3 فروری 2026 - 19:37
سفارتی رابطوں کے عین موقع پر امریکی فوجی مہم؛ راز کیا ہے؟

ایران اور امریکہ کے درمیان نئی سفارتی بات چیت کے آغاز پر باخبر ذرائع نے خطے کے حالیہ واقعات کے پس پردہ نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران اور امریکہ کے درمیان نئی سفارتی بات چیت کے آغاز پر باخبر ذرائع نے خطے کے حالیہ واقعات کے پس پردہ نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ ان معلومات کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے بات چیت کی ابتدائی پیشکش تقریباً دو ماہ قبل کی گئی تھی، جس کے تحت، مذاکرات میں جوہری معاملے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ:

آمریکا کی ایران کے خلاف فوجی اقدامات کی تفصیلات اور سفارتی رابطوں کا خلاصہ درج ذیل ہے:

• ایرانی ذرائع کے مطابق، امریکہ نے حالیہ مہینوں میں ایران سے بات چیت کی پیشکش کی ہے، جس میں جوہری مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

• تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت پچھلے منصوبوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے جن کا مقصد ایران میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ ملکی دفاعی بیداری، عوامی حمایت، اور ممکنہ فوجی اقدام کی اعلیٰ قیمت نے امریکہ کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔

• ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے اندرونی طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کے خلاف محدود وسیع جنگ نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔

• امریکی فوجی نقل و حرکت کو ایک میڈیا شو اور دباؤ کے اوزار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر زور پر بٹھایا جا رہا ہے، جبکہ درحقیقت ایران سے مذاکرات کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔

• ایران نے واضح شرائط کے ساتھ سفارتی عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں وقت کا ضیاع نہ کرنا، پابندیوں کا خاتمہ، جوہری حقوق کا تحفظ اور اپنی سرزمین پر افزودہ یورینم کے ذخائر برقرار رکھنا شامل ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ایران کے مطابق، امریکہ کی طرف سے فوجی دکھاوا اور مذاکرات کی پیشکش ایک مرتب حکمت عملی کا حصہ ہے جو پچھلے دباؤ کے طریقوں کی ناکامی کو چھپانے کے لیے بنائی گئی ہے، جبکہ ایران نے اپنے واضح مطالبات کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران ہر ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار

بہرحال دشمن کی فوجی موجودگی اور مذاکرات کی دعوتوں کے عین موقع پر، ایران نے "مذاکرات کی براہ راست یا بالواسطہ نوعیت اور مقام" کے تعین پر بھی زور دیا ہے اور امریکہ ابتدائی مخالفت کے باوجود رضامندی کے اعلان پر مجبور ہو گیا ہے۔

لگتا ہے کہ پس پردہ حقیقت ظاہری نمائش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ امریکہ (داخلی اور علاقائی استعمال کے لئے) فوجی طاقت کی نمائش اور (مذاکرات کے لئے راستہ کھولنے کی غرض سے) سفارتی لچک  کے امتزاج کے ذریعے پیدا ہونے والی گتھی، سلجھانے کے لئے دو محاذوں پر کھیل رہا ہے۔

دوسری طرف، ایران واضح شرائط پر زور دے کر اور واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے "ہر ممکنہ صورت حال" کے لئے تیاری کر چکا ہے، اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ وہ غیر یقینی صورت حال میں، اور عملی ضمانتوں سے خالی مذاکرات کے بدلے، اپنے اسٹراٹیجک اثاثوں غیر پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

یہ نیا دور تاریخی عدم اعتماد اور پیچیدہ تزویراتی حساب کتابوں، اندازوں اور تخمینوں  سے مالامال میدان میں فریقین کے عزم اور ہوشیاری کے لئے ایک کڑی آزمائش کا دور ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha