21 جنوری 2026 - 03:08
رہبر انقلاب کی طرف بڑھتا ہؤا ہاتھ کاٹ دیں گے، جنرل شکارچی

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سینئر ترجمان نے کہا ٹرمپ کے حالیہ شور و غل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ٹرمپ کے شور و غل کو زیادہ اہمیت دیتے؛ ٹرمپ جانتا ہے اگر کوئی جارح ہاتھ ہمارے رہبر کی طرف سے بڑھ جائے، اس کے علاوہ کہ ہم اس ہاتھ کو حتمی اور بہادرانہ طور کاٹ دیں گے، ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے ثقافتی امور کے معاون اور سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارچی نے منگل 20 جنوری 2026ع‍ 11000 شہید دکانداروں اور اقتصادی کارکنوں کی یاد میں منعقدہ مشاعرے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا: "امریکی صدر کے شور و غل کو اہمیت نہیں دیتے، لیکن ٹرمپ جانتا ہے کہ اگر جارحیت کا کوئی ہاتھ ہمارے رہبر کی طرف بڑھ جائے تو نہ صرف اس ہاتھ کو قطعی طور پر اور شجاعانہ طور پر کاٹ دیں گے بلکہ ان کی دنیا کو بھی آگ لگا دیں گے اور ان کا امن ان سے چھین لیں گے اور دنیا میں ان کے لئے کوئی علاقہ محفوظ نہیں چھوڑیں گے۔"

انھوں نے کہا: "دشمن ہمارے اس رد عمل سے بخوبی واقف ہیں اور وہ ایک نفسیاتی اور ادراکی جنگ لڑ رہے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا: "ہمارے دشمن جانتے ہیں کہ اگر اس سرزمین کے ایک گوشے پر جارحیت ہو جائے تو اس جارحیت کے پھیلنے سے پہلے، ان کی ٹانگیں کاٹ دیں گے۔ ہم نے یہ بات 12 روزہ جنگ میں ثابت کر دی۔"

بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے کہا: "دشمن کا منصوبہ مختلف منظرناموں پر مشتمل تھا جن میں سے اہم منظرنامہ منڈی میں بے چینی پھیلانا اور امریکی کمان میں صہیونی جارحیت سے عبارت تھا۔ دشمن کا تصور یہ تھا کہ جنگ شروع ہوتی ہی منڈی آشفتہ حالی سے دوچار ہوگی اور اندرونی صورت حال متزلزل ہوجائے گی لیکن منڈی، تاجروں اور دکانداروں اور متعلقہ تنظیموں نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کیا۔"

دکانداروں اور تاجروں نے دشمن کے منہ پر گھونسہ رسید کیا

انھوں نے کہا: "ہم 12 روزہ جنگ میں ایک طرف سے دشمن کی شکست کے عینی گواہ تھے، دوسری طرف سے ان کے منظرنامے کا ایک حصہ بھی بالکل ناکام ہو گیا۔ دکانداروں اور مارکیٹ والوں نے نہ صرف دشمن کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اپنی کیاست اور بصیرتس ے دشمن کے منہ پر زبردست گھونسہ رسید کیا اور انہیں اس راستے میں مایوسی سے دوچار کیا۔"

انھوں نے کہا: آٹھ اور 9 جنوری (2026ع‍) کی درمیانی رات کو تمام شیطانی گروپ اور احزاب نے اتحاد کر لیا اور ایک ساتھ میدان میں آئے، چنانچہ جب آپ جرائم پیشہ ٹرمپ کا لب و لہجہ دیکھتے ہیں، کہ جس نے ای لمحہ بھی احتیاط سے کام نہیں لیا کیونکہ تصور تک نہیں کر سکتا تھا کہ یہ اقدام ناکامی سے دوچار ہو سکتا ہے!"

جنرل شکارچی نے کہا: "تاجروں اور دکانداروں نے ہمیشہ کی طرح، ایک بار پھر، ملکی استحکام اور قومی امن و سلامتی کو مقدم رکھا اور جب دیکھا کہ دشمن ان کے جائز احتجاج سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے درپے ہے، تو انہوں نے ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر بلوائیوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔

دشمن اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت سے واقف ہے

ان کا کہنا تھا: "امریکہ روز اول سے ایران کے ساتھ اپنی دشمن میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور ہمیشہ شکست کھاتا رہا ہے۔"

بریگیڈیئر جنرل پاسدار شکارچی نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس بات پر زور دے کر کہا: "دشمن اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت سے واقف ہے،  ہم ٹرمپ کی اس ہلڑبازی اور ہرزہ سرائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے؛ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر رہبر انقلاب امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی طرف کوئی جارح ہاتھ بڑھایا گیا تو نہ صرف ہم اس ہاتھ کو بھرپور اور بہادرانہ طریقے سے کاٹ دیں گے، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا جوابی اقدام اس کی دنیا کو آگ لگا دے گا؛ یوں کہ دشمن کے لئے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہے گی۔:"

انھوں نے مزید کہا: "دشمن نفسیاتی آپریشن، ادراکی جنگ اور ابلاغیاتی و تشہیری جنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ خود بخوبی جانتے ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ اسلامی کی سرزمین پر معمولی سی جارحیت بھی ہوئی تو اس جارحیت کے پھیلنے سے پہلے ہی انہیں فیصلہ کن اور تسدیدی جواب ملے گا۔ یہ وہ معاملہ ہے جو عملاً بارہا ثابت ہو چکا ہے اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں بھی واضح طور پر دکھا دیا کہ صہیونی ریاست کو اس جنگ میں ہونے والے بھاری نقصانات کا تاوان کئی سالوں تک ادا کرتے رہنا پڑے گا۔"

مسلح افواج کی مرکزی کمانڈ کے نائب سربراہ نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ "آج کا اصل خطرہ فوجی خطرہ نہیں ہے، اصل خطرہ نرم جنگ اور ادراکی جنگ ہے۔ ایسی جنگ جس کا مقصد ذہنوں پر قبضہ جمانا ہے۔ اگر سرزمین پر قبضہ ہو جائے تو ہم اسے واپس لے لیں گے، لیکن اگر دماغوں پر قبضہ ہو جائے تو ان کا واپس لینا بہت مشکل اور کبھی کبھار ناممکن ہوتا ہے۔ اس میدان میں عوام، مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ، دکانداروں اور تاجروں اور ثقافتی کارکنان کا کردار فیصلہ کن اور فیصلہ کن ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha