بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرمپ نے 20 جنوری 2025ع سے 30 ستمبر 2025ع تک 209 صدارتی فرامین جاری کئے؛ 52 سے زائد صدارتی نوٹ اور 91 سرکاری اعلانات جاری کئے؛ یعنی 1.4 فرامین، نوٹ یا اعلانات روزانہ کے حساب سے۔
12 مہینوں کے اس عرصے میں ٹرمپ کے عملی اقدامات
1۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ
2۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا
3۔ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں شراکت
4۔ یوکرین کی حمایت سے دستبرداری اور یورپیوں کو تنہا چھوڑنا
5۔ ڈنمارک اور یورپ سے گرین لینڈ کا مطالبہ
6۔ دنیا کے مختلف ممالک ـ بالخصوص اپنے دیرینہ اتحادیوں ـ سے درآمدات پر بھاری محاصل (Tariffs) کا نفاذ
7۔ نہرپاناما پر قبضے کا اعلان
8۔ کئی لاطینی امریکی سربراہوں کے اغوا کی دھمکی
9۔ خلیج میکسیکو کا نام خلیج امریکہ رکھنے کا دعویٰ
9۔ کینیڈا کا امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا اعلان
10۔ چین کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی کشیدگی میں شدت لانا
8۔ امریکہ مخالف ممالک پر مزید محاصل کا نفاذ
9۔ وینزویلا کے آئل ٹینکرز کا اغوا
10۔ امریکہ کے سابق اتحادیوں ـ جیسے بھارت اور یورپ سے ـ دوری اختیار کرنا، وغیرہ وغیرہ
اثرات کیا ہونگے:
امریکہ اور دنیا کو ٹرمپ کے ان اقدامات کے عوض بھاری تاوان کرنا پڑے گا، جس میں نیٹو کی تحلیل کا امکان بھی شامل ہے، جس کا سب سے اہم اثر یورپ پر پڑے گا اور وہ روس کے سامنے تقریبا نہتا ہو جائے گا۔
بین الاقوامی ترتیب (Order) کا خاتمہ اور سَیّال کثیر قطبی نظام:
دوسری عالمی جنگ کے بعد، "مغربی-مشرقی" دو قطبی نظام نے بین الاقوامی نظام میں ایک قسم کا استحکام قائم کیا۔ سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد مغربی ممالک نے امریکہ کی مرکزیت میں یک قطبی عالمی نظام قائم کرنے کی کوشش کی جو ابتداء ہی سے مغربی مہم (Western Campaign) میں اختلاف کے بعد چیلنجوں سے دوچار رہی۔ جو کچھ آج بعد از ٹرمپ دور (Post Trump Era) کے لئے تصور کیا جا سکتا ہے، ایک سیّال کثیر قطبی نظام (Fluid Multipolar World Order) ہے جو مختلف اتحادوں اور معاہدوں کے ذریعے معرض وجود میں آتا ہے۔
اٹھارہویں صدی کی کلاسیکی سامراجیت کی واپسی:
انیسویں صدی کی دو تباہ کن جنگوں کے بعد ابتدا میں نیشنز لیگ اور اس کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کے بعد یہ امکان پایا جاتا ہے کہ استعماری جنگوں اور جنگل کے قانون کا دور گذر گیا ہے اور ممالک کا رویہ ایک خاص انضباط (Discipline) کا تابع ہو گیا ہے؛ گوکہ بہت سارے مفکرین نے اس دور کو نئی سامراجیت کا دور قرار دیا؛ لیکن لگتا تھا کہ حتیٰ کہ اگر یہ نئی سامراجیت کا دور ہو پھر بھی یہ نئی شکل میں رونما ہوگی جس میں سابقہ یکطرفہ اقدامات اور اصطلاحا " یک پہلوئیت" (Unilateralism) اور تشدد کی جہتیں نہیں ہونگی۔ بہرحال مجموعی خیال یہ تھا کہ نئی دنیا ظہور پذیر ہوئی ہے اور اس خیال کو بیسویں صدی کے اختتام کو مزید تقویت ملی اور اکیسویں صدی کی دنیا کے بارے میں خوش فہمیاں عروج کو پہنچیں۔ لیکن جس طرح کہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ عراق، بوسنیا اور پورے یوگوسلاویہ، افغانستان وغیرہ کی جنگوں کے ساتھ رخصت ہؤا، یہ صدی افغانستان اور پھر عراق کے خلاف استعماری جنگوں سے شروع ہوئی اور اس صدی کے ربع اول میں درجنوں جنگیں لڑی گئیں جن کا ہدایت کار امریکہ تھا اور محرک اسرائیلی ریاست۔
اب 2025ع ہی کو لے لیجئے جب غزہ کی جنگ جاری رہی، لبنان پر جارحیت ہوئی، شام بلاواسطہ طور پر امریکہ کے زیر نگیں چلا گیا، ایران پر مذاکرات کے دوران حملہ ہؤا جس میں ٹرمپ نے کمانڈ سنبھالی ہوئی تھی، اور نئے دور کی بدترین شکل وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر کے اغوا کی صورت میں نظر آئی، گرین لینڈ، کینیڈا اور پانامہ اور آئس لینڈ پر حملوں کے عندیئے دیئے گئے اور دنیا کو یقین آگیا کہ یہ دنیا ایک بار پھر اپنے بدصورت ماضی کی طرف پلٹ گئی ہے، بڑی طاقتوں نے نقاب اتار پھینکا ہے اور للچائی ہوئی نظریں کمزور ممالک کے وسائل پر لگائی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کا کمزور پڑ جانا:
جدید دنیا اور نیا بین الاقوامی نظام بیسویں صدی کی ایک بڑی حصول یابی سمجھا جاتا تھا جو طاقتور اداروں، تنظیموں اور فورموں پر مشتمل تھا۔ جو کچھ ان اداروں اور تنظیموں کے تحت انجام پاتا تھا، حکومتوں کے درمیان ایک قسم کا تعاون اور مشاورت سے عبارت ہوتا تھا، اور یہ تعاون ـ اگرچہ کسی حد تک ـ استحکام اور سکون کا سبب بنتا تھا اور یہ سب طاقتوں کی بالادستی کے تحت ہوتا تھا؛ لیکن ٹرمپ کے آنے کے بعد، یہ بین الاقوامی ادارے پہلے سے کہیں زیادہ، پھیکے پڑ گئے، مزید ان اداروں میں مشاورت نہیں ہوتی، تعاون نہیں ہوتا اور فیصلہ سازیاں نہیں ہوتیں اور فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس میں منتقل ہو چکا ہے۔
بے بس اقوام متحدہ کے بے بس تر سیکریٹری جنرل نے آخرکار اعلان کیا کہ سلامتی کونسل ایک ناکارہ وجود کا نام ہے اور یہ مزید بین القاومی برادری کی ترجمانی نہیں کرتی، اور دوسرے روز ٹرمپ نے بھی کہا کہ "پرانی سلامتی کونسل" مزید کارآمد نہیں رہی چنانچہ ایک نئی کونسل بنانا پڑے گی!!!
بین الاقوامی قوانین کے تشخص کا خاتمہ
اگرچہ زیادہ تر قانون دانوں کی رائے کے مطابق، بین الاقوامی قوانین بڑی طاقتوں کو جائز قرار دینے کے لئے ہیں اور ان ہی مرضی کے تابع ہیں؛ لیکن یہ قوانین بہرحال بین الاقوامی سطح پر ممالک کے رویوں کو منظم کرنے اور ان کے اقدامات کو قابل پیش بینی (Foreseeable) کرنے بنا دیتے تھے۔ ٹرمپ کے نامربوط اور ناقابل پیش بینی اقدامات ـ جو صرف اس کے اپنے آشفتہ حال خیالات اور پریشان تصورات سے ہم آہنگی رکھتے ہیں ـ نے بین الاقوامی قوانین کو بے فائدہ، مہمل، بے معنی اور غیر مؤثر بنا دیا ہے یہاں تک کہ لگتا ہے کہ مستقبل میں دنیا کو بین الاقوامی قوانین کے 'نوٹس' دوبارہ لکھنا پڑیں گے: اس بار صرف امریکہ کی مرضی کے مطابق اور باقی دنیا کو تابع مہمل کا کردار ادا کرنا پڑے گا۔
امریکی بالادستی کا خاتمہ:
لگتا نہیں ہے کہ دنیا ٹرمپ اور امریکہ کی مرضیکےمطابق نئے بین الاقوامی قوانین لکھنے پر آمادہ ہو سکے گی، چنانچہ جس طرح کہ ٹرمپ کے یہ اقدامات امریکہ کے اندر ایک قسم کی بے ترتیبی اور افراتفری کا ساماں کر رکھا ہے، امریکہ سے باہر بھی بی عدم استحکام اور علاقائی اور بین الاقوامی عدم تعاون کی فضا قائم کئے ہوئے ہیں اور ان اقدامات نے نہ صرف امریکہ کو مقبول نہیں بنایا ـ جس طرح کہ ٹرمپ چاہتا تھا ـ بلکہ اسے ابھی سے تنہائی سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا بلکہ بہت سارے معاہدوں سے علیحدگی کا اعلان بھی کر چکا ہے اور اس کے لئے "امریکی قومی مفادات" (دوسرے لفظوں میں ذاتی مفادات اور ذاتی خواہشات) اہمیت رکھتے ہیں۔
امریکہ کی بالادستی بین الاقوامی تعاون کے ضمن میں حاصل ہوئی تھی اور اب جبکہ ٹرمپ اور ٹرمپ کا امریکہ تعاون پر یقین ہی نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے آج امریکہ آج اپنے اتحادیوں کو ہم آہنگ کرنے سے عاجز ہو چکا ہے ـ کیونکہ وہ خود ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کے نشانے پر ہیں ـ چنانچہ یہ بالادستی خطرے میں پڑ گئی ہے، اور آج گرین لینڈ کے مسئلے پر متحدہ یورپ امریکہ کے مقابلے میں آ کھڑا ہؤا ہے۔ [گوکہ لگتا نہیں ہے کہ یورپ، جو 80 سال سے امریکہ سے وابستہ رہا ہے، اور لگتا نہیں ہے کہ اس کی مخالفت کچھ زیادہ مؤثر ہوگی!]
بین الاقوامی تجارت کی عمل کا خاتمہ:
بیسویں صدی کے آخری برسوں میں ایسا لگتا تھا کہ گویا دنیا عالمی تجارت میں ممالک کی امتیازی خصوصیات اور ترجیحات کا تعین کر رہی ہے اور عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization [WTO]) پوری قوت سے اقتصادی بلاک قائم کر رہا ہے؛ یہ مسئلہ بجائے خود ایک نیا استعماری منصوبہ تھا لیکن بہرحال بعض ممالک کی اقتصادی نشوونما کا باعث بن سکتا تھا اور دنیا میں تجارت کو نظم و نسق دے سکتا تھا۔ ٹرمپ کے ٹیرفس، تجارت اور مال التجارہ کے تبادلے کے اشاریوں کے اس کے ہاتھوں درہم برہم ہونے کی وجہ سے یہ عمل عظیم خطرات سے دوچار ہؤا ہے اور سقوط اور تنزل کی طرف کھینچ لی گئی ہے۔
لبرلزم اور لبرل ڈیموکریسی کا خاتمہ:
امریکہ ـ مغربی دنیا میں ـ اپنے انقلاب اور انگلستانی سامراج سے آزادی کے بعد، لبرل اور جمہوریہ فکر کے میدان میں پیش رو ملک سمجھا جاتا تھا۔ گوکہ یہ تفکرات اس ملک کے مفادات سے موافقت و مطابقت رکھتے تھے، لیکن بہر حال آزاد دنیا میں امریکہ کا نام قیادت کے حوالے سے ابھرا ہؤا تھا۔ ٹرمپ نے واضح و ثابت کرکے دکھایا کہ اس کا امریکہ مزید ان اقدار کا پابند نہیں ہے، اور بعدازیں پابند نہیں رہے گا، اور اب اس کے تعلقات صرف آمرانہ ممالک کے ساتھ اچھے ہیں کیونکہ وہ "ازادی" کو صرف ایک "وقتی اوزار" کے طور پر دوسرے ممالک کی سرکوبی اور اپنے سابق دوستوں کو طعنہ دینے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
نیٹو کی شکست و ریخت اور مغرب کے باہمی فوجی تعاون کا خاتمہ
ٹرمپ کے پچھلے دور میں یہ بات نمایاں ہو چکی تھی کہ امریکہ مزید اپنے دوستوں کے "چوکیدار" کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ امریکہ کی فوجی خدمات کی اجرت ادا کریں اور نیٹو کی فنڈنگ میں اپنا حصہ جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک پہنچا دیں اور ساتھ ہی اس نے اپنے عرب اتحادیوں سے ٹرلینز ڈالر ـ مونچھ ٹیکس یا بھتے کے طور پر ـ وصول کر لئے۔
جن ممالک سے ٹرمپ میں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ نیٹو کو مختص کرنے کا مطالبہ کیا ان میں سے کئی ایسے تھے جو خود معاشی مسائل سے دوچار تھے، اور ہیں لیکن ٹرمپ کے نئے (دوسرے) دور میں اس نے ان پر فرض کر دیا ہے کہ جی ڈی پی کے 2.5 فیصد نہیں بلکہ 5 فیصد نیٹو کے لئے مختص کر دیں۔ اسی حال میں گرین لینڈ کا مسئلہ بھی درپیش ہے جو نیٹو کے دائرے میں ٹرانس اٹلانٹک فوجی تعاون کا مستقل خاتمہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ نیٹو معاہدے کے تحت، اگر نیٹو کا ایک رکن ملک دوسرے رکن ملک پر حملہ کرے تو دوسرے رکن ممالک کا فرض بنتا ہے کہ جارح رکن پر جوابی حملہ کرے؛ اور ٹرمپ ایک ـ ڈنمارک ـ ہی پر نہیں بلکہ دو دوسرے نیٹو رکن ممالک ـ کینیڈا اور آئس لینڈ ـ پر حملہ آور ہو رہا ہے۔
عالمی امن ـ وہ بھی مغربی تشریح کے مطابق: رو بہ زوال
"ایڈولف ہٹلر" کی لالچ تیسری رائخ (Third Reich) کا عنوان حاصل کر پانے کے بعد، شروع ہوئی جسے دنیا کبھی بھی نہیں بھلا سکے گی۔ "ہٹلر" نے انگلستان اور یورپ کو دھوکہ دیا، ابتداء میں دباؤ کے تحت چیکوسلواکیہ سمیت کچھ یورپی ممالک کو اپنے کچھ حصے اس ملک کے حوالے کرنے پر مجبور کیا، اور آخرکار آسٹریا پر قبضہ کرکے اور پولینڈ کو پاؤں تلے روند کر عالمی جنگ کا آغاز کیا۔
ٹرمپ بھی جو بہت سے مسائل میں سفید نسل پرستی وغیرہ میں ہٹلر کے ساتھ فکری اشتراکات رکھتا ہے، اسی کی طرح جاہ طلبیوں میں مصروف ہے، اور وینزویلا کے ذرائع، خلیج میکسیکو نیز کینیڈا، گرین لینڈ، پانامہ اور آئس لینڈ کو ہتھیاران چاہتا ہے اور ان کی یہ خواہشات عالمی امن کے مکمل خاتمے اور ایک نئی عالمی جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں؛ [ایسی جنگ جس کے دوران کم ہی کوئی ملک امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے آمادہ ہو سکے گا!]
ٹرمپ کی یہ حکومت معمول کے مطابق، چار سالہ ہی ہوگی لیکن اس کے بعد کی آنے والی حکومتوں کو بھی (چاہے وہ ریپبلکن ہوں، چاہے ڈیموکریٹ ہوں) ـ بظاہر ـ یہی کچھ جاری رکھنا پڑے گا جو ٹرمپ کرتا آیا ہے؛ اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو زوال کی رفتار میں شدت آئے گی؛ اور اگر ایسا ہؤا اور اگلی حکومتوں نے ٹرمپ کا یہی رویہ جاری رکھا، تو اس عالمی فضا شفاف اور خوبصورت نہیں ہوگی کیونکہ ٹرمپ نے جدید دور کے انسان کی تمام حصول یابیوں کو ـ حکمرانی میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر پر امن بقائے باہمی کو بھی ـ نیست و نابود کر دیا ہے اور ایک تاریک اور بدصورت دنیا کو انسانوں کے سامنے رکھا ہے۔
نکتے کی بات:
ہم کہتے رہے کہ لبرل ڈیموکریسی اور امریکی بالادستی ایکسپائر ہو چکی ہے، لیکن سننے اور پڑھنے والے ہم پر "آئیڈیالوجک ڈائیلاگ" کا نام دے مسترد کرتے تھے، آج وہ پیش گوئی ناقابل انکام ہو چکی ہے کہ امریکی سلطنت (American Empire) ٹوٹے گی تو اندر سے ٹوٹے گی اور اسے توڑنے کے لئے بیرونی عامل کی ضرورت نہیں پڑے گا۔ گوکہ یہ الگ مسئلہ ہے کہ اس کی شکست و ریخت کا آغاز باہر سے ہؤا، جب اس کے کئی عشروں کے لئے تیار کردہ منصوبے یکے بعد دیگرے ناکام ہو گئے یہاں تک کہ امریکہ کو اس عرصے میں بنی نوع انسان کی تمام حصول یابیاں اور تہذیبی پیشرفت قربان کرتے ہوئے، جلدبازی میں اپنے 80 سالہ منصوبے بیک وقت، ٹرمپ کے ہاتھوں، نافذ کرنے کی ضرورت پڑی، جبکہ اس کے لئے بنیادی ڈھانچے آمادہ نہیں تھے، چنانچہ آج حال یہ بنا بڑی طاقت کا۔
11 فروری 1979ع آغاز تھا اس زوال کا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حمید روشنائی اور ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ