3 ستمبر 2026 - 16:29
باطل پر حق کی فتح؛ شرطِ اول عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کا اتحاد ہے، رہبر انقلاب

رہبر انقلاب اسلامی نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر اپنے پیغام میں فرمایا: آج مسلمان ایک مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں اور باطل پر حق اور کفر پر اسلام کی حتمی فتح کا افق پہلے سے کہیں زیادہ عینیت (اور واقعیت) کے قریب آ گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || انقلاب اسلامی کے رہبر معظم، حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر ایک پیغام میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے، فرمایا کہ بدخواہوں اور دشمنانِ اسلام کا پروگرام مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرنا اور بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، اور اس کے ذریعے 'امت اسلامی کو کمزور کرنا' اور اس پر تسلط جمانا ہے؛ آج امریکہ کے مجرم چہرے پر سے مکر و فریب کے تمام نقاب اترے چکے ہیں، چنانچہ امت مسلمہ کا اتحاد، کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع اور مختلف مادی اور معنوی امور میں باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ آپ نے مسلم ممالک کے حکمرانوں سے مخاطب ہوکر زور دیا: "امریکہ کے مجرم حکمران اور جعلی صہیونی وجود، اسلامی اتحاد اور پوری امت اسلام ـ بشمول مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کی اقوام ـ کے حلفیہ دشمن ہیں، لہٰذا اپنے حقیقی دشمن کو پہچان لیجئے اور اس کے عزائم کو سمجھ لیجئے اور ان کا مقابلہ کیجئے۔

آپ نے ایران میں مکتب اسلام کے 'اتحاد و یگانگت پیدا کرنے اسباق" کے قابل قبول نفاذ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے، ایک بار پھر ملت کے افراد پر زور دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے درمیان کسی بھی اختلاف کو نہ ابھرنے دیں۔

رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾

(سورہ انفال، آیت 29)

میں نیّر اعظم، اشرف مخلوقات، سراج منیر، اللہ کے برگزیدہ، مدینۃ العلم، رحمۃٌ للعالمین، اسلام کے رسولِ مُکَرَّم (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور آپؐ کے پاک و پاکیزہ فرزند، اللہ کی حجتِ بالغہ، حضرت امام جعفر صادق (صلوات اللہ و سلامہ علیہ) کی ولادت کے ایام کو ایران کی شریف ملت اور اسلام کی عظیم امت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جس وقت سے حضرت ختمی مرتبتؐ کے وجودِ مبارک کا سورج مکہ مکرمہ میں طلوع ہؤا، انسانیت کی سعادت کے افق میں ـ جو حضرت حق (جل و علا) کی 'اطاعت و 'کمالِ بندگی' کے مرہون منت ہے، ـ ایک نئی تابناکی معرض وجود میں آ گئی؛ انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح اور ملائکۃ اللہ قدسی (و آسمانی و عرشی) موجودات سرور و شادمانی میں ڈوب گئے اور انسی اور جنّی شیاطین نے غیظ و حسرت اور غم سے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔ کیونکہ اللہ کی مخلوقات کے بے شمار عوالم میں اللہ کی سب سے افضل و برتر ہستی عالم خاک پر قدم رکھ رہی تھی اور عنقریب نبوت اور خاتمیت کی خلعت زیب تن کرکے قرآنِ عظیم کو ہاتھ میں لئے اور بنی نوع انسان کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہدایت و راہنمائی کے مشن کے ساتھ، انسانیت کے عظیم کارواں کو عبودیت اور کمال الی اللہ کی طرف گامزن کرنے والی تھی۔

آنحضرتؐ اور آپؐ کے معصوم اوصیاء کی پوری زندگی مکمل طور پر ہدایت اور بندگی کا سبق، معرفت اور محبت کا سبق، عقیدہ و جہاد کا سبق، زندگی کا سبق، اور فردی و اجتماعی اخلاق حسنہ کا سبق، امانت و صداقت کا سبق، عزت و کرامت [و وقار] کا سبق، علم وعمل کا سبق، رحمت و عزم (اور پختگی] کا سبق، قسط و عدالت کا سبق، اور وحدت و اخوت کا سبق ہے۔ ان اسباق کو جتنا بہتر طریقے سے سیکھا جائے اور ان پر عمل کیا جائے، بنی نوع انسان کا سعادت و نیک بختی کی بلندیوں تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر رحمت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی روحِ پاک، نیز اوصیاءِ طیبین اور حُجَجِ طاہرین (صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم اجمعین) کی ارواحِ طیبہ، ہمیشہ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کے حالات کے نگہبان، ہادی اور مہربان رہتی ہیں۔ جب اس مہربان اور بزرگوار باپ کی اولاد سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو ان کا قلب مبارک رنجیدہ ہو جاتا ہے اور جب مسلمان ان کے اسباق اور احکام پر عمل کرتے ہیں تو ان کا قلب مبارک مسرور ہو جاتا ہے۔

اب اسلام اور اہل اسلام، صدر اول سے لے کر اب تک کے سخت اور پر آشوب ادوار اور بارہا فراز و نشیب اور اتار چڑھاؤ سے گذرنے کے بعد، ایک فیصلہ کن اور تقدیر ساز مرحلے پر پہنچ گئے ہیں۔ آج مسلمان ایک بہت مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج وہ دن ہے جب باطل پر حق اور کفر پر اسلام کی حتمی فتح کا افق ماضی کے تمام ادوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ عینیت (اور واقعیت) کے قریب آ گیا ہے۔

اس اہم کام کی پہلی شرط مسلمانوں کا باہمی اتحاد و اتفاق ہے۔ عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کا اتحاد ایک قرآنی تزویراتی حکمت عملی خالص محمدیؐ اسلام  کی بنیادی تعلیم ہے، اور کوئی سطحی اور عارضی مسئلہ نہیں ہے۔ اتحاد سے مقصود یہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی عمومی سطح پر، سب کے درمیان مشترکہ نقاط کو محور اور اصل و بنیاد قرار دیا جائے۔ البتہ کوشش کی جاتی ہے کہ استدلال کی پشت پناہی اور ـ قرآنی تعلیمات کے مطابق ـ بھائی چارے اور معیت و ہمراہی کے تمام پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے  ـ امن و آشتی اور بھائی چارے کے ساتھ اختلافی نقاط کو اشتراکی نقاط میں تبدیل کر دیا جائے۔

امر مسلّم یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں مسلمانوں کے افراد کو عالمی کفر کے مقابلے میں "أَشِدَّاءُ عَلَى الكُفّارِ، رُحَمَاءُ بَينَهُم" کے قرآنی اصول کو اپنی فکر اور گفتار (کلام) اور عمل کا محور بنانا چاہئے اور اسی طرح، اسلامی وحدت و یکجہتی حاصل ہوتی ہے۔ جب بھی اس آسمانی پیغام کے دونوں حصوں میں سے کوئی ایک حصہ، مسلمانوں کے دائرۂ عمل سے دور ہو جاتا ہے، تو وہ اس عزت کے مقام سے بھی دور ہو جاتے ہیں جسے وہ ـ بحق ـ مدینۃ الاسلام میں حاصل کر پائے تھے، اور یہ ایک ایسا اٹل قاعدہ ہے، جس میں [کسی کے لئے بھی] کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔

یہ قاعدہ انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں اور پیغامات میں سے ایک ہے۔ پہلے ہفتۂ وحدت کے انعقاد (فروری) 1978ع‍ میں انجام پایا، جب [ایران میں]، ظالم و جابر پہلوی حکومت کے خلاف [قومی اور اسلامی] جدوجہد ہو رہی تھی؛ جب عظیم الشان رہبرِ شہید (اعلی اللہ مقامہ الشریف) نے اپنی جلاوطنی کے دوران ایرانشہر میں اس فکر کا اظہار کیا اور شیعہ اور سنی نے اس کا خیر مقدم کیا؛ اور بہت جلد، انقلاب اسلامی کی فتح کے فوراً بعد، اسلامی جمہوریہ کے بانی حضرت امام خمینی (قدس سرہ الشریف) کی تدبیر سے، "ہفتہ وحدت" کو باضابطہ حیثیت مل گئی۔ حضرت باری تعالیٰ کے فضل سے، مسلمان قوم کے تمام افراد کے درمیان اتحاد کا مسئلہ ملت ایران میں ایک کامیاب نمونہ [و مثال] ہے اور اس کو مخدوش و مجروح کرنے کی غرض سے ہونے والی دشمنوں کی سازشیں کچھ زیادہ مؤثر نہیں رہی ہیں۔

لیکن یقیناً بدخواہ [دشمن] ہمیشہ اس عظیم نعمت کے لئے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ جس چیز سے انہوں نے امید لگائی بیٹھی ہے، وہ اختلافات کو نمایاں کرنا ہے۔ عقیدتی اور مذہبی اختلافات اگرچہ دشمن اسلام کے مقصد کے ایک اہم پہلو کو تشکیل دیتے ہیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی بہت زیادہ امید رکھتا ہے، لیکن وہ اسی پر اکتفا نہیں کرے گا، [اور اسی پر قانع نہیں ہوگا] اور وہ کوشش کرے گا کہ نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کے بہانے، ایران اور کسی بھی دوسرے ملک کے مسلمان عوام کے درمیان اختلاف و انتشار کا بہانہ بنا دے؛ تاکہ اس زاویئے سے امت اسلام کے پارہ پارہ ہونے اور اس کی قوتوں کے تحلیل ہو جانے کا نظارہ کرے اور مناسب موقع پر ان پر اپنا تسلط قائم کرے۔ ان معاملات میں ـ قرآن کریم کا حکم ـ آیت کریمہ "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ" (الانفال:46) میں بیان ہؤا ہے۔

لہٰذا کوئی بھی شخص، کسی بھی مقام پر، جو بھی کام ایسا کرے جو مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور انتشار کا باعث بنے اور مسلم معاشرے میں تنازع پیدا کرے، اس نے دانستہ یا نادانستہ طور پر،  دشمنان اسلام کے مقصد کو پورا کر دیا ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اس دور میں اس طرح کے عمل کو اپنی جہالت اور غفلت سے نسبت دے [اور کہہ دے کہ مین نہیں سمجھا مجھے دھوکاہ ہؤا وغیرہ]؟ جبکہ، اس وقت عالمی طاغوت ـ اور ان کی چوٹی پر جرائم پیشہ امریکہ ـ نے اپنے استعماری اہداف اور استکباری و تسلط پسندانہ عزآئم کے کریہ چہرے سے مکر و فریب کے نقاب ہٹا دیئے ہیں اور اپنے مخملی فریب کار دستانے اتار کر اپنے خون آلود چنگل پوری دنیا کو دکھا چکے ہیں؟

اب وقت ہے کہ مسلمان غور و فکر کریں اور واقعات کو زیادہ گہری نظر سے دیکھیں۔ کیا اگر مسلمان "یَدِ واحدہ" ہوتے، ایسا ہاتھ جو اپنی مٹھی کو مضبوطی سے بھینچتا، تو کیا فلسطینی قوم اس طرح بے پناہی کے عالم میں، ظلم اور قابضین کے جرائم کا نشانہ بنتی؟ اور کیا اگر خلیج فارس کے کنارے آباد اقوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے اپنا اتحاد قائم کر لیتیں، تو کیا بے شناخت، [کم اصل] اور بدکردار چیلے ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کی سرزمینوں اور اثاثوں پر للچائیں نظریں جمانے کی جرات کر پاتے؟

اسلامی ممالک کے حکمرانوں، خاص طور پر مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے حکمرانوں کو میرا مؤَکَّد اور مُکَرَّر مشورہ یہ ہے کہ: آپ اپنے حقیقی دشمن کو پہچان لیں اور اس کے عزائم کو سمجھ کر اس کا مقابلہ کریں۔ [جان لیں کہ] امت اسلامی کے مسائل کا علاج، اتحاد و یکجہتی، دوستی اور خیر و نیکی کی راہ میں باہمی تعاون ہے۔ امریکہ اور جعلی صہیونی رظام کے مجرم حکمران اس اتحاد اور دوستی کے حلفیہ دشمن ہیں۔ وہ صرف اسلامی جمہوریہ اور ملت ایران اور عظیم محاذ مزاحمت کے دشمن نہیں ہیں؛ بلکہ وہ پوری امتِ اسلام ـ بشمول مغربی ایشیا اور شمال افریقہ کی اقوام ـ کے دشمن ہیں اور اس معاملے میں ان ممالک کے حکمران بھی، جن میں سے بہت سے ان [امریکیوں اور صہیونیوں] کے معاون سمجھے جاتے ہیں، اس [دشمنی] سے مستثنیٰ نہیں ہیں، جیسا کہ بعض اسلامی ممالک کے سربراہان کے بارے میں استکبار کے سربراہوں کی طرف سے کھلی توہین اور بے حرمنی، اور ان کے بارے میں بھونڈے الفاظ، ہماری بے عزتی اور بدکلامی آپ اور ہم سب کے قریب ترین حافظے (قلیل المدتی حافظے) میں موجود ہے۔

اتحاد اور عدم تنازع کا اہم سبق، دشمن اور دوست کے سامنے کی نوعیت کے بارے میں مکتب اسلام کا پہلا سبق ہے۔ لیکن اس کا دوسرا سبق، کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا ہے اور تیسرا سبق، مسلمانوں کی مادی اور معنوی زندگی کے مختلف امور، جیسے دولت، سلامتی، علم اور ترقی، میں طرح طرح کا تعاون اور ہم افزائی [ایک دوسرے کو مکمل کرنا] ہے، اور اس راستے کا انجام جدید اسلامی تہذیب تک پہنچنا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے درمیان اتحاد، 'عزیز [و قوی] اور غالب [فاتح]' اسلامی تہذیب تک پہنچنے کے لئے بنیادی سنگِ بنیاد ہے۔ یہ تصوراتی اور فکری مجموعہ، جس میں 'عالم اسلام کے لئے' 'ہماری آرزو' نہاں ہے، اپنے طور پر عزیز ایران میں قابل قبول حد تک عملی شکل اختیار کر چکا ہے اور ملت کے افراد سے میری سفارش یہ ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں، اپنے درمیان کسی اختلاف کو ظہور پذیر نہ ہونے دیں۔

آخر میں، مجھے امید ہے کہ رسول مُکَرَّم اور آپؐ کی پاک عترت (صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم) کی شفاعتوں کے ساتھ، اللہ کے فضل و لطف کی سايۂ برکت و رحمت اسلامی معاشروں پر چھایا رہے اور وہ ـ پہلے سے زیادہ ـ الٰہی احکام پر عمل کے سائے میں، روز بروز ترقی اور عزت کی منزلیں طے کرتے رہیں۔

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

17 / ربیع الاوّل/ 1448 ہجری قمری

08 / شہریور / 1405 ہجری شمسی

30 / اگست / 2026 عیسوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha