اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران صہیونی ٖڈرونز کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ متاثر ہوا ہے، جس کے بعد اس نے بڑے پیمانے پر نئے ڈرونز تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً 12 ہزار چھوٹے ڈرونز کی تیاری کا آرڈر دیا ہے، جسے اس کی عسکری حکمت عملی میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے دوران اس کے موجودہ ڈرون بیڑے کو نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرونز جدید جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر نگرانی، انٹیلیجنس اور ہدفی کارروائیوں میں۔ ایسے میں بڑی تعداد میں نئے ڈرونز کی تیاری کا فیصلہ اس صلاحیت کو بحال کرنے یا مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی نے خطے میں ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی حکمت عملی کو مزید اہم بنا دیا ہے، جہاں بغیر پائلٹ کے طیارے (ڈرونز) مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 12 ہزار ریز پرندوں کی تیاری کا منصوبہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیل مستقبل میں بھی ڈرون ٹیکنالوجی کو اپنی دفاعی اور جارحانہ حکمت عملی کا اہم حصہ بنائے رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ