اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب ایک نہایت نازک اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف امریکہ کا دباؤ ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے سنگین نتائج کا خوف۔
خلیج فارس کے عرب ممالک اس وقت محدود اختیارات کے ساتھ آگے بڑھنے پر مجبور ہیں۔ وہ نہ تو مکمل طور پر امریکہ کی پالیسیوں سے الگ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کے خطرات مول لینا چاہتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں یہ ممالک کوشش کر رہے تھے کہ اپنے ہاں موجود امریکی فوجی اڈوں اور ایران کے ساتھ تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھیں، مگر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔
یمن نے اس صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف اسرائیل کے خلاف ہیں اور وہ عرب ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ ساتھ ہی باب المندب جیسے اہم بحری راستے کو بند کرنے کا امکان بھی حالات سے مشروط کیا گیا ہے، جو خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی قیادت پر دباؤ بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف سعودی عرب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا مطالبہ کیا بلکہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں شمولیت کی بھی بات کی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی میڈیا میں مختلف رپورٹس اور بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاض کو جنگ میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات پورے خلیج فارس میں محسوس کیے جائیں گے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ پورے خطے کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ