28 فروری 2026 - 00:25
حصۂ دوئم | جنوری کے فسادات میں 10 غیر ملکی ایجنسیاں ملوث تھیں، سربراہ سپاہ پاسداران انٹیلی جنس فورس

خامنہ ای ڈاٹ آئی آر میڈیا نے جنوری 2026 کے امریکی-صہیونی فتنے کے پس منظر، پہلو‎ؤں، ناکامی کے طریقہ کار اور مستقبل کے لئے دشمن کے ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس فورس کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل پاسدار مجید خادمی سے بات چیت کی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس انٹرویو میں جنوری 2026 کے تلخ واقعات کا ہمہ جہت اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکورٹی پہلو اس معاملے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ منصوبے اور بعض اقتصادی اور سماجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنا 47 سالہ خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور یقیناً اس بار بھی ماضی کی طرح، وہ غلط اندازے کا شکار ہوگئے اور ایرانی عوام کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر، نہیں پہچانا چنانچہ ان کا منصوبہ ماضی کی طرح ادھورا اور ناکام ہو گیا۔

سوال: بعض لوگ جنوری 2026 کے فتنے کو انقلاب کے بعد دشمن کی طرف سے ڈیزائن کردہ سب سے بڑی دہشت گردانہ کارروائی مانتے ہیں۔ پہلے سوال میں آپ نے اسلامی نظام کی بغاوت کے حوالے سے دشمن کے 7 مرحلاتی منصوبے کا حوالہ دیا۔ اگر ممکن ہو تو، ان 7 مراحل کی مزید تفصیلات فراہم کریں۔

جواب: اس فساد میں دشمن نے موجودہ اقتصادی، ادراکی، سیاسی، سیکورٹی اور خارجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، تیزرفتار اور وسیع تر نتائج حاصل کرنے کے لئے پچھلے فتنوں سے حاصل کردہ تمام تجربات کو بروئے کار لائے کی کوشش کی۔ مجموعی طور پر دشمن نے اس فساد میں اپنے مرکزی منصوبے کو انجام تک پہنچانے کے لئے 7 مرحلاتی منصوبہ تیار کیا تھا:

1۔ نظام پر دباؤ ڈالنے کے لئے احتجاج کی صورت حال پیدا کرنا، اور اسے ہڑتال میں تبدیل کرنا۔ بطور ایک غیر مرئی ہتھیار:

اسی لئے مختلف مقامات اور متعدد مواقع پر (اس دور سے پہلے) اس نے مصنوعی احتجاج اور ہڑتال کی صورت پیدا کرکے ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ حالیہ فسادات میں بھی کچھ پیشہ ور گروہوں نے اقتصادی احتجاج کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے، پیشہ ورانہ احتجاج کے شہری اور پرامن روش کو زیادہ سے زیادہ تشدد کی طرف دھکیل دیا تاکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔

2۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ:

ان مقامات اور مراکز پر حملے سے دشمن کا مقصد ملک کے اس سیکورٹی حلقے کو تباہ کرنا تھا جن پر معاشرے کو عمومی سلامتی فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ جیسا کہ 12 روزہ جنگ میں بھی دشمن نے ثاراللہ مرکز، فاتب فورسز (تہران پولیس کمانڈ مرکز)، بسیج  وغیرہ جیسے ایسے  مراکز پر بمباری کرکے ملک کی سیکورٹی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

3۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کرنا:

ہلاکتیں بنانا اور پرتشدد کارروائیاں کرنا، جس کا مقصد داخلی جذبات اور احساسات کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور خارجی دباؤ سے کی آڑ لینا تھا۔

4۔ اقتصادی، سماجی اور سیکورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگانا:

ملکی نظام کی اقتصادی، سماجی اور سیکورٹی چیلنجز کے انتظام میں نااہلی اور ناکارہ پن کا عنصر اجاگر کرنا جس کا مقصد انقلاب مخالف گروہوں کو بغاوت اور نظام کے خاتمے کے ممکن ہونے کا یقین دلانا، اور عوام میں مایوسی پیدا کرنا تھا۔

5۔ سروسز انفراسٹرکچر کو غیر مفید دکھانا

خدماتی انفراسٹرکچر کے خلاف سائبر اور تخریبی کارروائیاں اور نظام پر ناکارآمد ہونے کا الزام لگانا جس کا مقصد معاشرے کی معمول کی زندگی کو نقصان پہنچانا اور عوام میں عدم اطمینان پیدا کرنا تھا، جیسا کہ معمول کے مطابق، مالی اور مواصلاتی سمیت بعض دیگر شعبوں میں ملکی انفراسٹرکچر کی صلاحیت پر متعدد حملے کئے گئے جو ملک کی تکنیکی ٹیموں کی کوششوں سے ناکام رہے۔

6۔ احتجاج کو دہشت گردی سے جوڑنا:

دہشت گرد گروہوں کو اندرون ملک اور سرحدی علاقوں میں لا کر احتجاجی مرکز کو دہشت گردی کے دھارے سے جوڑنا۔

7۔ امریکہ کا ممکنہ حملہ

امریکہ کی طرف سے خارجی حمایت اور خصوصی کارروائیاں اور فوجی حملہ کرنا، جس کا اعلان واشنگٹن کے سرکاری حکام نے کئی بار کیا اور اس کے لئے میدانی ماحول بھی فراہم کیا گیا تھا۔

در حقیقت، دشمن نے اپنے معلوماتی اور عملیاتی سطحوں پر موجود تمام ہتھیاروں اور وسائل کو اس فساد کی تاثیر کی سطح بڑھانے کے لئے استعمال کیا؛ یہاں تک کہ ایک بار پھر، مغربی سرکاری حکام، فسادیوں کی حمایت کرنے اور اشتعال دلانے کے لئے کھلم کھلا میدان میں آگئے۔ ایک یورپی سفارت کار نے ایک خفیہ نشست میں کہا تھا کہ "طے یہ پایا تھا کہ ان مراحل کی نتیجہ خیزی کے پہلے مرحلے میں، احتجاجات، فسادات اور جنگ غیر مرتکز صورت میں دارالحکومت سے باہر بھڑکے گی، دوسرے مرحلے میں بحران کو مرکز اور اس کے آس پاس منتقل کیا جائے گا، اور تیسرے مرحلے میں، دارالحکومت سے باہر کی جانب حتمی پیش قدمی دیکھی جائے گی۔" نیز اس طرح منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ حکومتی ڈھانچوں، سیکورٹی اداروں اور حکومتی حلقوں کے درمیان مختلف قسموں ہر قسم کی پھوٹ اور دراڑ پیدا ہو" اور یہ سازش بھی سابقہ سازشوں کی طرح ناکام ہو گئی۔

اگر ہم اس فساد کو قلیل وقت اور اخراجات کی وسعت، ـ خواہ افرادی لحاظ سے خواہ غیر افرادی لحاظ سے ـ، نیٹ ورکنگ، آن لائن تربیت اور ابلاغیاتی معاونت کے زاویئے سے دیکھیں تو شاید ہم پیش کردہ مفروضے کو قبول کر سکیں۔ نیز دشمن کی طرف سے ادراکی جنگ اور سائبر اسپیس کے اوزار کا زیادہ سے زیادہ استعمال دیکھنے میں آیا جس نے نوجوانوں کو فریب دینے اور معاشرے کے ذہنوں میں نظام کی کے کمزور انتظآم کے تصور کو تقویت دی اور افکار عامہ میں خلل ڈالا اور یہ حالیہ فسادات کو پچھلے مشابہ معاملات سے ممتاز کرنے والے نکات میں سے ایک تھا۔

سوال: رہبر انقلاب نے حالیہ واقعات کو بغاوت اور نیم بغاوت قرار دیا۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور ان فسادات اور بغاوت کے درمیان کیا فرق اور کیا مماثلتیں ہیں؟

جواب: اگر بغاوت کو "مستقر حکومت یا نظام کا تختہ الٹنے کے مقصد سے پراکسی فورسز کے استعمال کے ساتھ (سخت اور نیم سخت) جارحانہ بیرونی مداخلت" سمجھیں، تو دیکھیں گے کہ واقعتاً جنوری کا فتنہ اور فساد، واقعی بغاوت جیسی چیز ہے۔ ایسا ہی جیسا کہ پہلے 19 اگست سنہ 1953ع‍ کی بغاوت میں یا پچھلی چند دہائیوں میں ایشیا اور لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں دیکھا گیا ہے۔ امریکی صدر کے ایک مشیر اور قریبی ساتھی نے ایک نشست میں واضح طور پر کہا ہے کہ "مجموعی مقصد یہ ہے کہ امریکہ براہ راست فوجی مداخلت کے بجائے، ایک ایسے عمل کو آسان بنا سکے جو ایران کر مغرب نواز بنا دے۔"

اس مقصد کے حصول کے لئے ذیل کی غیر فوجی اقدامات حسب ذیل ہیں:

1۔ "امریکہ کا ایران کے اندر اسلامی جمہوریہ ایران مخالف قوتوں کو مالی اور معلوماتی وسائل فراہم کرنا،

2۔ امریکہ کا مخالف گروہوں کو منظم اور طاقتور و متحرک بنانے میں مدد کرنا،

3۔ امریکہ کا مخالفین کو محفوظ مواصلاتی صلاحیتیں اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا،

4۔ اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھنا اور تیزتر کرنا اور

5۔ ایران کے لئے یورپ اور صہیونی ریاست کے درمیان تعاون سے ایک عبوری اتحاد، منظم کرنا۔"

جنوری کے فسادات کے میدانی شواہد بھی گواہ ہیں کہ کہ دشمن نے اس منصوبے میں بہت زیادہ مادی اخراجات بھی کرپٹو کرنسی کے ذریعے برداشت کئے؛ میدانی قوتوں بشمول دہشت گرد اور سیاسی گروہوں کو سماجی نیٹ ورکس کے پلیٹ فارم پر منظم کرنے، ان کی نیٹ ورکنگ کرنے کی وسیع کوششیں بھی کیں، جیسے کہ انہوں نے 1953 میں شعبان بی مُخ (بے مغر شعبان اور اس کے ٹولے) کے لئے بھی کیا تھا؛ ہم پر بہت زیادہ اقتصادی دباؤ بھی ڈالا اور اسلامی جمہوریہ کے تمام مخالف عناصر کو بھی ایران پر دباؤ ڈالنے پر آمادہ کیا۔

معلوماتی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن نے بغاوت جیسی ایک حرکت کو انجام تک پہنچانے کے لئے درج ذیل مراحل طے کئے تھے:

1۔ عوامی احتجاجات کے ساتھ ہی ـ اور اس لمحے جب احتجاج کرنے والے پیشہ ور افراد اور تاجر و دکاندار سڑکوں پر ہوں، ـ منظم اسٹریٹ فائٹنگ نیٹ ورک، مغربی اور صہیونی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی حمایت اور پشت پناہی سے میدان میں اترے گا تاکہ پرتشدد اور وسیع فسادات مسلط کرکے، جتا سکے کہ امن و امان کی صورت حال نظام کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

2۔ امریکہ کی براہ راست حمایت سے ایک ناگہانی فوجی حملہ، ملک کے سیاسی استحکام کو درہم برہم کر دیتا۔

3۔ دہشت گرد ٹولے، علیحدگی پسندی کے مقصد سے، سرحدی لائنوں پر امن و امان تباہ کرنے کے لئے اپنی کارروائیاں تیز کر دیتے۔

4۔ اس کے بعد، اندرون و بیرون ملک دشمن تحریکیں، اپنی موجودگی کا اعلان کر دیتیں تاکہ حالات کو ان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کے لئے حالات فراہم کئے جا سکیں۔ ادراکی میدان نے بھی بیرون ملک موجود بعض مخالف گروہوں کے لئے یہ وہم پیدا کر دیا تھا کہ گویا وہ "اسلامی جمہوریہ کا متبادل" ہوں گے۔

بہرحال، یہ نیم بغاوت مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر عملی شکل اختیار نہ کر سکی اور ناکام ہو گئی:

1۔ دشمن کی ترجیحی زر مبادلہ کی اصلاح اور بجٹ بل کے موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں عجلت اس طرح کہ دشمن کے کچھ نیٹ ورکس اور صلاحیتیں عملیاتی (آپریشنل) تیاری حاصل نہ کر سکیں۔

2۔ مغرب اور صہیونیوں کی طرف سے سامنے لائی جانی والی مخالف اشخاص سے ایرانی قوم کی تاریخی نفرت اور امریکی اور صہیونی ریاست کے عہدیداروں پر گہرا عدم اعتماد اور "مدد آرہی ہے" جیسی کلید الفاظ کے ساتھ واضح مداخلت پسندانہ موقف پر عوام غصہ۔

3۔ فسادات میں داخلے کے طریقے اور وقت کے بارے میں روایتی انقلاب مخالف ٹولوں کے درمیان اختلاف رائے، اور شاہ پرستوں کی مرکزی حیثیت کو قبول نہ کرنا۔

4۔ بعض فتنہ گر رہنماؤں اور ناپسندیدہ سیاسی گروہوں کے موقف کے باوجود، اندرون ملک ـ خاص طور پر حکومت اور پارلیمنٹ اور ملکی سیاسی قوتوں میں ـ سیاسی دراڑ کا ظہورپذیر نہ ہونا۔

5۔ اسلامی نظام کی طرف سے 'مظاہرین اور فسادیوں کے درمیان' فرق کا قائل ہونا۔

6۔ سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فسادیوں سے فیصلہ کن اور دانشمندانہ انداز میں نمٹنا۔

7۔ فوجی اور سفارتی اداروں کا امریکیوں کی بڑھتی ہوئی لالچی پن اور فوجی دھمکیوں کے مقابلے میں سنجیدگی سے ڈٹے رہنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha