بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکہ کی مسلسل دھمکیوں کے بعد ایران کے اعلیٰ حکام اور فوجی کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں، جنگ علاقائی ہوگی اور ایران کا رویہ محض دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ ہو گا۔
جبل علی میں کیا اور کہاں ہے؟
"جبل علی" متحدہ عرب امارات کی ایک بندرگاہی شہر ہے جو دبئی سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے دنیا میں نویں نمبر پر ہے۔
المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈہ عظیم الشان منصوبے "دبئی ورلڈ سینٹر" کا ایک اہم حصہ ہے۔ دبئی ایئرپورٹس کے مطابق المکتوم نہ صرف ایک سادہ ہوائی اڈہ بنے گا بلکہ ہوائی نقل و حمل اور لاجسٹکس کا مرکز بھی بنے گا۔

جبل علی، امریکی افواج کا گھر
لیکن اس اہم اور بڑی بندرگاہ کی تہہوں کے نیچے کچھ اور ہی چل رہا ہے۔ جبل علی کے علاقے میں امریکی تیل اور گیس کی بڑی کمپنیاں موجود ہیں اور مختلف امریکی ٹرانزٹ کمپنیاں بھی سرگرم ہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ جبل علی خطے میں امریکی افواج کی نقل و حرکت کا ایک اہم مرکز ہے۔ خفیہ ذرائع کے علاوہ امریکی افواج کی نقل و حرکت کا کھلے ذرائع سے بھی اعلان ہوتا رہتا ہے۔
المونیٹر نے 14 جنوری 2026 کو ایک رپورٹ میں کہا جس کا عنوان تھا "مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں ہیں؟" "دبئی کی جبل علی بندرگاہ، اگرچہ کوئی سرکاری فوجی اڈہ نہیں ہے، لیکن یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے لئے سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور یہاں باقاعدگی سے طیارہ بردار بحری جہازوں اور دیگر امریکی بحری جہازوں کی میزبانی ہوتی ہے۔"
رائٹرز نے بھی اپنی رپورٹ میں اس کی تصدیق کی اور لکھا: "امریکی فضائیہ کی سنٹرل کمانڈ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں الظفرا ایئر بیس امریکی فضائیہ کا ایک اہم مرکز ہے، جو اہم مہمات میں بروئے کار لایا جاتا ہے، اور پورے خطے میں جاسوس فورسز کی تعیناتی کی بھی حمایت کرتا ہے۔ جبل علی کی بندرگاہ، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کا باقاعدہ فوجی اڈہ نہیں لیکن یہ اس خطے میں امریکی افواج کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔"
جبل علی میں امریکی افواج کی موجودگی کا ایک طویل پس منظر ہے۔ خطے میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے نومبر 2017ع میں اطلاع دی: "حملہ آور جہاز USS America (LHA 6) بحری حفاظتی کارروائیوں میں مدد کے لئے متحدہ عرب امارات کے جبل علی کی بندرگاہ میں داخل ہؤا۔"
مذکورہ بالات حقائق کی رو سے کہا جا سکتا ہے کہ "جبل علی" کا علاقہ امریکہ کا فوجی اڈہ ہے نہ کہ امارات کے عوام کا؛ چنانچہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں "یہ [جبل علی کا] اڈہ بھی ایرانی افواج کے حملوں کا ایک نشانہ" ہو سکتا ہے اور اس پر حملے کے لئے بیلسٹک میزائلوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس تک بہ آسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور اسے بڑی سہولت سے، ایران کے جنوبی علاقوں سے، ہلکے ہتھیاروں سے بھی ـ بڑی آسانی سے ـ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ