اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے یورپی یونین کو انسانی حقوق کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین دوسروں کو نصیحت کرنے کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رکھتی۔
عراقچی نے یونان کے وزیر خارجہ گیورگیوس گراپتریتیس سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری اقدامات، جن میں بحری ناکہ بندی اور 28 جون کو طے پانے والی مفاہمت کی مبینہ خلاف ورزی بھی شامل ہے، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کی اور بتایا کہ ایران عمان کے ساتھ جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے راستوں کے تعین کے حوالے سے دوطرفہ مذاکرات کر رہا ہے۔
عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجودہ عدم تحفظ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کے ذمہ دار فریقوں سے جواب طلب کرنا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے انسانی حقوق سے متعلق مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے معاملے میں یورپی ممالک کا دوہرا معیار واضح ہے، خصوصاً اسرائیل کی بھرپور حمایت اور فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ لبنان اور ایران میں اسرائیل کی مبینہ جنگی کارروائیوں پر یورپ کی خاموشی اس کی مثال ہے۔
عراقچی نے ایران کے خلاف انسانی حقوق کے نام پر یورپی یونین کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے طرزِ عمل کی وجہ سے یورپی یونین کو دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دینے کا اخلاقی مقام حاصل نہیں۔
دوسری جانب یونان کے وزیر خارجہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور کسی بھی ضروری تکنیکی اور ماہرین کی سطح پر تعاون کی پیشکش کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ بھی باہمی مشاورت جاری رکھنے اور ایران و یونان کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
آپ کا تبصرہ