17 اگست 2026 - 00:17
امریکہ کی تذلیل سابق امریکی فوجی افسر کی زبانی! + ویڈیو

ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر کہتا ہے: "ہم جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے/ ہم فوجی لحاظ سے شکست کھا چکے ہیں / ایران ہم سے مذاکرات نہیں کر رہا ہے، اور ہم تنہا ہو گئے ہیں / ہمارے پاس مذاکرات کی میز پر دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے / اقتصادی لحاظ سے ہماری طرف کی پابندیوں کی دھمکیاں دنیا والوں کے نزدیک ہنسی مذاق کا سبب بن گئی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر اسکاٹ رٹر برطانوی پارلیمنٹریئن اور سینیئر صحافی جارج گیلووے سے بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جو کچھ ایرانی کہتے ہیں یہ ہے کہ "ہم اس قدر ٹرمپ سے بیزار ہیں، اور اس قدر اس کے ساتھ کام نہیں کر سکتے کہ جب تک وہ صدر رہے گا، ہم امریکہ کے ساتھ اصولاً بات چیت ہی نہیں کریں گے۔" کہتے ہیں: "ہم تم پر بھروسہ نہیں رکھتے، ان مذاکرات میں کوئی فائدہ نہیں ہے"۔

وہ کہتے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ ایک 'حل نشدہ تنازع' باقی رہے، اس سے کہیں بہتر کہ ہم بدنیتی کی بنیاد پر بات چیت کریں؛ یا ایسے شخص سے مذاکرات کریں جو بدنیتی سے مذاکرات میں آتا ہے۔"

یہ امریکہ کی سفارتی تنہائی کا آغاز ہے کیونکہ یہ مسئلہ امریکہ کے لئے کئی مسائل کھڑا کرے گا، کیوں؟

ہمیں توانائی کے شعبے میں ایک عالمی بحران کا سامنا ہے جو آبنائے ہرمز اور ابنائے باب المندب سے منسلک ہے اور اس بحران کو حل ہونا چاہئے۔ چنانچہ ممالک مجبور ہونگے کہ ایرانیوں کے ساتھ بیٹھیں اور اس بحران کو حل کریں؛ لیکن امریکہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔

ایران کہتا ہے: "ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہم تمہاری باتیں سنیں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ بنیادی طور پر، دوسرے ممالک کو اپنی طرف سے مذاکرات کی اجازت دینے پر مجبور ہوگا۔"

ہم امریکہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، یعنی وہ ملک جو بظاہر دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔ لیکن ہم اس وقت اس حد تک ذلت و خفت سے دوچار ہوئے ہیں کہ ہم ایسی جنگ کے بارے میں بات چیت کرنے سے بھی عاجز ہیں جس میں ہم شکست کھا چکے ہیں؛ حالانکہ ہمیں اس صورت حال سے نکلنے کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے۔

ہم مذاکرات نہیں کر سکتے، کیونکہ مخالف فریق ہمیں غیر اہم سمجھتا ہے؛ حتی ہمیں بات چیت کا قابل بھی نہیں سمجھتا۔

مستقبل میں یہ صورت حال امریکہ کے لئے مزید تحقیر و تذلیل سے بھرپور حقیقت میں بدل جائے گی کیونکہ دوسرے ممالک بھی شاید اسی راستے پر گامزن ہوجائیں گے۔

ایران ہمیں سنجیدہ نہیں لیتا، اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مذاکرات کی میز پر دکھانے کے لئے کوئی بھی سنجیدہ شیئے نہیں ہے!

فوجی لحاظ سے ہم شکست کھا گئے ہیں، ہم جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اقتصادی لحاظ سے ہماری طرف کی پابندیوں کی دھمکیاں دنیا والوں کے نزدیک ہنسی مذاق کا سبب بن گئی ہیں۔

ایرانی اہمیت نہیں دیتے؛ وہ 50 سال سے پابندیاں برداشت کر رہے ہیں اور اگلی امریکی پابندیوں پر بھی غلبہ پا لیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha