18 فروری 2026 - 02:33
حصۂ دوئم | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہکس

فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس (Sander Hicks)، جو اس کانفرنس کے مقرر ہیں، نے کہا:

۔۔۔ ثمر آوری اور اجرتوں میں یہ اختلاف عدم مساوات کا سب سے اہم اشاریہ بن گیا ہے۔ اس کے باوجود مرکزی دھارے کے معیشت دان دوسرے معیار پر زور دیتے ہیں: "مجموعی قومی پیداوار (Gross National Product [GNP]) میں حقیقی فی کس آمدنی [Income Per Capita]" جیسا کہ مرکزی دھارے کے معیشت دان نارمین ہکس (Norman Hicks) نے مجھے بتایا: "حقیقی فی کس آمدنی 20 سال کے عرصے میں دو گنا ہو گئی ہے؛ یہ نتیجہ ایک زوال پذیر ملک کے لئے ممکن نہیں ہے۔" وہ درست کہتا ہے۔ فی کس مجموعی قومی آمدنی ـ افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے ـ سنہ 1970ع‍ سے اب تک دو گنا ہوگئی ہے۔ تاہم وہ "متوسط طبقہ" "تقسیم" (رسد اور Supply) کو چھپا دیتا ہے۔ گھرانوں کی اوسط آمدنی بہت ہی سست روی سے بڑھ گئی ہے اور مٹوسط طبقے کی اجرتوں میں عملی طور پر کوئی اضافہ نہیں ہؤا ہے۔ فرانسیسی ماہرین "توماس پکیٹی (Thomas Piketty)"، " ایمانوئل سائیز (Emmanuel Saez)"، اور "گابریل زوکمن (Gabriel Zucman)" کہتے ہیں کہ آمدنی میں ایک فیصد بڑی آمدنی والا طبقہ ـ یعنی سوپر رچ (Ultrarich) لوگوں نے سنہ 1970ع‍ سے اب تک اپنی آمدنی میں دو گنا اضافہ کیا ہے، حالانکہ زیادہ تر امریکی مزدوروں کی آمدنی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہؤا ہے۔

یہ معاشی حقائق باعث ہوئے ہیں کہ ایک بے بس قوم ایک ممکنہ ڈکٹیٹر کو ووٹ دینے کے لئے تیار ہو جائے! امریکی سیاست میں امراء کے پیسے کی بے لگام طاقت نے مزدور طبقے کے رائے دہندگان (ووٹروں) کو بدگمان کر دیا ہے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ صنعتوں کی زوال پذیری نے شمال مشرق اور درمیانی مغربی علاقوں کو [اقتصادی قوت سے] خالی کر دیا ہے اور اس علاقے میں رسٹ بیلٹ [Rust Belt] قائم کیا ہے، یونین کے اراکین کی تعداد گھٹ گئی ہے اور نسلی عدم مساوات باقی رہ گئی ہے۔ سیاہ فام اور لاطینی نژاد خاندانوں کی آمدنی بدستور سفید فام خاندانوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، اور نسلی امتیاز پر مبنی دولت کا اختلاف، سنہ 1980ع‍ کے بعد وسیع تر ہو گیا ہے۔

اسی صورت حال میں ٹرمپ بھی اس ملک کے صدر بن گئے ہیں؛ جن کی پالیسیاں اس عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر نارمین ہکس کے مطابق: "دولت کی تقسیم بدتر ہو گئی اور جب سے ٹرمپ نے ارب پتیوں کا ٹیکس اور دوسری طرف سے ـ Medicare  اور سوشل سیکورٹی سمیت ـ غرباء کی حامی سماجی منصوبوں کو کم کردیا ہے، یہ صورت حال بدتر بھی ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کے محاصل (Tariffs) کی جنگ ان صنعتوں میں غیر مفید قومی پیداوار کی جبری واپسی کی کوشش ہے جن میں امریکہ کو کسی حد تک برتری حاصل نہیں ہے۔ 

لیکن سب کچھ ہاتھ سے نہیں نکلا ہے۔ آزاد منڈی کے سرمایہ داری نظام کی چھوڑی ہوئی جلی ہوئی زمین پر مسئلے کے حل کی کچھ راہیں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ یہ راستے نیچے سے، عوام کے درمیان، آتے ہیں: جب لوگ سوشلزم سے واقف ہوجاتے ہیں، اس کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے اصولوں کو اپنے کام کی دنیا میں بروئے کار لاتے ہیں۔ میں "ایمیزون لیبر یونین (Amazon Labor Union)" سے پرامید ہوں؛ ایسی یونین جس نے بالکل یہیں، ایمیزون کی عظیم تنصیبات میں، اسٹیٹن کے جزیرے (Staten Island) میں، نیویارک کے شہر میں، عظیم ترین امریکی کمپنیوں میں سے ایک [ایمیزون] کو چیلنج کیا ہؤا ہے۔ یہ لیبر یونین ابتدا میں نوجوان سیاہ فام مزدوروں کی قیادت میں ایک عوامی تحریک تھی اور آج یہ امریکہ کے قدیم ترین اور عظیم ترین لیبر یونین ٹیمسٹر (International Brotherhood of Teamsters) کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ "اسٹارباکس کے متحدہ مزدورStarbucks Workers United)" بھی امید کا سرمایہ ہیں، ایسی عوامی تحریک جو کیفےز کے مالکین سے شروع ہوئی اور ملک میں ایک طاقتور یونین میں تبدیل ہو گئی اور " سروس ایمپلائز انٹرنیشنل یونین [SEIU]" کے ساتھ مل کر کام کے 650 مراکز کو منظم کرتی ہے۔ لیبر یونینوں کی تحریک کی دوبارہ پیدائش، آمدنیوں میں عدم مساوات میں کمی آنے اور نسل پرستی کے خلاف، اور باہمی یکجہتی کے حق میں سیاسی آگہی کے فروغ کے لئے ممد و معاون ثابت ہوگی۔

بڑھتی ہوئی اقتصادی عدم مساوات کا دوسرا [عوامی] جواب، نیویارک کے میئر کے طور پر زہران ممدانی کو حاصل ہونے والی عوامی حمایت ہے۔ اچھی اقتصادی پالیسیوں کا ایک مجموعہ اور ایک دلکش مسکراہٹ، آج بھی ڈیموکریٹ پارٹی کی سیاسی فضا میں راستہ کھول دیتی ہے۔ ممدانی نے 33 سال کی عمر میں، اقتصادی-معیشتی مسائل پر مبنی سیاسی منصوبوں کے ساتھ، ڈیموکریٹ جماعت کے کہنہ مشق رکن انڈیو کومو (Andrew Cuomo) کو ہرا دیا۔ ابتدائی انتخابات میں ان کی کامیابی اور پھر حتمی انتخابات میں ان کا میئر بننا، اس لئے تھا کہ انھوں نے وعدہ کیا کہ گھروں کے کرایوں میں اضافے کو روک دیں گے اور شہری بسوں کو محفوظ، تیز رفتار اور مفت کر دیں گے۔ وہ پہلے مسلمان ہیں جو نیویارک کے میئرشپ کے لئے ہونے ڈیموکریٹ جماعت کے انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ زہران ممدانی میرے دوست اور ایک نمایاں شخصیت ہیں؛ ایک شفیق، دلکش اورذہین، ہنسنے ہنسانے والے زندہ دل اور اصولوں کے پابند انسان ہیں اور ان کے عقائد ان کے دین میں بھی کہری جڑیں رکھتے ہیں اور ان کی سوشل ڈیموکریٹک پالیسیوں میں۔ ان کے ظہور پذیر ہونے سے ـ عدل و انصاف کی حامی عوامی تحریکوں اور مہمات [Campaigns] کے ساتھ مل کر ـ ظاہر ہؤا کہ "تجدید" (اور تغییر) امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے قلب میں زندہ ہے۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم سے معرض وجود میں آنے والی دراڑ، بنیادی طور پر، غیر منصفانہ ہے، لیکن امریکہ کے اہم شہر اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے "کارکنوں کی ملکیت کے تحت بننے والے کوآپریٹیوز" کا تجربہ کر رہے ہیں، جس کے تحت مزدور مزدور-مالک (Worker-owner) بن جاتے ہیں۔ یہ اب تجربے [ٹیسٹ] کا مرحلہ ہے لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ یہ موجودہ پالیسیوں کے لئے ایک بڑا متبادل فراہم کرے گا؛ جس طرح کہ موندراگون کوآپریٹوز (Mondragon Corporation = Mondragon Cooperative) پسپانیہ میں ایک صنعتی قوت اور بینک میں تبدیل ہوئی ہے۔ نیویارک نے سالانہ 30 لاکھ ڈالر کوآپریٹوز کوآپریٹوز اور مزدوروں کی ملکیت میں روزگاروں پر سرمایہ کاری کی ہے؛ ان پروگراموں کے تحت سنہ 2015ع‍ میں سینکڑوں افراد کو بچوں کی نرسنگ [Pediatric nursing } سن رسیدہ افراد کی نرسنگ (Geriatric nursing)، حفظآن صحت اور صفائی، غذائی خدمات او ڈیزائننگ اور ٹیکنالوجی میں روزگار فراہم کیا گیا ہے اور انہیں مزدور-مالک بنایا ہے۔ کوآپریٹوز تمام دردوں کی دوا نہیں ہیں؛ اور دولت کی دوبارہ تقسیم ـ جیسے منصفانہ ٹیکس یا سستی رہائش ـ کی وسیع و عریض پالیسیوں کا متبادل نہیں ہو سکتے؛ لیکن کام کے مقام پر جمہوری کنٹرول کے رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نیویارک کا نمونہ  میڈیسون (Madison)، کلیو لینڈ (Cleveland) اور آکلینڈ (Auckland) جیسے شہروں کے لئے مثال بن گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha