بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اے ایف پی کے مطابق دونوں جانب کے حکام نے تصدیق کی کہ کچھ دیر جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد صورتحال وقتی طور پر قابو میں آ گئی ہے۔
افغان صوبہ ننگرہار کے ڈائریکٹر اطلاعات ذبیح اللہ نورانی کے مطابق پاکستانی علاقوں کی جانب سے فائر کھولا گیا جس پر افغان سرحدی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھڑپ رک چکی ہے اور افغانستان کی طرف کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب، پاکستان میں وزیراعظم آفس کے ترجمان نے افغان فورسز پر ’غیرضروری اور بلااشتعال فائرنگ‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے مؤثر جواب دے کر صورتحال پر قابو پایا۔ سرحدی علاقے پشاور سے ایک سکیورٹی اہلکار نے بھی بتایا کہ پاکستان میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی کارروائیاں کی تھیں، جن کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے مطابق کئی عام شہری مارے گئے۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ آپریشن دہشت گرد گروہوں کے خلاف تھا۔
گذشتہ چند ماہ سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔ اکتوبر میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد کئی زمینی گزرگاہیں تاحال بند پڑی ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر سرگرم ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ طالبان انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
تازہ فائرنگ کا تبادلہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں مزید اضافہ کرتا نظر آتا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ