اس پر عملی عملدرآمد ضروری ہے، جس میں اسرائیلی افواج کا جنوبی لبنان کے دیہات سے انخلا اور حملوں کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی علاقوں سے شہریوں کی دوبارہ بے دخلی لبنان کی داخلی صورتحال پر بھاری بوجھ ڈالے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔

خلیل کے مطابق موجودہ مرحلے میں ترجیحات میں جنگ بندی کا مکمل نفاذ، اسرائیلی افواج کا انخلا، بے گھر افراد کی واپسی، تعمیرِ نو کا آغاز اور لبنانی قیدیوں کی رہائی شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان اندرونی اتحاد اور قومی بیانیے کو مضبوط بنائے، کیونکہ یہی عناصر موجودہ نازک مرحلے سے نکلنے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

معاون بری نے واضح کیا کہ لبنان براہِ راست مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا، جبکہ حزب‌الله جنگ بندی کی پاسداری کر رہا ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کی، تاہم اسرائیلی خلاف ورزیوں کا جواب دیا جائے گا تاکہ دشمن کو کھلی چھوٹ نہ ملے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان کے بغیر ملک میں امن ممکن نہیں، اور ان علاقوں میں معمولات زندگی کی بحالی ضروری ہے جو شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔

خلیل نے کسی بھی قسم کے قبضے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے جنوبی علاقے کا ہر حصہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے کسی صورت ترک نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی کارروائیاں مختلف سرحدی علاقوں میں جاری ہیں، جس کے جواب میں حزب‌الله نے بھی اپنی عسکری سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha