4 جنوری 2026 - 23:01
ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈینگوں کا جواب

ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں پر شہید سلیمانی کےجواب کا ایک حصہ: "ہماری مسلح افواج اور قدس فورس تمہای حریف ہیں۔ آؤ ہم منتظر ہیں، اس میدان کے مرد ہم ہیں، تم جانتے ہو کہ یہ جنگ تمہاری تمام فوجی وسائل کی نابودی کا سبب بنے گی"۔

1۔ نیتن یاہو کے حالیہ دورہ واشنگٹن پر بہت باتیں ہوئی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے ان فخریہ جملوں کا مناسب جواب دینا ضروری ہے؛ ٹرمپ نے کہا ہے:

الف- ہم ایران کی جوہری صلاحیتیں تباہ کر دیں گے۔

ب- مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا میں اسرائیل کو ایران پر حملے کی اجازت دوں گا۔ میں نے کہا ہے: بیلسٹک میزائلز کے لئے ہاں، جوہری ہتھیاروں کے لئے فوری طور پر۔

ج- سب کچھ جنرل سلیمانی کے قتل سے شروع ہؤا، اُن کا قتل ایران کے خلاف ہمارے کام کا آغاز تھا۔

US Election 2016: London gambler bets £200,000 on Donald Trump win | The  Independent | The Independent

2۔ نیتن یاہو کے دورہ امریکہ پر ذرائع ابلاغ وسیع پیمانے پر بیانیہ سازی کی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ چوزے کا کھیل (Chicken Game) (1) کا بیانیہ سب سے اہم ہے۔

اس کھیل کا نتیجہ پہلے سے ہی طے ہے۔ پینٹاگون، سی آئی اے اور موساد تینوں ہار چکے ہیں۔

3۔ علامہ "سید عبدالحسین طیب" کی تفسیر "اطیب البیان فی تفسیری القرآن" میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے مروی ہے کہ  آپ نے فرمایا: "اللہ نے تاریخ میں 100 امتوں کی شکلیں ـ کو ان کے کفر کی وجہ سے ـ بدل دیں اور ان میں سے 13 قسم کے جانور بنا لئے"۔

نیز "علامہ فضل بن حسن طبرسی" کی "تفسیر مجمع البیان"، "علامہ عبد علی بن جمعہ حویزی" کی تفسیر "نور الثقلین" اور "علامہ محمد محسن بن شاه مرتضی فیض کاشانی، کی "تفسیر صافی" میں سورہ نبأ کی آیت 18 (يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجاً) کے ذیل میں مذکور ہے کہ "قیامت میں ان گروہوں کو دس قسم کی شکلوں میں اٹھایا جائے گا۔"

• عیاش لوگ: مردار سے بھی زیادہ بدبو ہونگے؛

• متکبر، آگ کا لباس پہنے ہوئے ہونگے؛

• وغیرہ ۔۔۔

اب سب سے زیادہ روسیاہ و بدنام، بدعنوان ترین، اور بے عزت ترین شخص وہی ہے جو ان دنوں وائٹ ہاؤس کا کرایہ دار ہے۔

جو لوگ برزخی آنکھ کے مالک ہیں وہ نیتن یاہو، ٹرمپ اور ان کے عالمی جرائم پیشہ گروہ کو سور، بھیڑیے، خنزیر، بندر وغیرہ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

4۔ اسرائیل اور امریکہ نے 12 روزہ جنگ میں ایران کی جوہری صلاحیتیں اور بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی اپنی سی بخت آزمائی کر لی، ساتویں اور آٹھویں دن اُسے جنگ بندی کی التجا کرنا اور بھیک مانگنا پڑی اور 12 دن بعد ایران کی طرف سے جنگ بندی قبول کرنے پر انہوں نے گھٹنے ٹیک دیئے اور قطر میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید پر ایران کے تباہ کن حملے کو، بے جواب چھوڑ دیا۔

بہرحال وہ چلے گئے اور اور سفارت کاری [کی دکان] کا شٹر دوبارہ اٹھا لیا؛ اور ہزارویں بار معاہدے کے لئے مذاکرات کی دعوت دی۔ ان پیغاموں میں ان کی بنیادی بات یہ ہے کہ 'میزائل دے دو، اسی طرح ڈرون بھی؛ اور جوہری سائنس کی ترویج بھی بھول جاؤ بس صرف یونیورسٹی میں فزکس پڑھنے کا سوچو؛ اور افزودگی بھی ختم کر دو۔"

5۔ اس حریصانہ رویے کا مردانہ وار، زبردست اور عملی جواب قوم اور مسلح افواج دونوں کی طرف سے ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں جواب یہ ہونا چاہئے: "امریکیوں سے کہا جائے کہ ہم میزائل اور ڈرون شہروں کی صلاحیت اس شرط پر حوالے کریں گے کہ اس کی تمام تباہ کن اور جارحانہ صلاحیت تل ابیو، حیفہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ساتھ ایران کے اردگرد امریکی فوجی اڈوں پر استعمال کی جائے! تو اگر اس جنگ کی راکھ میں سے کوئی امریکی یا اسرائیلی بچا تو جنگ کے ملبے تلے سے اپنے اثاثوں کی رسید وصول کریں گے۔ اور پھر اسی رسید کی بنیاد پر ہم جوہری صلاحیتیں حوالے کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے!!!

نتیجے کو "گیم تھیوریز" - چکن گیم - کے مطابق دنیا کے سامنے رکھیں گے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ "دنیائے اسلام" اور "ایرانی دنیا" کے مقابلے میں کفر و شرک کی دنیا کی قدر کیا ہے۔

اگر صدر جمہوریہ پوری قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے مذکورہ بالا مضبوط اور پرخلوص جواب دے دیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔

یہ جواب ایران اور محور مقاومت کو غیر مسلح کرنے کے دشمن کے خیالی سپنوں کا خاتمہ کر دے گا، جیسا کہ ایسا ہی جواب شہید قاسم سلیمانی نے روحانی حکومت کے دور میں ٹرمپ کی فوجی شیخیوں کے جواب میں دیا تھا، جو ہمارے زبانی بیان میں "ما ملت امام حسینیم" (ہم امام حسین کی قوم ہیں) کے طور پر مشہور ہؤا۔ (2)

ایرانی قوم کے خلاف امریکی اہلکاروں اور تین یورپی شر پسند ممالک کے اہلکاروں کے تازہ ترین مواقف ہم پر ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ ہم جارحانہ اور پیش قدمی کرنے والی پوزیشن پر آجائیں۔

ٹرمپ کو ہماری اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کی انتباہ پر توجہ دینا ہوگا جنہوں مبہم انداز ميں کہا: "امریکہ خطے میں اپنے فوجیوں کا خیال رکھے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

1- رجوع کیجئے: اسی قلم سے روزنامہ رسالت کے اداریے "چکن گیم"  28 دسمبر 2025 سے۔

2- ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں پر شہید سلیمانی کےجواب کا ایک حصہ: "ہماری مسلح افواج اور قدس فورس تمہای حریف ہیں۔ آؤ ہم منتظر ہیں، اس میدان کے مرد ہم ہیں، تم جانتے ہو کہ یہ جنگ تمہاری تمام فوجی وسائل کی نابودی کا سبب بنے گی"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد کاظم انبارلوئی، سینئر صحافی اور سیاستدان

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha