اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرکزی امام بارگاہ کے منتظمین کی جانب سے شروع کیے گئے دھرنے کو آج چوتھا دن تھا۔ شروع سے ہی مختلف وفود حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔ دوسری جانب آج دن بارہ بجے کے قریب مرکزی امام بارگاہ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے خود بریگیڈیئر سے ملاقات کی۔ بریگیڈیئر اور انکے درمیان جو مذاکرات ہوئے، وفد نے ان کو امید افزا قرار دیتے ہوئے مظاہرین کو تسلی دی اور دھرنا ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ وقتی طور پر مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور بریگیڈیئر زندہ باد کے نعرے بھی بلند ہوئے، لیکن جب وفد مرکزی امام بارگاہ چلا گیا، تو مظاہرین میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ لہذا انہوں نے وفد کی تسلیوں کو دھوکے پر مبنی قرار دیا۔
ادھر موجودہ قائم مقام پیش امام مولانا خیال حسین، مولانا الطاف حسین ابراہیمی، مولانا امین حسین کراخیلہ اور مولانا حامد حسین پر مشتمل مرکزی امام بارگاہ کی انتظامیہ کے ایک وفد نے مجلس علمائے اہلبیت کے دفتر میں سابق سینیٹر علامہ سید جواد ہادی، صدر مجلس علامہ سید صفدر علی شاہ نقوی، مولانا سید احمد حسین حسینی اور تحریک حسینی کے سینیئر رہنما حاجی عابد حسین جعفری وغیرہ سے ملاقات کی اور ان سے ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ مذکورہ افراد نے مرکزی امام بارگاہ جاکر معاملہ کو سلجھانے کا عندیہ ظاہر کیا۔
مذکورہ وفد کا کہنا تھا کہ جن افراد کے کہنے پر ہم مرکزی امام بارگاہ گئے تھے، ہمیں وہ پذیرائی نہیں ملی، انکا کہنا تھا کہ معلوم ہو رہا ہے کہ بات علماء کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ رابطہ کرنے والے مذکورہ وفد میں اخلاص کی کمی نہیں تھی، تاہم مرکزی امام بارگاہ میں بعض عام افراد نے ہمارے وقار کا کوئی خیال رکھے بغیر اوچھے سوالات اٹھائے۔ انکا کہنا تھا کہ سابق پی اے محرر حاجی شبیر حسین اور ہاشم علی کا رویہ کافی معاندانہ رہا۔ انکے پاس مسئلے کا خود کوئی حل تھا نہ کسی کو اختیار دینا چاہتے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وفد نے بعض افراد کی جانب سے ناشائستہ رویئے بارے ان سے دوبارہ رابطہ کیا اور معافی مانگی اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کا اپنا مطالبہ پھر دہرایا۔ دوسری جانب شہید پارک کے پاس دیئے جانے والے دھرنے کا محاصرہ کل سے جاری ہے، تاہم ایف سی کے کرنل کے تعاون سے دھرنے کے شرکاء کو کل شام کھانے پینے کا سامان مہیا کیا جاسکا جبکہ علامہ شیخ نواز عرفانی نے آج دھرنے سے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ جسکے بعد سدارہ کے مقام پر دیئے جانے والے دھرنے کو ختم کر دیا گیا ہے۔
.......
/169