ابنا: جریدے کے مطابق صدام نے امریکہ کے تعاون سےباربار ایران کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی حکومت اور انٹلجنس اور فوج جو آج شام پر حملوں کے لئے پرتول رہی ہیں، انہوں نے صدام کے ہاتھوں نہایت ہی زہریلی گیسوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود کوئي قدم نہيں اٹھایا تھا۔ایران کے خلاف صدام کی مسلط کردہ جنگ کے دوران بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ایک افسر ریک فرانکونا نے فارن پالیسی کو بتایا کہ صدام نے ہرگز ہم سےیہ نہیں کہا تھا کہ وہ اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیاوی گيس استعمال کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ واشنگٹن کو اس کی پہلے سے اطلاع ہے۔ اس امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ سی آئی اے کی ڈی کلاسیفائد دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ انیس سو تراسی میں امریکہ کو اچھی طرح سے معلوم تھا کہ صدام نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔سن اسی کے عشرے میں امریکہ اور صدام کے درمیان جو دوستانہ تعلقات قائم تھے اس کے پیش نظر یہ بات سب پر عیاں تھی کہ ایران کے خلاف جنگ میں ممنوعہ ہتیاروں کا استعمال، استعمال امریکہ کے تعاون اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ جب بھی ابران کی شکایت پر اقوام متحدہ کی تحیقاتی ٹیم نے متاثرہ علاقوں کو دورہ کرکے جورپورٹ تیار کی اس کو امریکہ نے ہمیشہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے رکوادیا یا پھر یہ بیان جاری کروایا کہ اقوام متحدہ کی تحقیاتی ٹیم کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ جنگ دوران کیمیاوی بم استعمال کئے گئے ہیں۔ ظاہر کہ اس قسم کا بیان صدام کی کھلی حمایت کے بجز اور کسی پیغام کا حامل نہیں تھا اور آزدی بیان کا دم بھرنے والا مغربی میڈیا بھی اپنی خبروں اور تبصروں میں یہی کہتا تھا کہ جنگی محاذوں پر کیمیاوی ہتیار استعمال کئے گئے ہیں، لیکن ہتیار کس نے اور کس کے خلاف استعمال کئے اس کا ذکر نہ اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں ہوتا تھا نہ مغربی میڈیا اس کا ذکر کرتا تھا، لیکن اس کے باوجود سب جانتے تھے کہ اس قسم کے غیر انسانی اور ممنوعہ ہتیار صدام استعمال کر رہا ہے جسے حکومت امریکہ کی مکمل حمایت حاصل۔البتہ زیادہ عرصہ نہیں گذرا صدام کے کیماوی حملوں سے متاثر ایرانی جوانوں کا صبر اور شہدا کا خون رنگ لایا اور صدام اپنے آقا ؤں کے ہاتھوں اتنی ذلت آمیز موت مارا گیا کہ دنیا حیران ہے۔ اب اس وقت امریکی ایما پر ایک بارپھر اسی ممنوعہ ہتیارکو صدام سے زیادہ خطرناک اور ناقابل گرفت جنگجوؤں کے حوالے کیا جارہا ہے کہ جنہیں وہ خود دہشت گرد قرار دیتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ شام کی فوج کو کیماوی ہتیار استعمال کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ شامی افواج کو کسی منظم اور منسجم فوج کا سامنا نہیں ہے بلکہ ان کے مقابلے میں پرا کندہ دہشت گرد ہیں کہ جن کو اگر غیر ملکی حمایت اور پشناہی حاصل نہ هو تو ان کو گرفتار کرنا یا سرحدوں کے پار دھکیلنا زیادہ مشکل کام نہیں اور شامی فوج کو اس سلسلے مسلسل کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک، نیز ترکی، قطر اور سعودی عرب کو یہ توقع تھی کہ بشار اسد کی حکومت دو ایک روز میں گر جائے گی اسی امید پر انہوں نے شام کے مخالفین کی ایک جلاوطن حکومت بھی تشکیل دے ڈالی لیکن اس کا بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ شام کے مخلف شہروں میں دہشت گردوں کی پے درپے شکستوں کے بعد اب امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر براہ راست جارحیت کرنے کا بھانہ ڈھونڈ رہے ہیں چنانچہ اس جارحیت کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ امریکی صدربارک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں مبینہ طور پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر اظہار تشویش کیا ہے۔ دونوں رہنماوٴں نے شامی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاوس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماوٴں نے شامی حکومت کے خلاف عالمی برادری کے ردعمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بارک اوباما کو شام کے خلاف فوجی کارروائی کے ممکنہ آپشن پر مشتمل سیکیورٹی مشیروں کی تجاویز بھی موصول ہوئی ہیں۔ان تجاویز کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ امریکا اوراس کے اتحادی شامی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا کس طرح جواب دیں گے۔ یہ دراصل وہی ایجنڈا ہے جس کے بانی سابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش کو سمجھا جتا ہے جنہوں نے 9/11 کے بعد شام کو بدی کا محور قرار دیا تھا۔امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے ایک ایسے وقت میں شامی فوج پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں کہ جب بین الاقوامی ادارے مغربی دعووں کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ چنانچہ روس نے اس بارے میں اسّی صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی اور اسی طرح اپریل مئی دو ہزار تیرہ میں اقوام متحدہ کے ایک آزاد کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ شامی باغیوں نے حلب کے نواحی علاقے خان العسل میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کیےہیں۔ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس قسم کے ممنوعہ ہتیار وہی استعمال کرسکتا ہے کہ جس کو مغرب اور خصوصا امریکہ کی حمایت حاصل ہو۔عراقی کردستان کا شہر حلبچہ صدام کی بربریت کا نشانہ بنا، اور 33 روزہ جنگ کے دوران جنوبی لبنان اور 22 روزہ جنگ کے دوران غزہ غاصب صہیونی فوجیوں کے بغض و کینے کا نشانہ بنا جبکہ خود امریکہ جاپان اور ویتنام کے نہتے اور بے گناہ عوام کے خلاف تاریخ کے انتہائی بدترین اور سنگین جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے۔یہ اقوام عالم کی بدنصیبی ہے کہ غیر انسانی اور مہلک ہتیاروں کو اسعتمال کرنے والے، دوسروں کو فروخت کرنے والے اور ان کے استعمال کی تشویق اور حوصلہ افزائی کرنے والے شام میں ان ہتیاروں کے استعمال کو اپنے لئے ریڈ لائن قرار دے رہے ہیں اور ایک ایسے اسلامی اور عرب ملک پر جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو قدس شریف پر قابض صہیونی حکومت کے خلاف فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔بہرحال سن 80 کے عشرے میں امریکی حمایت یافتہ عراقی ڈکٹیٹرصدام نے کیمیاوی ہتیار استعمال کرکے جو غیر انسانی فعل انجام دیا تھا اس سے متاثرہ جوان 30 آج برس بعد بھی انتہائی سخت اور کٹھن زندگی گذار ہے ہیں اور مختلف خطرناک اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہو کر بتدریج جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ لہذا علاقے عرب حکام خصوصا، قطر ، سعودی عرب اور ترکی کے حکام کو انسانیت کے نام پر یہ نصحیت کی جاسکتی ہے کہ اس سے زیادہ امریکہ کا ساتھ نہ دیں اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملت شام کو قربان نہ کریں اور صدام کے عبرتناک انجام کو بھی اپنے پیش نظر رکھیں کہ جو امریکی اشاروں پر سب کچھ کرنے بعد بھی نشان عبرت بن گیا۔
.......
/169