بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ((Scott Besant)) نے اعلان کیا: کہ اس نے آبنائے ہرمز کی بندش سے جنم لینے والی تیل کی قلت سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی درخواست پر ایران اور روس کے تیل کے ـ پابندی سے ـ استثنیٰ کو مزید 30 دن تک توسیع دی ہے۔
سوال: ایرانی تیل کے پابندیوں سے استثنیٰ کا سبب کیا تھا؟
امریکی وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے جنم لینے والی تیل کی قلت سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی درخواست پر ایران اور روس کے تیل کے ـ پابندی سے ـ ا دیا گیا ہے۔
امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز اعلان کہ اگر ایران اور روس کے تیل کو پابندی سے مستثنیٰ نہ کیا جاتا تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھیں۔
بیسنٹ نے سینٹ کے اجلاس میں کہا: آج جب میں یہاں آ رہا تھا تو تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تھی اور اگر ایران اور روس کے تیل کو پابندی سے مستثنیٰ نہ کیا جاتا تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھیں۔
امریکہ کے بیرونی اثاثوں کی نگہداشت کے دفتر نے مارچ میں عمومی اجازت نامے جاری کئے اور ٹینکروں پر لدے ہوئے ایرانی اور روسی تیل کی فروخت کو 11 سے 19 اپریل تک مجاز کیا گیا۔
بیسنٹ نے 14 اپریل کو اعلان کیا کہ اس کا وزارت خانہ ایران تیل کے استثنیٰ کی مدت مکمل ہونے دے گا لیکن آج جمعرات 23 اپریل کو اس نے ایران اور روسی تیل کے پابندی سے استثنیٰ کی مدت میں مزید توسیع کا اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ