بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ نیوز کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں شہید لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی کی برسی اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے یوم ولادت پر کہا: استعماری نظام کی سیاسی اور سیکیورٹی طاقت کا گھِس جانا اور علاقے اور دنیا میں امریکی نظم کا زوال، اس شہید اور محاذ مزاحمت کے مجاہدین کی کوششوں کی پائیدار تأثیرات کا نتیجہ ہے۔ خونخوار ٹرمپ اور نیتن یاہو اس شہید کے وحشیانہ قتل کے ذریعے بھی اس شہید کی ماورائی طاقت اور ان کے مشن اور ان کی مجاہدتوں کے اثرات کو نہ مٹا سکے۔
شہید سپہ سالار حاج قاسم سلیمانی کی برسی اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان کا متن حسب ذیل ہے:
شہید سلیمانی کی برسی کا امیرالمومنین حضرت علی (علیہ السلام) کی ولادت کے ساتھ تاریخی توافق، اس تفسیر کی یاد دلاتا ہے کہ مکتبِ سلیمانی، ہمارے دور میں علوی سیرت کا عملی تسلسل ہے؛ ایسی سیرت جو انصاف، بہادری، دشمن شناسی، ذمہ داری اور عوام-دوستی کو مستحکم طاقت کے ستون کے طور پر متعارف کرواتی ہے۔
ایسا اتفاق (اور مناسبتوں کی ہم زمانی) ، محاذ مزاحمت میں معنوی، روحانی و سیاسی طاقت کی تعمیر اور اسلامی ایران کو محفوظ بنانے کا راہنما منصوبہ ہے۔
اسلامی معاشروں اور خطے کی نئی نسلوں میں اس حقیقی ہیرو کی شہادت کے چھ سال بعد، ـ "شہید سلیمانی" کے نام و یاد کا فروغ آیت کریمہ "أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ" کے واضح مصداق کے طور پر، مکتبِ سلیمانی کی گہرائی اور اس بات کی علامت ہے کہ الحاج قاسم کی شہادت، سلیمانی کا اختتام نہیں بلکہ سلیمانی کا آغاز ہے۔
بارہ روزہ جنگ میں ایرانی عوام اور نوجوانوں کی مزاحمت نے دشمن کو سمجھا دیا کہ ایران سلیمانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ استعماری قوتوں نے حاج قاسم کی شہادت کے ذریعے ان کی شخصیت کی افزائش کا سبب فراہم کیا اور اس سرزمین کے ہیروز کی فہرست کو مکمل اور وسیع کر دیا۔
استعماری نظام کی سیاسی و سیکیورٹی طاقت کا گھِساؤ اور علاقے اور دنیا میں امریکی ترتیب کا زوال، اس شہید اور محورِ مقاومت (محاذ مزاحمت) کے مجاہدین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
خونخوار ٹرمپ اور نیتن یاہو اس شہید کے بے رحمانہ قتل کے ذریعے بھی اس شہید کی ماورائی طاقت اور ان کے مشن اور اثر کو نہیں مٹا سکے؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کی اس بے رحمانہ اور بزدلانہ دہشت گردانہ کاروائی اور قتل کے باوجود، شہید سلیمانی کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے، فلسطینی مجاہدین کے ہاتھوں معرکہ "طوفان الاقصیٰ" معرض وجود میں نہ آتا۔
مزاحمت کی روح، سلیمانی اور مقاومت کے پاک شہیدوں کے قاتلوں کو تلاش کرنے اور ان کا تعاقب کرنے اور بدلہ لینے کے کے لئے پرواز کی حالت میں ہے۔ سلیمانی کی روح علاقے کے عوام کے وجود میں رواں دواں ہے اور عیاں کرتی ہے کہ بچوں کے قاتل جابروں کے مقابلے میں، طوفان الاقصیٰ جیسے معرکے معرض وجود میں آنے والے ہیں۔
محور مقاومت اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد پوری دنیا میں ـ اور یقیناً تاریخ بھر میں، ـ شہید سلیمانی کے نام اور یاد سے جڑی ہوئی اور ممزوج رہے گی۔ آج اسلامی ممالک میں اسلامی مقاومت و مزاحمت، شہید سلیمانی کی ہنرمندی سے ایک منظم، ہم آہنگ، متعاون اور مؤثر محاذ بن چکی ہے اور اسلامی مقاومت کا مقصد، اس کی روح اور اس کا کلیدی نعرہ، بیت المقدس کی آزادی کے لئے عالمی نعرے (#FreePalestine) کے ساتھ، وہ بھی نہ صرف اسلامی دنیا میں، بلکہ تمام مغربی ممالک میں اور وائٹ ہاؤس کے سامنے بلند کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر، شہید سلیمانی کے قاتل کے طور پر، آج بھی شہید سلیمانی کے قتل اور 12 روزہ جنگ چھیڑنے میں ناکامی کے بعد، بڑے اور آزاد ایران کو غیر مستحکم کرنے، اور اس کی سلامتی سیکیورٹی ختم کرکے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ لیکن پھر بھی ایرانی قوم نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے وابستہ فسادیوں کا ساتھ نہ دیتے ہوئے، خبیث امریکی سرغنوں اور ان کے غدار گماشتوں کے خطرناک منصوبوں کو ناکام بنایا اور ان کے سیاہ چہروں پر زوردار طمانچہ رسید کیا اور اب ٹرمپ کو پورے وجود پر غصہ چھایا ہؤا ہے اور وہ بے بسی کے عالم میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور حکومت کو، دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے۔
اسلام کے جان بَکَف سپاہی، ایک بار پھر اس نور و سعادت سے بھرپور موقع پر، حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) اور شہداء کی پاک روحوں ـ خصوصاً شہید لیفٹیننٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کی بلند روح ـ سے مدد لیتے ہوئے، کمانڈر ان چیف حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (مد ظلہ العالی) اور انقلاب اسلامی اور شہداء کے مشن کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہوئے، اعلان کرتے ہیں کہ اپنے دانا و حکم رہبر کے رکاب میں، پیارے عوام کی خدمت میں، دشمنوں کے تمام پیچیدہ منصوبوں کے خاتمے اور آزاد اور طاقتور ایران کے کا ہدف حاصل کرنے تک، اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ