اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اردو زبان کی ایک کہاوت ہے “جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے” یہ کہاوت یوں مشہور ہے کہ بر صغیر کے کچھ علاقوں میں اگر کوئی مر جاتا ہے تو جس طرح ہمارے یہاں سوم ، دسواں بیسواں اور چالیسواں ہوتا ہے ویسے ہی کچھ قوموں میں تیرہوں کی رسم ہوتی ہے یوں کہا جائے کہ تیرھویں یعنی کسی کے مرنے کے تیرھویں دِن ہونے والی رسم۔
اب آپ کہیں گے اسکا جاٹ سے اور جاٹ کا ابوبکر البغدای سے کیا تعلق ہے تو اسکے لئے تھوڑا صبر سے کام لیں پہلے اس کہاوت کے معنی پر نظر ڈالیں جس کے بعد بخوبی سمجھ میں آ جائے گا کہ کہاوت کا ہمارے عنوان سے ربط ہی نہیں گہرا ربطہ ہے تو کہاوت کے پیچھے کا ماجرا یہ ہے کہ جاٹ ایک قوم ہے جنکے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ قوم بہت سخت جان اور جفا کش ہوتی ہے اور اپنے فائدے کے لِئے کچھ بھی کر گزرتی ہے یہ لوگ اگر نقصان ہو رہا ہو تو آسانی سے مرتے بھی نہیں ہیں ،اور فائدہ پہنچ رہا ہو تو فورا مر بھی جاتے ہیں کہاوت میں بھی یہی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر کسی جاٹ کے بارے میں مشہور ہو جائے کہ وہ مر گیا تو جب تک اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لو یقین نہ کرنا اور یہ اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ جب تک کسی معاملہ کی اچھی طر ح تصدیق نہ ہو جائے اس پر یقین نہیں کر نا چاہئے اور تحقیق جاری رکھنی چاہئے۔ بات بھی صحیح اور معقول ہے اب اس کہاوت کے پس منظر میں ایک حکایت یوں بیان کی جاتی ہے۔
ایک جاٹ نے ایک بنئیے سے قرض لیا۔ وقت کے ساتھ سود کی وجہ سے قرض کی رقم بڑھتی گئی اور جاٹ کسی طرح اسے ادا نہ کر سکا۔ جب بنئیے کے تقاضے بہت بڑھ گئے تو اس نے عاجز آ کر اپنی فرضی موت کی خبر بنئیے تک پہنچا دی۔ بنیا کفِ افسوس ملتا رہ گیا۔ حادثہ کی تصدیق کے لئے وہ جاٹ کے گاؤں گیا اور اس کے گھر والوں کے پاس تعزیت کے لئے بھی پہنچ گیا ،سب نے اپنے عزیز کی موت پر بہت رنج کا اظہار کیا۔ اتفاق سے کچھ دنوں کے بعد بنئیے کو ایک قریبی گاؤں میں کسی کام سے جانا پڑا۔وہاں اس نے بازار میں اُس جاٹ کو گھومتے پھرتے دیکھا تو بھونچکا رہ گیا۔لوگوں سے گھبرا کر پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’’ صاحب جی ! جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے”۔
مرنے کی خبر ہو یا مرا ہوا کفن میں لپٹا دیکھو مرنے کی تصدیق ۱۳ دن بعد ہی کرنا اب سوم ، ہفتہ ،دسواں جو بھی رسم ہوتی ہے ان کو کرنے کے بعد کوئی یہ نہ سمجھے کہ جاٹ تو بیچارہ مر گیا جب تک تیرہواں نہ ہو جائے جاٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا ہی کچھ معاملہ ابوبکر البغدادی کا ہے کتنی ہی بار آپ نے مختلف چینلوں سے اسکے مرنے کی خبر سنی ہوگی[۱] کتنی بار مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ آپ نے اسکی لاش کی تصاویر بھی دیکھیں ہونگی [۲] ویڈیو[۳] بھی دیکھی ہونگی اور پھر بعد میں یہ بھی سنا ہوگا کہ ابوبکر بغدادی تو زندہ ہے البتہ اسکا بیٹا ضرور ہلاک ہو گیا[۴] ویسے یہ سوچنے کی بات ہے اکثر دہشت گردوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے ملا عمر واسامہ بن لادن کے بارے میں بھی بارہا آپ نے ایسے خبریں سنی ہوں گی پھر انکی ہی جانب سے کسی جاری شدہ ویڈیو کو بھی دیکھا ہوگا جس میں وہ پر زور نعرہ تکبیر لگا کر لوگوں کودشمنوں سے مقابلہ کے لئے للکار رہے ہیں یوں ان تمام خبروں پر پانی پھر گیا ہوگا جو موت کے بارے میں آپ نے سنی ہیں ، لہذا کسی بھی چینل کی بات کو اس سلسلہ سے نہیں مانا جا سکتا ہے خاص کر مغربی ذرائع ابلاغ کیوں کہ انکے یہاں کے جو دہشت گرد عناصر ہوتے ہیں وہ جاٹ جان ہوتے ہیں جلدی نہیں مرتے اور مربھی جائیں تو اس وقت تک زندہ رہتے ہیں جب تک انکے مفادات کی تکمیل ہو رہی ہو ، اگر انکے وہی مہرے جو خود کے ہی تراشے خراشے ہیں انکے کام کے ہوتے ہیں تو انہیں کے قرب و جوار میں آرام سے رہتے ہیں انہیں کوئی مطلب واسطہ نہیں رہتا لیکن جس دن انکے مہرے انکے ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں تو یہ پاکستان کے ہوائی حدود لانگ کر بھی ان تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ ہوا اب آُپ ذرا ملاحظہ کریں یہ خبر کتنی عجیب ہے جسے فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی[۵] نے ینی شفک” Yeni Şafak daily نامی ایک ترکی ویب سائٹ [۶]سے نقل کیا ہےاس سے پتہ چلتا ہے کہ در پردہ پوری کوشش ہو رہی ہے کہ ابوبکر البغدادی کو بچایا جا سکے اور صرف اسے ہی نہیں بلکہ دیگر داعش کے باقی ماندہ ٹولے کو بھی یہ بحفاظت کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ترکی کے ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکی فورسز سے متعلہ کچھ افراد داعشی دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض کو جعلی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی فراہم کر رہے ہیں جس کے چلتے آگے کے قانونی مراحل کو آسان بنایا جا سکے ، چنانچہ اگر “ینی شفک” Yeni Şafak daily اخبار کی بات کو مانا جائے تو داعش کا نام نہاد خلیفہ امریکی فورسز کے تحویل میں ہے ۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ اس روزنامہ نے مغربی ذرائع کی طرح ایسے ہی بیٹھے بٹھائے کوئی بھی خبر ویور شپ بڑھانے کے لئے مجازی فضا میں داغ دی اور اسکے پاس کوئی ثبوت نہ ہو اس روزنامہ نے اپنے طور پرامریکہ کی بکتر بند ایک گاڑی میں ابو بکر بغدادی کو سوار ہوتے ہوئے بھی دکھایا ہے۔
ترکی کے اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خفیہ ایجنسی کے ادارہ (CIA) کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بغدادی کہاں ہے اور یہ لوگ اس کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اب تک امریکی فورسز نے بغدادی اور ۱۴۰ داعشی عناصر کو جعلی شناختی کارڈ بھی فراہم کئے ہیں اور انکے لئے نئے ناموں کا انتخاب کر کے انکے ناموں کو بھی بدل دیا ہے تاکہ کسی کو نام کی وجہ سے نہ پہچانا جا سکے ، یہ کام بڑی مہارت کے ساتھ بہت رازدانہ طور پر ہو رہا ہے اور امریکہ کی کوشش ہے کہ اب جبکہ شام کی زمین مزاحمتی محاذ کی زبردست کامیابیوں کی وجہ سے انکے پالے پوسے گرجوں پر تنگ ہو گئی ہے تو انہیں قبل اس کے کہ انکا خاتمہ ہو شام سے نکال کر عراق کے ذریعہ علاقے میں غیر قانونی طور پر گھسایا جا سکے۔
اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی کا خفیہ جاسوسی ادارہ پی ۔کے ۔کے (PKK) سے وابستہ مزدور پارٹی کی کردستان میں موجود چھاونیوں کے اندر داعشیوں کے باقی ماندہ دو ہزار دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ میں مشغول ہے تاکہ انہیں جعلی شناختی کارڈ فراہم کئے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق پوچھ تاچھ کے مراحل ان مخصوص ہیڈ کواٹرس میں انجام پا رہے ہیں جنہیں امریکہ نے اپنے خاص مقاصد کے تحت شام اور عراق میں بنایا ہے اور مزے کے بات یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور اسرائیل کے اہلکار ان مجرموں سے بلا ناغہ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں ۔
اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جن ہیڈ کواٹرس میں داعش کے باقی ماندہ عناصر سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری ہے وہاں شدید قسم کے حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور کسی عام آدمی کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ینی شفک” Yeni Şafak daily کی یہ خبر اپنی جگہ لیکن اتنا تو طے ہے کہ امریکہ اس بار پھر کوئی خطرناک سناریو تیار کر رہا ہے جس کا پتہ آئندہ چند دنوں میں چلے گا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بغدادی کے شام میں قیام اور وہاں سے بھاگنے یا اسکی مخفی گاہوں کے پتہ چل جانے کو لے کر متناقص خبریں وصول ہو رہی ہیں،جنکے چلتے کہا جا سکتا ہے کہ عراق کی سرزمین کو ممکن ہے آئندہ دہشت گردانہ مقاصد کے سلسلہ سے استعمال کیا جائے جیسا کہ عراق کی ہی خفیہ ایجنسی کے اہلکار نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ داعشی خلیفہ عراق کے مغرب میں موجود ہے اور عراق کے اسٹراٹیجک مسائل کے ماہر “ہشام الہاشمی ” نے بھی اس خبر کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابو بکر البغدادی عراق میں داخل ہو گیا ہے انہوں نے اسکی تفصیل بتاتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ الانبار صوبے میں جزیرہ راوہ کے پاس یا پھر الثرثار کے مغرب میں بغدادی پہنچ چکا ہے ،عراق کی خفیہ ایجنسی کے ایک اور اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کے کچھ کمانڈروں کے ساتھ بغدادی عراق کے مغرب میں داخل ہو گیا ہے ، ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکی فورسز نے بغدادی اور اسکے باقی ماندہ عناصر کو اتنی فضا ضرور فراہم کر رکھی ہے کہ وہ عراق سے شام اور شام سے عراق آ جا سکیں اور اپنے ٹھکانے عراق میں مضبوط کر سکیں ، ایسے میں اگر داعش کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر آتی ہے تو قطعی طور پر غیر قابل قبول ہوگی خاص کر ان خبروں کے گردش کرنے کے بعد کہ امریکہ بغدادی کو اپنی حفاظت میں لئے ہوئے ہے ، ایسے میں ممکن ہے اس خبر کو دبانے کے لئے کچھ دنوں کے بعد کہا جائے ہم نے ابو بکر البغدادی کو گرفتار کر لیا یا مار دیا ، اس خبر کو آسانی سے قبول کرنا نادانی ہوگی بالکل ہمارے اس کالم کی تمہید میں بیان کی گئی کہاوت کی طرح جس میں بنیا اس جاٹ کے گھر تعزیت کے لئے بھی چلا گیا لیکن جب وہ کسی کام سے گیا تو اسے جاٹ ایک دیہات میں ملا اور جب بنئیے نے تعجب سے سوال کیا تو جواب ”ملا جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے” عین ممکن ہے ابوبکر بغدادی کے ساتھ بھی یہی ہو کہ دنیا سمجھے کہ وہ مارا گیا لیکن ،کسی کو پیرس میں تو کچھ دن کے بعد کسی کو لندن تو کسی کو نیویارک میں ٹہلتا ہوا دکھے اور جاٹ کی طرح کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہے کیوں میاں تعجب کر رہے ہو ؟ “جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے”
منبع: خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ
حواشی :
https://www.theguardian.com/world/abu-bakr-al-baghdadi[1]
https://www.washingtonexaminer.com/…/isis-is-on-the-ropes…
https://www.independent.co.uk/topic/abu-bakr-al-baghdadi
۲] ۔۔ https://economictimes.indiatimes.com/…/Abu-Bakr-al-Baghd
https://www.ndtv.com
https://www.bbc.com/news/world-middle-east-44710004.4۔
https://www.cbsnews.com/news/isis-leader-abu-bakr-al-bagh…
https://www.voanews.com/…death…al-baghdadi…/4465613….
https://nypost.com/2018/07/…/isis-leaders-son-killed-in-syria…
https://www.aljazeera.com/news/…/isil-leader-abu-bakr-al-ba…
[۵]http://fna.ir/bs14ta
[۶] https://www.yenisafak.com/en/news/cia-grants-new-ids-passports-to-140-daesh-terrorists-3476397. .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲