17 اگست 2026 - 17:39
امریکی سینیٹر کی ٹرمپ پر شدید تنقید؛ ’’جھوٹ بول کر امریکی عوام کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا گیا‘‘

امریکی ریاست جارجیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جان آساف نے ایران کے خلاف جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام کو جھوٹ بول کر جنگ میں دھکیلا گیا، جبکہ جنگ کے بارے میں حکومت کے دعوے مسلسل غلط ثابت ہورہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جان آساف نے اٹلانٹا میں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کے وزیر جنگ پِیٹ ہیگسیتھ کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے اقتدار سنبھالتے ہی قیمتیں کم کرنے اور امن قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کے برعکس امریکا کو جنگ میں جھونک دیا گیا۔

آساف نے کہا کہ گزشتہ سال امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کردیا گیا ہے، لیکن رواں سال یہی دعویٰ کیا گیا کہ ایران کا جوہری پروگرام ایک فوری خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے بقول دونوں مواقع پر امریکی حکام نے جھوٹ بولا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے پہلے ہی روز ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ توقع سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور چوتھے روز فتح کا اعلان کردیا، لیکن اب جنگ کو 170 دن گزر چکے ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر نے امریکی وزیر جنگ پِیٹ ہیگسیتھ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے نویں روز ہیگسیتھ نے ایران کے ہتھیار ڈالنے کی ضمانت دی، چودھویں روز ایرانی فوج کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا اور چالیسویں روز کہا کہ جنگ کے تمام اہداف حاصل کرلیے گئے، جبکہ یہ تمام دعوے چار ماہ قبل کیے گئے تھے۔

آساف نے کہا کہ جھوٹ کے ذریعے کسی قوم کو جنگ میں دھکیلنا، شہریوں کو نادان سمجھنا اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو قربانی کے مہروں کے طور پر استعمال کرنا انتہائی نفرت انگیز عمل ہے۔

امریکا کی ایران کے خلاف جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے قریب ہے، جبکہ مختلف جائزوں کے مطابق امریکی عوام میں اس فوجی کارروائی کو وسیع حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha