امام زادہ حضرت عبدالعظیم حسنی رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر عالم ، محدث ، محب اھل بیت اور حقیق معنوں محمد و آل محمد کے مطیع تھے ان کی عظمت کے لئے معصوم کا یہ فرمان کافی ہے کہ جس نے حضرت عبدالعظیم حسنی کی شهرری (تہران) میں زیارت کی اسے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا ثواب نصیب ہوگا۔جناب عبدالعظیم حسنی امام جواد علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ اپنے پاکیزہ آباء و واجداد کے سلسلہ سے امیرالمومنین سے نقل کرتے ہیں: للقائم منا غیبۃ امدھا طویل، کانی بالشعیۃ یجولون جولان النعم فی غیبۃ یطلبون المرعی فلا یجدون الا فمن ثبت منھم علی دینہ لم یقس قلبہ لطول امد غیبۃ امامہ فھو معی فی درجتی یوم القیامۃ، یعنی امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے قائم کی غیبت طولانی ہوگی گویا کہ میں شیعوں کو دیکھ رہا ہوں اس کی غیبت کے دوران یوں ادھر ادھر پھریں گے جس طرح چوپائے چراگاہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتے ہیں اور اسے نہیں پاتے ،جان لو کہ شیعوں میں سے وہ کہ جو دین پر ثابت قدم رہے اور غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے اس کا دل سخت نہ ہو وہ روز قیامت میرے مرتبہ میں میرے ساتھ ہوگا۔ ۱اس حدیث شریف سے بہت سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:(۱)حضرت امام مہدی(عج) پیغبر اسلام کی اھل بیت میں سے ہیں جیسا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا لایکون القائم الا امام ابن امام و وصی کہ جناب قائم نہیں ہوں گے مگر یہ کہ امام اور فرزند امام اور وصی ہوں گے ۔۲ایک روایت میں آیا ہے اللہ لایکون المھدی ابدا الا من ولد الحسین علیہ السلام خدا کی قسم امام مہدی فقط حسین علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔۳پھر ایک روایت میں آیا ہےالمنتظر من ولد الحسین بن علی علیھما السلام فی ذریۃ الحسین و فی عقب الحسین علیہ السلام، حضرت مہدی منتظر امام حسین بن علی علیھما السلام کی اولاد میں سے اور امام حسین علیہ السلام کی ذریت میں سے اور امام حسین کی نسل مبارک میں سے ہیں ۔۴امام رضا علیہ السلام سے منقول روایت میں آیا ہے: الخلف الصالح من ولد ابی محمد الحسن بن علی علیھما السلام وھو صاحب الزمان و ھو المہدی خلف صالح امام حسن عسکری کی اولاد میں سے ہیں اور وہ صاحب الزمان ہیں اور وہ مہدی آل محمد سلام اللہ علیہ ہیں۔۵(۲)یہ کہ حضرت آنکھوں سے غائب ہوجائیں گے اور ان کی غیبت طولانی ہوجائے گی اس حوالے سے بے شمار روایات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ اطہار سے نقل ہوئیں تمام انبیاء رسل، پیغمبر اسلام، اور ائمہ ھدی علیھم السلام نے امام مہدی کی طولانی غیبت کے بعد ان کے ظہور کی خوشخبری دی اب امام زمان (عج) کی بارہ سو سال سے زیادہ عمر مبارک ان روایات میں پہلے سے بیان ہوچکی ہے۔(۳)ضعیف عقیدہ شیعہ حضرات آپ کی طولانی غیبت کی بنا پر سرگران ہوجائیں گے یہ طولانی غیبت جو کہ ایک الھی امتحان ہے، اس سے ایک گروہ گمراہ ہوجائے گا اور ایک گروہ بابیت کے نام سے امام زمانہ کی نیابت کا اعلان کرکے نیا مذہب بنائے گا اور گمراہ ہوگا۔(۴)وہ شیعہ جو صراط مستقیم پر رہیں اور صحیح معنوں میں انسان ساز مکتب اھل بیت عصمت و طہارت پر عمل پیرا رہیں، اس زمانہ میں ثابت قدم رہیں تو ایسے شیعہ دنیا و آخرت میں اھل بیت کے ساتھ ہوں گے اور یہ سب سے بڑا سرمایہ ہوگا کہ جسے وہ اپنے ساتھ لے جائیں گے ،اس حوالے سے بہت سی احادیث اور روایات ہیں مرحوم علامہ مجلسی قدس سرہ نے بحارالانوار میں ایک باب بنام' فرج کے انتظار کی فضیلت اور زمانہ غیبت میں مدح شیعہ" لکھا ہے ہم یہاں وہاں سے چند احادیث نقل کرتے ہیں :جناب ابوحمزہ ثمالی امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالی کے بارہویں ولی کی غیبت جو کہ رسول اللہ اور ان کے بعد تمام ائمہ کے وصی ہوں گے طولانی ہوگی، اے ابوخالد یقینا زمانہ غیبت میں وہ لوگ جو اس کی امامت کے قائل ہوں گے اور اس کے ظہور کا انتظار کررہے ہوں گے وہ تمام زمانے والوں سے افضل ہوں گے ،کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں اتنی عقل ، فہم اور معرفت عطا کی ہوگی کہ ان کے نزدیک یہ زمانہ غیبت ظہور امام کی مانند ہوگا، تو اس زمانہ میں ان کے انتظار میں دن گزارنے والوں کا مقام ان لوگوں کی مانند ہوگا کہ جنہوں نے رسول اللہ کے ساتھ تلوار کے ساتھ جہاد کیا اور ہمارے مخلص اور حقیقی شیعہ ہوں گے ،کہ وہ سچائی اور محبت کے ساتھ پیروکار ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جو پروردگار کی مخلوقات کو ظاھراور پوشیدہ حالت میں دین خدا کی طرف دعوت دیں گے اور خود فرج کا انتظار بہت بڑی فرج (وسعت) ہے۔۶شیخ صدوق اپنی سند کے ساتھ عمرو بن ثابت سے اور وہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ جو بھی ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت اور محبت پر ثابت قدم رہے تو اللہ اسے شہداء بدر و احد کی مانند ہر آن ہزار شھداء کا اجر عطا کرے گا ۔۷اسی طرح مرحوم صدوق اپنی سند کے ساتھ ابوبصیر سے روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : جوہمارے قائم کے زمانہ غیبت میں ہمارے ساتھ تمسک رکھے اور اس کا دل ہدایت قبول کرنے کے بعد حق سے نہ پلٹ جائے اس کے لئے طوبی ہے ،تو راوی نے عرض کیا : آپ پر فدا ہوجاؤں طوبی کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: طوبی بہشت میں ایک درخت ہے جس کی جڑیں حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں سے ہیں کوئی ایسا مومن نہ ہوگا کہ جنت میں اس کے محل میں اس درخت کی ایک شاخ نہ ہو اور یہ ہے اللہ تعالی کی اس کلام کا معنی کہ فرماتا ہے طوبی لھم و حسن ماب ۔ ۸ایک اور مقام پر شیخ صدوق اپنی سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: فرج کا انتظار کریں اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہوں ،یقینا اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل فرج کا انتظار ہے، پھر اس کے بعد فرمایا: پہاڑوں کو میخ سے کھودنا اس کی نسبت آسان ہے کہ انسان ایسے بادشاہ کے ساتھ گزارہ کرے کہ جس کی حکومت کی مدت طولانی ہوگی، پس اللہ سے مدد چاہیں اور صبر کریں یقینا زمین اللہ تعالی کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے دے گا ،اچھا انجام متقیوں کے ساتھ ہے اس مسئلہ میں وقت کے آنے سے پہلے جلدی نہ کرو ورنہ پچھتاؤ گے اور اس مدت کو طویل شمار نہ کرو ورنہ یہ چیز تمہارے دلوں کی سختی کا موجب بنے گی، جو ہمارے دامن سے تمسک کرے گا مقام قدس میں ہمارے ساتھ ہوگا اور جو ہمارے امر کے ظہور کا منتظر ہو وہ اس شخص کی مانند کہ اللہ کی راہ میں اپنے خون میں غلطان ہوا ہے۔ ۹شیخ صفار کتاب بصائر الدرجات میں اپنی سند کے ساتھ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کی موجودگی میں فرمایا پروردگار میرے بھائیوں کو مجھ تک پہنچا پھر دو دفعہ اس کلام کی تکرار کی، تو اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کیا : یارسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آنحضرت نے فرمایا: نہیں کیونکہ تم میرے اصحاب ہو میرے بھائی وہ ہیں کہ جو آخر الزمان میں ہوں گے یہ وہ ہوں گے کہ جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے یقینا اللہ تعالی انہیں ان کے ناموں کے ساتھ اور ان کے والدین کے ناموں کے ساتھ والدوں کی پشت سے ماؤں کے رحموں سے نکالے گا اور میری پہچان کروائے گا ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر باقی رہنا اس سے مشکل ہوگا کہ رات کی تاریکی میں کوئی کانٹوں والے درخت سے اپنے ہاتھ زخمی کرے یاجلتی ہوئی لکڑی کو اپنے ہاتھ میں رکھے یہ لوگ تاریک راتوں میں نورانی چراغوں کی مانند ہوں گے اللہ تعالی انہیں تمام فتنوں سے نجات دے گا اور محفوظ فرمائے گا ۔۱۰برقی کتاب محاسن میں اپنی سند کے ساتھ مالک بن اعین سے اور وہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو اس بات پر عقیدہ رکھے اور قیام قائم سے پہلے فوت ہوجائے وہ ہر آن اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں تلوار کھینچے ۔۱۱صدوق جابر جعفی سے اور وہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: لوگوں پرایسا زمانہ آئے گا کہ ان کا امام پوشیدہ ہوجائے گا مبارک ہو ان لوگوں کو کہ جو اس زمانہ میں اپنے دین پر ثابت قدم رہیں یقینا کم ترین ثواب جو انہیں دیا جائے گا یہ ہے کہ اللہ تعالی انہیں آواز دے گا تم میرے صاحب راز ہو اور میرے پوشیدہ یعنی امام غائب کی تصدیق کی پس تمہیں یہ بشارت ہو کہ تم میرے حقیقی غلام اور کنیزیں ہو تم سے اپنی اطاعت کو قبول کرتا ہوں اور تمہاری کوتاہیوں کو بخش دیتا ہوں اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیتا ہوں تمہاری وجہ سے اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کرتا ہوں اور مصیبتوں کو ان سے دور کرتاہوں اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا ،تو جابر جعفی کہتے ہیں کہ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا اے فرزند رسول اس زمانہ میں کون سا عمل سب اعمال سے افضل ہے فرمایا: اپنی زبان کو سنبھالنا اور گھروں میں گوشہ نشین ہونا ۔۱۲ البتہ یہ گھروں میں گوشہ نشین ہونے والی تعبیر سے مراد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے بلکہ غیبت کے دوران فتنوں سے بچنا ہے ورنہ وہ روایات جو منتظرین کے فرایض بتارہی ہیں وہ واضح کر رہی ہیں کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور انفرادی و اجتماعی سطح پر اصلاح کی کوشش کرنا وغیرہ سب پر ضروری ہے تاکہ امام کے ظہور کے اسباب فراہم ہوں) اس موضوع پر پیغمبر اسلام اور ائمہ اھل بیت علیھم السلام سے فراوان احادیث نقل ہوئی ہیں ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں حقیقی معنوں میں امام زمانہ کے منتظرین میں سے قرار دے اور خاندان عصمت و طہارت کی محبت و ولایت جیسی عظیم نعمت ہماری زندگی کے آخری دن تک ہم سے اور مخلص شیعوں سے سلب نہ ہو۔(۵)یہ کہ ان کے ظہور کے وقت ان پر کسی کی بیعت نہ ہوگی جبکہ ان کی امامت و ولایت کا اعتقاد تو ان کے ظہور سے پہلے اور بعد میں ضروری اور مسلم ہے۔ غیبت نعمانی میں ابراھیم بن عمر یمانی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: لیقوم القائم و لیس فی عنقہ بیعتہ لا حد قائم جب قیام فرمائیں گے تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔(۶)آپ کی ولادت مبارک پوشیدہ ہوگی مرحوم صدوق کتاب کمال الدین میں اپنی سند کے ساتھ محمد بن عبداللہ مطہری سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے بیان کیا کہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد حکیمہ خاتون جو کہ امام جواد علیہ السلام کی بیٹی تھیں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور حجت خدا کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا بیٹھو، میں بیٹھ گیا پھر فرمایا اے محمد اللہ تعالی زمین کو حجت ناطق اور ساکت سے خالی نہیں رکھتا اور امامت کو دو بھائیوں حسن اور حسین علیھما السلام سے باہر نہیں قرار دیا اور یہ بھی ان کی دوسروں پر فضیلت ہے، اسی طرح اللہ تعالی نے حسین علیہ السلام کی اولاد کو حسن علیہ السلام کی اولاد پر فضیلت بخشی ہے ،ضروری ہے اس امت کے لئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد امتحان ہو کہ جس میں اھل حق اھل باطل سے جدا ہوجائیں اور خلق حجت خدا (کی زیارت سے)محروم ہو، راوی کہتا ہے میں نے عرض کی اے میری سیدہ کیا امام حسن عسکری کا فرزند ہے ؟ تو حکیمہ خاتون مسکرائیں اور کہا اگر ان کا بیٹا نہ ہو تو پھر ان کے بعد اللہ تعالی کی حجت بالغہ کون ہوگی، جبکہ میں نے ت
2 فروری 2014 - 20:30
News ID: 502602
حضرت عبدالعظیم حسنی رحمه اللہ علیہ جلیل القدر عالم دین ، محدث ، محب اھل بیت اور حقیقی معنوں میں محمد و آل محمد کے مطیع و فرمانردار تھے.