اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا جانا ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے دنیا بھر میں وقتی طور پر سکون کا احساس پیدا کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے دو ہفتوں کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
لکھنؤ میں معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نقوی نے اس جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی امن اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک سنجیدہ مذاکرات کریں اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاہدہ محض عارضی نہ ہو بلکہ اسے دیرپا امن میں تبدیل ہونا چاہیے۔ مولانا نے کہا کہ "ہم ہمیشہ امن اور انسانیت کے حق میں رہے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ محض دھوکہ دہی نہیں ہے۔ حقیقی امن تب ہی آئے گا جب دونوں ملک ایماندارانہ بات چیت میں مشغول ہوں گے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے"۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، اس لیے اس جنگ بندی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ تاہم یہ اقدام ایک نئی شروعات کی علامت ضرور ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں لاکھوں بھارتی شہری کام کرتے ہیں اور خطے میں استحکام کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تجارتی تعلقات پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ تاہم اگر کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر اس جنگ بندی کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار آنے والے دنوں کی پیش رفت پر ہوگا، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
آپ کا تبصرہ