14 اکتوبر 2012 - 20:30

تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی میڈیا کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اپنے عسکریت پسندوں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

ابنا: تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ(میڈیا) کو نشانہ بنانے  اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے حوالے سے اپنے بندوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکیم اللہ محسود نے اپنے ایک اہم کارندے عباس عرف انتقامی کو ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور یہ فون کال خفیہ اداروں نے ریکارڈ کر لی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق محسود نے انتقامی کو ملالئے حملے کے بعد طالبان کو تنقید کا نشانہ بنانے والے پاکستانی میڈیا کے دفاتر اور ان کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کی ذمے داری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ فون کال سننے کے بعد حکومت نے ملک بھر کے ذرائع ابلاغ کے دفاتر کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ یاد رہے کہ ملالہ پر حملے اور طالبان کی جانب سے اس کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے تحریک طالبان پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکومت پاکستان سے ان کیخلاف کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

.....

/169