بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قطر کی بادشاہت کے مخالف رہنما "خالد الہیل" نے آج پیر کو وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی قطر کی حکومت کا تختہ الٹ دے گا اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔
الہیل نے بنیامین نیتن یاہو کے قریبی صہیونی چینل i14 کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: "میں قطر کی حکومت کو گرا دونگا اور اس کے بعد، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر بنانے کے لئے "ابراہیم معاہدوں" پر دستخط کروں گا اور ـ دوحہ اور تل ابیب میں ـ دونوں فریقوں کے سفارتخانے کھول دوں گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی ریاست کچھ عرصے سے مختلف طریقوں سے، خطے کی حکومتوں کے مخالفین کی ابلاغیاتی میزبانی کرکے، اپنے اندرونی عدم تحفظ کے احساس کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانے کی کوشش کرتی آئی ہے۔
اپریل 2023 میں اسرائیل نے ایران کے معزول اور آنجہانی بادشاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے "رضا پہلوی" (جسے ایرانی عوام چوتھ پہلوی Quarter Phalavi بھی کہتے ہیں) کی میزبانی کی۔ پہلوی نے اس دورے میں امید ظاہر کی تھی کہ وہ اگر وہ ایران کی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ تہران کے تعلقات تل ابیب کے ساتھ معمول پر لائے گا۔
چینل i14 ٹی وی کے میزبان نے قطری منحرف شخص "الہیل" کو بہت سراہا، اس کی باتوں کو سچ اور حقیقت اور "بہادرانہ" قرار دیا۔
مبصرین توقع کرتے ہیں کہ غاصب صہیونی ریاست مستقبل قریب میں سعودی عرب، عمان، کویت اور حتیٰ کہ پاکستان کی حکومتوں کے مخالفین کی میزبانی کرے گی اور انہیں ان ممالک کے خلاف اکسائے گی اور ان ممالک پر اپنے دباؤ میں اضافہ کرے گی تاکہ وہ بھی ابراہیم معاہدوں سے جا ملیں!
وضاحت: خالد الہیل لندن اور موناکو میں مقیم ایک قطری تاجر ہے۔ وہ قطر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (QNDP) کا بانی سربراہ ہے جو قطر میں آئینی بادشاہت کی وکالت کرتی ہے۔ قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم کا سابق ہے۔ الہیل قطر میں "خونریزی کے بغیر بغاوت" کی حمایت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ