31 دسمبر 2012 - 20:30

سنہ دو ہزار تیرہ شروع ہونے سے ایک دن پہلے امریکی صدر باراک اوباما نے وعدہ کیا ہے کہ نئے سال میں تشدد کے مقابلے اور ہتھیار اٹھانے پر نگرانی ان کی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہوگي۔ باراک اوباما نے سینڈی ہوک اسکول میں پچیس افراد کے قتل پر منتج ہونے والی فائرنگ کو اپنی صدارت کے زمانے کا سب سے بدترین واقعہ قرار دیا۔ باراک اوباما نے ایک بار پھر اسلحے پر کنٹرول کے لۓ نۓ قوانین کی تدوین کے لۓ کمیٹی کی تشکیل کے اپنے فیصلے پر تاکید کی۔

ابنا: امریکی صدر باراک اوباما کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب  رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ سینڈی ہوک اسکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اسلحہ کی طلب میں اضافہ ہوا ہے ۔ بالفاظ دیگر ہونا تو یہ چاہۓ تھا کہ ایک اسکول میں بے گناہ بچوں کے قتل عام کے واقعے کے بعد لوگ اسلحہ رکھے جانے کی مخالفت کرتے لیکن اس کے بجائے اسلحے کی طلب اور اس کی حمایت میں شدت آئي ہے۔ اسلحے کے حامی افراد کا کہنا یہ ہے کہ ان کو پہلے سے زیادہ اسلحے سے لیس ہونا چاہۓ تاکہ وہ سینڈی ہوک اسکول میں بچوں کا قتل عام کرنے والے آدم لانز جیسے افراد کے مقابلے میں اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کر سکیں۔ اسلحہ کے حامیوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ حکومت بعض ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کے اس اقدام سے قبل زیادہ سے زیادہ جدید ترین ہتھیار خرید لینا چاہتے ہیں۔بہرحال امریکہ میں سنہ دو ہزار بارہ کے دوران لوگوں کے درمیان اسلحے کی خریداری کا رجحان اس قدر زیادہ تھا کہ حالیہ عشروں کے دوران  سب سے زیادہ اسلحہ اسی سال بیچا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں سنہ دو ہزار بارہ میں اسلحے کی فروخت کے ذریعے تقریبا دس ارب ڈالر کا منافع حاصل کیا گیا۔ اس قدر زیادہ منافع کا حصول ہی اسلحہ تیار کرنے والی کپمنیوں کو اسلحے پر کنٹرول کے قوانین کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرنے پر اکسا رہا ہے۔ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے تجویز پیش کی ہےکہ اسکول کے اساتذہ کو بھی آتشین اسلحہ اپنے پاس رکھنا چاہۓ تاکہ سینڈی ہوک اسکول جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ اگر یہ تجویز منظورکر لی گئی تو اس کے نتیجے میں آئندہ برسوں کے دوران امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں نۓ ہتھیار بنائے اور فروخت کۓ جائيں گے۔ حالانکہ اسکولوں اور اساتذہ کو مسلح کۓ جانے کے نتیجے میں سینڈی ہوک اسکول میں رونما ہونے والے واقعے سے بھی زیادہ برے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ کیونکہ اس بات کا امکان پایاجاتا ہے کہ استاد غلطی سے فائرنگ کر دے یا وہ غصے میں آکر اپنے شاگردوں کو فائرنگ کے ذریعے بھون ڈالے۔امریکہ کے بہت سے ماہرین سماجیات اور قانون دانوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران تاکید کی ہے کہ اسلحہ کے سلسلے میں اس ملک کی مشکل قوانین کا فقدان نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کی جڑیں لوگوں کے کلچر اور تشدد کی تعریف میں پیوست ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر امریکی بچے اپنی نشو و نما کے دوران ہزاروں بار ٹی وی چینلز ، سینما اور ویڈیو گیمز کے ذریعے تشدد کے واقعات دیکھیں گے تو نئے قوانین کی منظوری کا کوئي فائدہ نہیں ہوگا۔ امریکہ میں قتل کے بہت سے واقعات نفسیاتی اعتبار سے صحتمند افراد کے ہاتھوں انجام پائے ہیں ۔لیکن قانونی یا غیر قانونی  ہتھیاروں تک رسائی میں آسانی کے باعث ان افراد نے معمولی سے غصے کے موقع اسلحے کا استعمال کیا اور متعدد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس لۓ جب تک امریکہ میں اسلحے کی فراوانی ہوگي۔ اس وقت تک اس ملک میں تشدد میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا اور تشدد سے مقابلے پر مبنی امریکی صدر سمیت اس ملک کے حکام کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوں گے۔   

.......

/169