اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے اتحادِ دولتِ قانون کے ایک رکن نے اعلان کیا ہے کہ نوری المالکی اس وقت وزارتِ عظمیٰ کے لیے واحد سنجیدہ امیدوار ہیں اور ان کی نامزدگی کا فیصلہ رابطہ فریم ورک میں اکثریتی اصول کے تحت کیا جائے گا۔
اتحاد کے رکن ولید الاسدی کے مطابق رابطہ فریم ورک وہ ادارہ ہے جو وزیرِ اعظم کے امیدوار کے تعین کا مجاز ہے، اور موجودہ مرحلے پر نوری المالکی کا نام ہی باقاعدہ طور پر زیرِ غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فریم ورک شیعہ سیاسی دھڑے کا سب سے بڑا بلاک ہے اور اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق امیدوار کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
الاسدی نے واضح کیا کہ امیدوار کے انتخاب کا طریقہ کار اکثریت کی حکمرانی کے اصول پر مبنی ہے، جس میں مشاورت اور ووٹنگ جمہوری روایات کے مطابق کی جاتی ہے اور کسی یکطرفہ اقدام یا زبردستی مسلط کرنے کی گنجائش نہیں۔ ان کے بقول، داخلی اتفاقِ رائے کسی بھی نام کو باضابطہ نامزدگی کے مرحلے تک پہنچانے کی بنیاد بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مرحلہ سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے واضح مؤقف اور متحدہ حکمتِ عملی کا متقاضی ہے تاکہ ایک مضبوط حکومت تشکیل دی جا سکے جو سیاسی، معاشی اور عوامی خدمات کے شعبوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
دوسری جانب سابق رکنِ پارلیمان باقر الساعدی نے بھی کہا ہے کہ نوری المالکی بدستور پارلیمان کے سب سے بڑے دھڑے کے امیدوار ہیں، جبکہ صدارتی عہدے کے لیے متفقہ امیدوار پیش کرنا اب کرد جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ نوری المالکی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ