اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جمہوری سیاست بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ اگرچہ سیاسی فریقین ایک دوسرے کی مدد اور مشاورت کے ساتھ محفوظ راستہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں، لیکن بعض سیاسی فریقین کے سخت گیر موقف کے باعث عملی طور پر سیاسی ڈیڈ لاک بدستور برقرار ہےاس کی شاید ایک وجہ یہ ہو کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور علامہ طاہرالقادری نے حکومت سے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کیا تاہم اب سے تھوڑی دیر قبلااعجا زالحق اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے طاہرالقادری سے ملاقات کی جس کے بعد وہ وزیراعظم ہاوس چلے گئے۔ اور تقریبا ایک گھنٹے بعد اعجا زالحق ، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی دو وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق اور عبدالقادر بلوچ اس وقت علامہ طاہرالقادری سے ملاقات کر رہے ہیں اس سے قبل علامہ طاہرالقادری نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ایک عبار پھر میاں نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ جبکہ تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی نے میاں نواز شریف کے استعفی سے قبل ہر قسم کے مذاکرات کرنے سے معذرت کرلی ۔جبکہ اسلام آباد میں آج صبح کشیدگی کے بادل اس وقت منڈلانے لگے کہ جب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے انقلاب مارچ میں شامل مردوں اور خواتین نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرلیا اور کارکنوں نے 3 میں سے 2 دروازوں کے سامنے دھرنا دے دیا جہاں سے لوگوں کو آنے جانے سےروک دیا گیا ہے۔ گیٹ نمبر ایک اور 2 کے سامنے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی موجودگی کے باعث وزیر اعظم سمیت تمام ارکان اسمبلی اور عملہ ایوان صدر کے راستے سے نکل گیا۔
قومی اسمبلی کے بعد انقلاب مارچ کے کارکن تمام رکاوٹیں عبور کرکے پولیس کا ناکہ توڑ کر پاک سیکریٹریٹ کے مرکزی دروازے پر پہنچ گئے تاہم پولیس نے گیٹ بند کردیا، اس کے علاوہ پولیس نے وزیر اعظم ہاؤس جانے والے تمام داخلی راستے بھی بند کردیئے ہیں جب کہ پاک سیکریٹریٹ کے سامنے پاک فوج اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ۔ ہمارے ساتھی نے اسی تناظر میں عالمی امور کے تجزیہ نگار نذیر ناجی سے گفتگو کی اور ان سے پہلے یہ پوچھا کہ حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے۔ کیا وزیراعظم ہاوس تک مارچ کے شرکاء جانے کی کوشش کریں گے۔
سامعین انقلاب اورآزادی یہ وہ الفاظ ہیں جن سے اسلام آباد گذشتہ کچھ دنوں سے گونج رہا ہے۔ انقلاب اور آزادی مارچ ساتھ ساتھ شہرِ اقتدار میں ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ ہر لمحے بدلتی صورتحال سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر آنے والا بیا ن کشیدگی کو بظاہر بڑھا رہا ہے۔ مگر پسِ پردہ ہونے والی حرکات و سکنات کے بارے میں عوام اپنے قیاس سے ہی کام لے رہے ہیں۔
اگرچہ ا نقلاب اور آزادی دونوں کی مفا ہمت کا دور دور تک کوئی شا ئبہ نہیں لیکن دونوں کا مقصد موجودہ نظامِ حکومت کو ہٹانا ہے اور نیا پا کستان بنا نا ہے۔ بات یہاں کسی جماعت کے صیحح یا غلط ہونے کی نہیں اور نہ ہی یہ کہ کون اگلے اقتدار کے لئے موزوں ترین ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ تو شا ید کچھ اور ہے۔ دونوں دھرنوں کے شرکاء میں اگر کچھ مشترک ہے تو وہ یہ کہ انھوں نے اپنی سوچ کو اپنے قائدین کے تا بع کر دیا ہے۔ جو بیان ان کے قائدین داغ دیتے ہیں اُس کے مطا لب و مقا صد سے قطع نظروہ حرفِ آخر سمجھ لیا جا تا ہے۔
سامعین پاکستانی تاریخ کے اس نازک موڑ پر سیاسی قیادت کو ایک بار پھر بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا اور یہ رویہ بھی ترک کرنا ہو گا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تقریریں کرتے ہوئے جمہوریت اور آئین کی حفاظت کا عزم کریں اور ایوان سے باہر نکل کر احتجاج کرنے والوں کی پیٹھ تھپکیں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی پیر سے شروع ہو چکے ہیں اس لئے حکومت فوری طور پر پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے احتجاج کرنے والوں کو پر امن طور پر معاملے کا حل نکالنے پر قائل کرے کیوں کہ اسی طرح جمہوریت کی گاڑی پٹری پر چلتی رہ سکتی ہے اور آئین پاکستان بھی مقدم رہے گا ۔ تاہم تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان یہ بات نہ بھولیں کہ پاکستان کے عوام کے لئے وہ امید کی ایک کرن بن کر ابھرے تھے اور اگر یہ کرن طلوع کے ساتھ ہی ڈوب گئی توپاکستان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ہر چند کہ اپنے خطاب میں عمران خان نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ انتشار پیدا ہو اور فوج آ جائے۔ تاہم ریڈ زون میں داخل ہونے کے بعد مارچ کے شرکاء کوراست اقدام سے اجتناب کرنا چاہئیے اس لئے کہ اگر اس علاقے کے حالات خراب ہو گئے تو شاہراہ دستور پر موجود عمارتیں ہی اس کی لپیٹ میں نہیں آئیں گی بلکہ جمہوریت میں بھی وہ شگاف پڑے گا کہ جس کو پر کرنے میں ایک بار پھر برسوں درکار ہوں گے۔ اس لئے کہ انقلاب یا آزادی کسی نعرے کا نا م نہیں بلکہ یہ آپ کی سوچ کو بدلنے کا نا م ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے تب تک انقلاب بس نعروں میں ہی رہے گا۔
.......
/169