23 فروری 2026 - 10:37
مآخذ: ابنا
مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر اسرائیلی پابندیاں پہلے سے زیادہ سخت

فلسطینی امورِ قدس کے ماہر عبدالله معروف نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں کی آمد و رفت پر غیر معمولی اور بے مثال پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی امورِ قدس کے ماہر عبدالله معروف نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں کی آمد و رفت پر غیر معمولی اور بے مثال پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے شہاب کے مطابق انہوں نے بیان میں کہا کہ ان اقدامات کا مقصد نمازیوں کی تعداد کو کم سے کم کرنا، مسجد میں موجودہ اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنا اور اسلامی انتظامیہ کے کردار کو ختم کرنا ہے، جبکہ ممکنہ عوامی ردعمل کو بھی محدود رکھا جائے۔

عبداللہ معروف کے مطابق اسرائیلی اقدامات میں داخلے پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنا، نمازیوں کی تعداد کم کرنا اور مقامی باشندوں کی رسائی محدود کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات مسجد اقصیٰ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اصل ہدف اسرائیلی حکومت کو مسجد کے انتظام میں بالا دست قوت کے طور پر منوانا اور قابض حکام کو واحد انتظامی اتھارٹی کے طور پر مسلط کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال 1967 کے بعد کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ کو اپنی مذہبی امور کی وزارت کے تحت لانا چاہتے تھے، تاہم بیت المقدس کے علما اور دینی قیادت کے سخت ردعمل کے باعث وہ منصوبہ ناکام ہو گیا اور انتظام دوبارہ اسلامی اوقاف کے سپرد کرنا پڑا۔

فلسطینی ماہر نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ پابندیاں عملی اور مؤثر ردعمل کے بغیر جاری رہیں تو اس سے مسجد کی شناخت اور انتظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض بیانات یا رسمی مذمت کافی نہیں، بلکہ سیاسی اور قانونی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

عبداللہ معروف نے دینی قیادت، سیاسی رہنماؤں اور اہلِ بیت المقدس سے متحدہ موقف اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے موجودہ اسٹیٹس کو کا تحفظ مشترکہ اور مربوط کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha