ستمبر6 پاکستان کا یوم دفاع ہے لیکن 6 ستمبر 2008روز دفاع پاکستان صدارتی انتخابات عمل میں آئے جس میں زرداری صاحب پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہوئے مذکورہ انتخاب جن حالات میں اور جس پس منظر سے عمل میں آیا ہے اس کے اندر کئی پیغام پائے جاتے ہیں جو پاکستانی قوم کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں پرویز مشرف نے تقریباً نو سال پاکستان پر حکومت کی، قوم پر خصومت کی ،فوج پر سالاری اور امریکہ کی خدمت کی، پاکستان پر زیادہ عرصہ جرنیلوں کی حکومت رہی ہے لیکن کبھی کبھار محض تنوّع کے لئے سول حکومت کو موقع دیاگیا ہے۔پاکستان میں جرنیلوں کے اقتدار کو آمریت سمجھا جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں کے اقتدار کو جمہوریت گمان کیا جاتا ہے، پاکستانی عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آمریت اور جمہوریت میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے کیونکہ عملی طور پر دونوں قسم کے طرز حکومت میں چہروں کے بدلنے کے علاوہ کسی طرح کی تبدیلی یا فرق دیکھنے کو نہیں ملا، جو بھی آیا اور جس نعرے کے ساتھ آیا ملک و عوام کے لئے تو کچھ نہیں کرسکا لیکن اپنی ذات اپنے خاندان اور اپنے ساتھیوں کے لئے البتہ بہت کچھ کر گیا، ملک کا خزانہ لوٹ کر اپنے خزانے بھرتے رہے، بڑی کامیابی کے ساتھ بیت المال کو مال البیت بنا لیا، بعض اناڑیوں نے اتنے بھونڈے طریقے سے بدعنوانیاں انجام دیں کہ ساری خلق خدا کو بھی ان کا علم ہو گیا۔کتابوں میں جمہوریت اور آمریت میں بڑا واضح فرق لکھا ہوا ہے، تاریخ میں آمریت اور جمہوریت کے درمیان جلی فرق دکھائی دیتا ہے، آج دنیا کے مختلف ممالک میں دو نوع نظام نافذ ہیں اور جس میں عملی فرق نظر بھی آرہا ہے لیکن پاکستان ایک ایسی طلسماتی سرزمین ہے جس میں ان دو متضاد نظاموں کا فرق مٹ جاتا ہے،محمود و ایاز ایک ہو جاتے ہیں، دونوں کے چہرے یکسان ہو جاتے ہیں اور دونوں کے نتائج بھی مساوی ہوتے ہیں۔کتابیں لکھنے والے معلوم نہیں کہاں پڑھ کر آئے ہیں جو بار بار اصرار کرتے ہیں کہ آمریت اس نظام کو کہتے ہیں جس میں ایک فرد کا ارادہ عوام یا جمہور پر مسلط ہوتا ہے اور ملوکیت یا آمریت میں جمہور کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی فقط آمر کی اطاعت اور فرمانبرداری ان کا کام ہے جبکہ جمہوریت میں اقتدار عوام کا ہوتا ہے حاکم عوام کانمائندہ یا خدمت گزار ہوتا ہے آمریت میں عوام حاکم کے رحم و کرم پر ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ سے یہ بتایا جارہا ہے کہ ان دونوں نظاموں کی تعریف میں اصلاح کی ضرورت ہے اورآئندہ دونوں کی ایک ہی تعریف کی جائے۔مصوّر پاکستان اور مفکر جہان حضرت علامہ اقبال ؒپاکستان بننے سے پہلے ہی فرما گئے تھے کہ دونوں مذکورہ طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں ہے فقط لبادے یا وردی کا فرق ہے ،ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے نظم میں ابلیس کے مشیر کی رائے یہ ہے: ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر! ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگرشیطان کے چیلے کی رائے یہ ہے کہ آمریت کے اوپر پڑے ہوئے پردے سے کیا ڈرنا، یہ جو آپ کو جمہوریت نظر آتی ہے یہ وہی لباس ہے جو ہم نے ملوکیت و آمریت کو پہنایا ہے کیونکہ آج کا انسان خودشناس و خود نگر ہو گیا ہے لہٰذا آمریت جمہوری لبادے کے اندر پیش کی ہے ۔ سلطنت کے عنوان سے نظم میں فرماتے ہیں: ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری گر میں گفتارِ اعضائے مجالس الاماں یہ بھی ایک سرمایہ داروں کی ہے جنگ ِزرگریمغرب کا نام نہاد جمہوری نظام در اصل وہی پرانا ساز ہے جس کے پردوں میں نوائے قیصری اور صدائے ملوکیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، استبداد و آمریت کا خوفناک دیو جمہوری قبا پہن کا رقص اور پائے کوبی میں مشغول ہے اور تم اس کا ظاہر دیکھ کرسمجھتے ہو کہ یہ آزادی کی نیلم پری ہے، پارلیمنٹ، اصلاحات ،مراعات اور حقوق سب طبِ مغرب کے خواب آور نسخے ہیں ،پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اعضا ءکی شعلہ بیانی سے الاماں، در اصل یہ جنگ ذرگری ہے یعنی ظاہری اور دکھاوے کے اختلافات اور بیانات ہیں جن کا مقصد محض عوام کو فریب دینا ہے۔مغربی جمہوریت کی اس سے بہتر توصیف ممکن نہیں ہے اس وقت پوری دنیا، خاص کر مسلمان ممالک میں جس جمہوریت کا پرچار کیا جا رہا ہے ، جس کے ٹھونسنے کے لئے جمہور کا قتل عام ہو رہا ہے وہ یہی شیطانی نظام ہے جس کے اندر استبداد ،آمریت اورسرمایہ داری کا دیو چھپا ہوا ہے آج شیطان بزرگ جس جمہوری نظام کا علمبردار بنا ہوا ہے وہ در اصل ابلیسی ملوکیت ہے انسانیت کش لشکر ہے، جس نے جہان اسلام کو نابود کرنے کا ارادہ کر لیا ہے، جس نے افغانستان اور عراق پر قبضہ کر لیا ہے اور باقی مسلمان ممالک پر اپنے مہرے مسلط کئے ہوئے ہیں ،جمہوریت کا یہ ڈھونگ پورے عالم اسلام میں رچا ہوا ہے، لیکن پاکستان کی صورت حال اس سے مختلف ہے، اس ملک میں عام تاثر کے بر خلاف جمہوریت اور آمریت کی کشمکش نہیں ہے، ملوکیت اور عوامی اقتدار کی جنگ نہیں ہے، اس سرزمین پر دو قوتیں نہیں ہیں ممکن ہے باقی ممالک میں ایسے ہی ہو بلکہ یقینا ایسے ہی ہے لیکن پاکستان میں آمریت ہے نہ جمہوریت ہے، حقیقت میں ایک تیسرے طرز کی حکومت ہے جس کا سیاسی کتابوں میں کوئی تذکرہ نہیں ہے در اصل پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کے بجائے ماموریت ہے، پاکستانی حکمران جس لبادے میں ہوں وردی میں ہوں یا دستار کے ساتھ ہوں یا معمولی لباس میں ہوں در اصل مامور ہیں جلال جرنیلی ہو یا جمال جمہوری ہو، دونوں مامور ہیں در اصل پاکستان کے نام سے ایک خطہ ارضی تو ضرور آزاد ہوا لیکن اس خطہ پر رہنے والے کبھی بھی آزاد نہیں ہوئے، غلامی کا طوق انہوں نے گردن سے ہرگز نہیں اتارا، غلاموں کو آمریت کی اجازت ہوتی ہے نہ جمہوریت کی ، ان کے لئے ہمیشہ ماموریت ہوتی ہے، انہیں آقاوں کے فرامین بجا لانے کے لئے حکومت دی جاتی ہے ،ان کا کام فقط آقاﺅں کے سامنے دُم ہلانا ہی ہوتا ہے، غلام بدلتے رہتے ہیں لیکن ماموریت نہیں بدلتی، تھکے ہوئے اور تاریخِ استعمال گزرے ہوئے، نوکروں کو بدلا جاتا ہے، ان کی ماموریت وہی رہتی ہے، قوم کی اکتاہٹ ختم کرنے کے لئے کبھی جر نیلوں کو ماموریت دی جاتی ہے کبھی سیاسی جماعتوں، کبھی صاحبان دستار کو اور کبھی مامورینِ بدکردار کو۔ ،غلاموں کا سب کچھ آقاوں کے لئے ہوتا ہے، غلاموں کے تبادلے ان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ ماموریت کے طرز حکومت میں دیگر ممالک بھی شامل ہیں اس وقت مصر، اردن، سعودی عرب، قطر ،کویت و غیرہ میں یہی نظام نافذ ہے ،پاکستان سمیت مذکورہ ممالک کے حکمرانوں کو جو ماموریت دی گئی، اس میں اپنے ممالک کو پسماندہ رکھنا ، اپنے عوام کو روز مرہ مشکلات میں الجھانا،فرقہ واریت کو ہوا دینا مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا،آقاوں کی اسلحہ ساز فیکٹریوں سے اپنے قومی سرمایہ سے اسلحہ خریدنا، مسلمان ممالک میں پست اور مبتذل ،گٹھیا کلچر کو فروغ دینا، فساد و فحشاء کو عام کرنا،نئی نسل کو مذہب و دین سے دور کرنا، غلامانہ ذہنیت بنانے والے تعلیمی نظام کو فروغ دینا، قوم کی لوٹی ہوئی ثروت سے مغربی ممالک میں املاک اور جائیدادیں خریدنا، اسرائیل کے منحوس وجود کو تسلیم کرنا، اپنی سرزمینوں کو بحرانوں کا شکار کرکے نا امن بنانا،اپنے عوام کو بجلی، آٹے جیسی روزمرہ کی ضرورتوں سے محروم کرنا، دہشت گردوں کو تربیت دینا ، اور ا ن کی سرپرستی کرنا،مسلمانوں کے اندر وحدت برقرار نہ ہونے دینا۔پاکستانی عوم نے گذشتہ ۸ یا ۹ سالوں میں اس نظام کا بخوبی تجربہ کر لیا ہے وردی پوش جرنیل نے قوم کو کس ذلت و رسوائی تک پہنچا دیا ہے، عوام کے دلوں سے فوج کی محبت کو ختم کردیا ہے،پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ بنا کر پاکستانی دشمنوں کی رسائی ان تک ممکن بنادی ہے، محسن پاکستان جناب قدیر خان کو آقاﺅں کے کہنے پر مجرم بنا کر پیش کیا، افغانستان میں پاکستان کی ساری سرمایہ کاری کو فون کال پر نابود کردیا ہے،اپنے عوام پر فوج سے حملے کروائے ہیں ،پاکستان کے ہوائی اڈے اور دیگر وسائل، امریکہ کے سپرد کر دیئے ہیں ،بلوچستان میں حماقت کرکے علیحدگی کی تحریکوں کو جنم دیا ہے، پوری دنیا میں ملک و قوم کا وقار نیچے گرا دیا ہے،پاکستان کو سیاسی طور پر تنہا کر دیا ہے،کشمیر کے ساتھ کھلی خیانت کی ہے ، پاکستان کے آئین کو بازیچہ بنائے رکھا ہے، پاکستان کے فرزندان ، عورتوں اور بچوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا ہے ،اقتصادی اور معیشتی حوالے سے ملک کو دیوالیہ بنا دیا ہے،شوکت عزیز جیسے امریکی مامور کو ملکی تقدیر کا مالک بنا دیا ہے، امریکہ کو ہر منہ مانگی مدد اور خدمت فراہم کی ہے،ملک میں سلامتی کا بحران کھڑا کیا ہے ، چند ڈالروں کے بدلے امریکہ کی جنگ میں اپنے ملک و قوم کا سب کچھ ڈبو دیا ہے ،امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ،ہر ملکی و قومی راز تک دسترسی بڑھا دی ہے، قوم کو تڑہیاں دی ہیں جبکہ امریکہ کے سامنے دُم ہلائی ہے،اس پست نوکر کی ماموریت اتنی ہی تھی جب اس سے بڑھ کر مزید کسی کام کے قابل نہیں رہا، تو اسے ہٹادیا گیا اور اس کے بجائے تازہ دم مامور میدان میں اتارے گئے ہیں جن کو مذکورہ ماموریتوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مزید فرائض بھی سونپے گئے ہیں، کھلم کھلا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ہے،اس کا نام تبدیلی، انقلاب، جمہوریت رکھا ،سادہ لوح عوام نے بھی آنکھیں بند کرکے اسے قبول کر لیا، ووٹ ڈال کر اس کا حصہ بن گئے ہیں۔اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ماموریت لینے اور اسے نبھانے کی دوڑ میں شریک ہیں، اس میں مذہبی جماعتیں بھی ہیں اور سیکولر پارٹیاں بھی شامل ہیں لیکن ان سب میں سے اُسے ماموریت سونپی جاتی ہے جو دوسروں سے بڑھ کر خدمت کر سکتا ہو، نئے فرائض میں کشمیر کو بیچنا باقی ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنا باقی ہے، معاذ اللہ ملک کو توڑنا باقی ہے، ملک کے اندر اندرونی خانہ جنگی شروع کرنا باقی ہے،افغانستان و عراق کی طرح امریکی فوجوں کے لئے میدان ہموار کرنا باقی ہے ، قدیر خان جیسے مزید کار آمد افراد کا فروخت کرنا باقی ہے ،مذہبی دہشت گردی اور فرقہ واریت میں تیزی لاکر دینی مدارس پر پابندی لگانا باقی ہے تعلیمی نصاب سے اسلامی و دینی تعلیمات نکالنا باقی ہے ،ملک کو دیوالیہ بنا کر ناکام ریاست کا اعلان کرنا باقی ہے۔ماموریت ذلیلانہ ترین نظام حکومت ہے اے کاش! پاکستان میں آمریت ہوتی ،اے کاش! پاکستان میں ملوکیت ہوتی ،اے کاش !اس ملک میں جمہوریت ہوتی، اے کاش! اس ملک میں استبداد کا دیو ہی جمہوری قبا پہن کر محوِرقص ہوتا، جو اس قوم پر ظلم تو کرتا لیکن فروخت نہ کرتا، اس ملک کو لوٹ تو لیتا لیکن دشمنوں کو نہ سونپتا، جو عوام کے حقوق چھپن لیتا لیکن اس قوم کے فرزندوں کو نا چیز ڈالروں کے بدلے موجودہ دور کے بردہ داری کے آقاﺅں کو فروخت نہ کرتا۔علامہ اقبالؒ کا فرمانا ہے کہ غلاموں کی ہر چیز مختلف ہوتی ہے ،ان کا دین بھی الگ ہوتا ہے، ان کی نمازیں بھی جدا ہوتی ہے ، ان کی سیاست بھی نرالی ہوتی ہےاور ان کی حکومت بھی سَوا ہو
6 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 406894
ماموریت ذلیلانہ ترین نظام حکومت ہے اے کاش! پاکستان میں آمریت ہوتی ،اے کاش! پاکستان میں ملوکیت ہوتی ،اے کاش !اس ملک میں جمہوریت ہوتی، اے کاش! اس ملک میں استبداد کا دیو ہی جمہوری قبا پہن کر محوِرقص ہوتا، جو اس قوم پر ظلم تو کرتا لیکن فروخت نہ کرتا، اس ملک کو لوٹ تو لیتا لیکن دشمنوں کو نہ سونپتا، جو عوام کے حقوق چھپن لیتا لیکن اس قوم کے فرزندوں کو نا چیز ڈالروں کے بدلے موجودہ دور کے بردہ داری کے آقاﺅں کو فروخت نہ کرتا۔