طاقت کے اس قاعدے میں ایک 'ظاہر بین نگاہوں سے اوجھل' پوشیدہ حقیقت ہے، جس کا نام "خدا" ہے۔ یعنی کھوکھلی طاقتوں سے بے نیازی کا اعلان؛ اور اس طاقت پر بھروسہ جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ہمارا خدا، وہی طبس میں ریت کا طوفان اٹھانے والا خدا ہی ہے جس نے بڑی طاقتوں کے حسابات الٹ دیئے؛ وہی خرمشہر والا خدا جو خالی ہاتھوں مجاہدین کے ہاتھوں آزاد ہؤا۔
اس دن کی امید کے ساتھ، جب بنی نوع انسان کے مصلح اور موعودِ عالم حضرت مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تعاون سے ناانصافی اور ظلم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، آمین یا رب العالمین۔
دشمن کا بائیکاٹ نہ تو ایک نیا سیاسی موقف ہے اور نہ ہی آج کے واقعات پر عارضی ردعمل۔ یہ تزویراتی حکمت عملی 1400 سال سے زیادہ عرصہ پہلے وحی کے متن میں بیان کی گئی تھی، جہاں قرآن واضح طور پر اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے، ان کی اطاعت کرنے اور ان کو تقویت پہنچانے سے منع کرتا ہے، اور امت کی عزت اور کامیابی کے تحفظ کا واضح فارمولا پیش کرتا ہے۔