اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب گروپ کے رکن ممالک نے مغربی کنارے سے متعلق اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات غیرقانونی حاکمیت مسلط کرنے اور یہودی بستیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش ہیں۔
ترکیہ کے مستقل مندوب احمد یلدز نے اقوامِ متحدہ میں او آئی سی کی جانب سے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی پالیسیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2334، کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ رکن ممالک نے مؤقف اختیار کیا کہ مغربی کنارے میں نئی قانونی و انتظامی حقیقت مسلط کرنے کی کوششیں خطے میں مزید کشیدگی اور تشدد کو جنم دیں گی۔
او آئی سی کے اراکین نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ بیان میں عالمی عدالت انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا اور ان اقدامات کو مسترد کیا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے مندوب ریاض منصور نے بھی اسرائیلی وزیرِاعظم کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا سدباب کرے اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں عرب گروپ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں مغربی کنارے کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو غیرقانونی قرار دیا۔ گروپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ پالیسیاں جاری رہیں تو پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ عرب ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات کر کے کشیدگی کو بڑھنے سے روکے اور بین الاقوامی قانون کا تحفظ یقینی بنائے۔
آپ کا تبصرہ