بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
1۔ ملکی اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا:
اسلامی انقلاب کے ربر معظم امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اس بات پر خصوصی طور پر زور دیا ہے کہ "احتجاجیوں سے بات چیت ہوگی لیکن جو بلوائی تخریب کاری، فتنہ انگیزی اور حکومت کے خاتمے کے لئے میدان میں آیا ہے، ناقابل برداشت ہے، اور اس سے نمٹا جائے گا۔
2۔ حکومت سے مطالبہ:
مطالبے پر مبنی یہ رویہ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے حالیہ خطاب میں بھی دیکھا گیا جس کو حکومت کے تئیں حمایت کے ساتھ ملا کر سنجیدہ لینا چاہئے۔ آپ نے صدر اور کابینہ کے اراکین کی آخری ملاقات میں بھی صدر اور کابینہ سے اقتصادی مسائل حل کرنے کا عمل جاری رکھنے کے حوالے سے واضح طور پر مطالبے کئے تھے۔
3۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ نیز ملکی عہدیداروں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت:
دشمن کا منصوبہ حکمرانی کے ڈھانچے میں دراڑ اور دھڑابندی ہے۔ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے بروقت حساسیت و توجہ اور عقل و منطق کی بنا پر، اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ تین اداروں کے درمیان اتحاد اور تعاون کو نقصان پہنچے، اور آپ کا نقطہ نظر ایک قومی نقطہ نظر رہا ہے جو تین قوتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی دعوت دیتا ہے۔
4۔ مفید اور مؤثر اقدامات کی حمایت:
ہرگاہ حکومت یا مقننہ اور عدلیہ کی طرف سے ـ ملک کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں ـ کوئی مثبت منصوبہ پیش کیا جاتا ہے، یا کوئی اقدام عمل آتا ہے، رہبر انقلاب اس کی حمایت کرتے ہیں۔ نظام اسلامی کے کارگزاروں کے اقدامات اور کوششوں کے تئیں رہبر انقلاب کی حمایت عوامی مسائل کے حل اور کے لئے ہوتی ہے اور یہ رہبر انقلاب اسلامی کی مستقل حکمت عملی کے لئے ہے۔
5۔ دو طرفہ اعتماد کی بحالی:
عوام اور سرکاری عہدیداروں کے درمیان فاصلے کم کرنا اور نظام اسلامی اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی، ان نکات میں سے ہے جس پر شہید صدر رئیسی کے دور میں تاکید ہوئی تھی اور آج بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ دشمن کے بالکل ـ مد مقابل ـ نقطہ ہے جس کی کوشش ہے کہ ملت اور حکومت کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتا ہے۔
6۔ بیانیوں کی جنگ کے وسط میں امید پیدا کرنا:
انقلاب اسلامی کے رہبر معظم "امید" کو ترقی کا انجن قرار دیتے ہیں۔ آپ کی کوشش یہ ہے کہ سماجی امید کو بحال رکھا جائے، ترقیوں اور حصولیابیوں کو بیان بیا جائے اور قوت کے نقاط کی تشریح کی جائے۔ کیونکہ دشمن صرف کمزوریوں کا سہارا لئے بیٹھا ہے اور ان کمزوریوں یا مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لئے کوشاں ہے تاکہ عوام ـ اور بالخصوص نوجوانوں کو مایوس اور ناامید کر دے۔
7۔ دشمن شناسی کو تقویت پہنچانا:
عوام کو بہرحال امریکی حکومت کا اصل چہرہ واضح اور معلوم ہونا چاہئے، اور دشمنوں اور بدخواہوں کے منصوبوں کو طشت از بام ہونا چاہئے۔ جس طرح کہ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں دیکھا گیا: امریکہ عمان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے عین موقع پر جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ لوگوں کو امریکہ کا چہرہ ـ میک اپ ـ کے بغیر دیکھنا چاہئے؛ اور جاننا چاہئے کہ وہی حکومت جو حملہ کرتی ہے، آج اقتصادی جنگ اور کرنسی کی قیمتوں میں خلل اندازی اور ہیراپھیری، نیز تشہیری جنگ کے ضمن میں، عوام پر پابندیوں اور نفسیاتی دباؤ کو آگے بڑھ رہی ہے۔
8۔ قومی اتحاد کا دفاع:
رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) موجودہ ملکی حالات میں قومی اتحاد و یکجہتی کے تحفظ کو ملک کا بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ آپ قومی اتحاد و یکجہتی کو حالیہ جنگ میں ایران کی فولادی ڈھال قرار دیتی ہیں اور اس کو "مقدس اتحاد" اور "معجزہ آفرین اتحاد" کا نام دیا ہے اور ہمیشہ اس کی حفاظت و تقویت پر زور دیتے رہے ہیں۔ آپ نے 9 جنوری 2026ع کو، قمی عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "وحدت و یکجہتی کی حفاظت کرو، ایک متحدہ قوم کسی بھی دشمن پر غلبہ پا لیتی ہے۔"
آخری جملہ:
رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے 9 جنوری کے خطاب کے آخر میں فرمایا:
"ایرانی قوم کو بہت جلد ایک بڑی خوشخبری ملے گی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ