11 اگست 2026 - 17:41
طالبان حکومت کے شیعہ عہدیدار کا شیعہ مخالف پابندیوں سے انکار؛ افغانستان میں زمینی حقائق مختلف

افغانستان میں شیعہ برادری کو مذہبی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں مختلف پابندیوں کا سامنا ہے، تاہم طالبان حکومت کے نائب وزیرِ اقتصادیات عبداللطیف نظری نے بی بی سی فارسی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شیعہ مذہب کے خاتمے کی کوئی پالیسی نہیں اور شیعہ شخصیات حکومتی ڈھانچے میں فعال کردار ادا کررہی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کی پانچویں سالگرہ کے قریب پہنچنے کے دوران ملک کی شیعہ برادری میں حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کے ایک شیعہ عہدیدار نے ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں شیعہ برادری کو درپیش مشکلات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت شیعہ مذہب کے خاتمے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہی اور شیعہ شخصیات سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں فعال کردار ادا کررہی ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب وزیرِ اقتصادیات عبداللطیف نظری نے بی بی سی فارسی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ مؤقف اختیار کیا۔

نظری نے شیعہ آبادی والے صوبوں دایکندی اور بامیان کا افغانستان کے دیگر 32 صوبوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں صوبوں میں سرکاری ملازمین کی اکثریت شیعہ ہے۔

تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ان دونوں صوبوں میں کسی بھی شیعہ افغان شہری کو گورنر، نائب گورنر یا کسی اہم سرکاری ادارے کا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا۔ شیعہ افراد زیادہ تر نچلی سطح پر عام سرکاری ملازمین کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ بامیان اور دایکندی کے مجموعی طور پر 26 سرکاری محکموں میں صرف ایک محکمے کی سربراہی شیعہ اور ہزارہ شخصیت کے پاس ہے، جو دایکندی کے محکمہ صحت کے سربراہ ہیں، جبکہ دیگر تمام محکموں کی سربراہی غیر شیعہ افراد کے پاس ہے۔

عبداللطیف نظری نے اپنے انٹرویو میں طالبان حکومت کے تحت شیعہ برادری کو درپیش مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شیعہ برادری کی صورت حال بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ افغان شہری ملکی سطح پر اہم فیصلوں میں کردار ادا کررہے ہیں اور شیعہ ماہرین سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں فعال ہیں، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی دستاویز یا مثال پیش نہیں کی۔

افغانستان میں اہم قومی فیصلے طالبان کی کابینہ کے اجلاسوں میں کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا عبداللطیف نظری، طالبان حکومت میں ایک شیعہ عہدیدار کی حیثیت سے، کبھی کابینہ کے ان اجلاسوں میں شریک ہوئے ہیں؟ اگر وہ شریک ہوئے ہیں تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ انہوں نے بحیثیت شیعہ کن اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونے میں کردار ادا کیا۔

نظری نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان کے شیعہ آبادی والے علاقوں کے متعدد دورے کیے اور شیعہ عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے مطابق، ان علاقوں کے عوامی نمائندوں نے طالبان کے ساتھ تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تاہم اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران شیعہ آبادی والے علاقوں میں کتنی سڑکیں تعمیر یا پختہ کی گئیں، کتنے مراکز صحت قائم ہوئے، شیعہ بچوں کے لیے کتنے اسکول بنائے گئے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے کتنے مواقع پیدا کیے گئے اور کتنے اقتصادی منصوبے مکمل ہوئے۔

طالبان حکومت نے گزشتہ پانچ برس کے دوران مختلف علاقوں میں سیکڑوں اقتصادی منصوبے شروع کیے یا مکمل کیے ہیں، تاہم بامیان اور دایکندی میں ایسے منصوبوں کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ صورت حال شیعہ علاقوں میں متوازن ترقی کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔

’’طالبان نے شیعہ مذہب ختم نہیں کیا‘‘

عبداللطیف نظری نے واضح طور پر کہا کہ طالبان حکومت کی پالیسی میں فقہ جعفری کو ختم کرنا شامل نہیں اور شیعہ شہریوں کو ان کے شہری حقوق حاصل ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے دور میں فقہ جعفری کی تدریس کو مدارس اور جامعات سے، بالخصوص مکمل طور پر شیعہ آبادی والے صوبے بامیان کی یونیورسٹی سے، ختم کردیا گیا ہے۔

اسی طرح محرم کے دوران مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیے جانے، گھروں اور سڑکوں سے عزاداری کے پرچم اتارے جانے اور مذہبی مراسم منعقد کرنے پر بعض شیعہ عمائدین کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، شیعہ علما، طلبہ اور سماجی کارکنوں کو بھی مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔ مزید برآں، شیعہ شہریوں کے عائلی معاملات میں فقہ جعفری کو تسلیم نہ کیے جانے اور فقہ حنفی کے اطلاق پر بھی اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔

طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ اور کابینہ کے بعض وزرا، جن میں وزیرِ اعلیٰ تعلیم اور وزیرِ امر بالمعروف بھی شامل ہیں، متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ افغانستان میں صرف ایک مذہب یا فقہی مکتب کو تسلیم کیا جاتا ہے اور وہ فقہ حنفی ہے۔ تاہم عبداللطیف نظری کا مؤقف اس سے مختلف نظر آتا ہے۔

گزشتہ پانچ برس کے دوران طالبان حکومت میں مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں، تاہم شیعہ عہدیداروں کی حیثیت اور نمائندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ ناقدین کے مطابق یہ صورت حال طالبان حکومت کی جانب سے شیعہ برادری کی سیاسی اور انتظامی نمائندگی کے حوالے سے کسی واضح مثبت پالیسی کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha