اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "حسن محمد زيد " نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: کسی ملک کا کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ اس ملک کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے۔
محمد زيد نے کہا: توقع تھی کہ سعودی عرب ثالث کا کردار ادا کرے تا کہ یمن کے عوام المیوں کا سامنا نہ کریں۔ مگر سعودی عرب نے یمن کے عوام کے خلاف معاندانہ اقدام کیا اور اس وقت صوبہ صعدہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب سنہ 2004 سے لے کر اب تک شیعیان یمن کے خلاف جنگ میں ملوث رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یمن کے بعض سرکاری اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ شیعیان یمن کے خلاف جنگ آغازکرنے کا مقصد خطے کے بعض ممالک کو جنگ میں جھونکنا ہے اور یمنی حکمران اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔
دوسری طرف سے الحوثی مجاہدین کے ایک راہنما "علي الصراري " نے کہا ہے کہ یمن کے حکمران اپنی خانہ جنگی کو علاقائی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔