جس معاشرے میں امن وامان نہیں ہوتا وہ تباہ برباد ہوکر نابودی کی دہلیزپر پہنچ جاتاہے اسی بنا پر دین اسلام نے انسانیت کی بقاکے لئے امن وامان پر کافی زور دیاہے ۔امن و سکون تک رسائی کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے مقصدایمان واسلام بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ دین اسلام میں امن و سکون کو بہت اہم اور جامع مقام حاصل ہے ۔ اس الہی دین میں ایمان کا لفظ امن سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہر طرح کے اضطراب اور تشویش سے نجات کے ہیں۔جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ امن و سکون تک انسان کی رسائی اور اس کے ایمان کے درمیان گہراتعلق ہے ۔لیکن افسوس کہ سامراج کے ہاتھوں کاکھلونہ بن جانے والامسلمان ایمان سے بالکل لاتعلق ہوگیاہے ۔جس دین نے مسلمانوں کوامن کادرس دیا ہے اسی کی پیروی کادعوی کرنے والے دوسرے مسلمانوں کی زندگی ناامن کئے ہوئے ہیں۔جس رسول (ص) نے مسلمان کویہ پیغام دیا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اورزبان سے دوسرے مسلمان کوتکلیف نہ پہنچے اسی رسول کی پیروی کادعوی کرنے والامسلمان آج دوسرے مسلمان کی گردن کاٹے دے رہا ہے صرف اس جرم میں کہ اس کے خیالات ذرا مختلف ہيں ۔ پاکستان میں آئے دن مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کاقتل اس کاسب سے بڑاثبوت ہے ۔آپ نے بھی خبروں میں سنا ہوگاکہ پاکستان میں روڈ پر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے پچیس افراد افراد شہید ہوگئے ۔ یہ افراد پبلک ٹرانسپورٹ میں راولپنڈی سے گلگت جا رہے تھے ۔ بی بی سی اردو کے مطابق کالعدم تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی طالبان کے المنصورین گروپ نے کی، جس کی سربراہی گروپ کے امیر طارق منصور خود کر رہے تھے۔ اس سے پہلے گلگت جانے والے مختلف راستوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں، جن میں متعدد افراد شہید ہوچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق راولپنڈی سے گلگت جانے والی تین مسافر گاڑیوں کو بابو سر روڈ پر لولوسر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے روک لیا اوران گاڑیوں میں سوار افراد کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اْنہیں گاڑیوں سے اْتار لیا پھرقطارمیں کھڑا کرکے گولی مار دی۔ رمضان المبارک کے آخری دنوں میں عید سے چند روز قبل ٹی ٹی پی کی سفاکی کا نشانہ بننے والے ان مسافروں میں ایک بڑی تعداد ان جوانوں کی تھی جو عید کی چھٹیوں کے موقع پر اپنے وطن واپس جا رہے تھے ، تاکہ اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوست احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ لیکن راستے ہی میں ان کے بچوں کی خوشیاں چھن گئيں۔یہ اطلاع ملتے ہی پاکستان کے مختلف علاقوں میں لوگ سڑکوں پرنکل آئے اور اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے اس طرح کے واقعات کوروکنے کامطالبہ کیا۔ مختلف شخصیات کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی جارہی ہے۔ حتی اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بھی اس واقعے پر خاموش نہ رہ سکے اورانھوں نے مسافربسوں پر فائرنگ کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر انسانوں کا قتل خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر کسی انسان کو قتل کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاواقعی پاکستان میں آئے دن رونماہونے والے یہ واقعات صرف مذہبی بنیادوں پرہورہے ہیں یاکوئي معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں؟کیونکہ جس مکتب فکرکے حامل مسلمان پاکستان میں ہیں اس عقیدے اورمسلک کے مسلمان دنیاکے دوسرے کئ ملکوں میں بھی ہیں لیکن وہاں اس طرح کے واقعات آخرکیوں رونما نہيں ہوتے ؟پاکستان میں اس طرح کے واقعات کوکیسے روکاجائے ، اس سلسلے میں جہاں تک پاکستانی حکومت کاسوال ہے تواس کی طرف سے توکھوکھلے بیانات اوراظہارافسوس کے سواکسی طرح کی امید نہيں کی جاسکتی کیونکہ ان کی ساری توانائی امریکہ سے تعلقات برقرارکرنے میں ہی ختم ہورہی ہے ہاں علماء اسلام سے بہرحال امیديں وابستہ کی جاسکتی ہیں وہ بھی اس صورت میں جب وہ اپنی ذمہ داری کااحساس کریں۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ یہ ذمہ داری دونوں مسلک کے علماء پرعائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو بتائيں کہ حقیقی عالم کون ہے اور امریکی عالم کون ہے علماء کا فرض ہے کہ وہ صرف اس طرح کے واقعات پرافسوس یامذمت پراکتفانہ کریں بلکہ فرقہ پرستی پرمبنی نظریات کی تبلیغ وترویج کوباطل اورحرام قراردینے کے لئے ملک گیرتحریک شروع کریں اوراتحاد بین المسلمین کاعملی مظاہرہ کریں جسے عوام نہ صرف محسوس کریں بلکہ اس پرعمل کریں اوران کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ جس کے ہاتھ یا زبان سے کسی کلمہ گوکوتکلیف پہنچے وہ مسلمان نہيں ہے تاکہ مسلمانوں کے جان ومال کابھی تحفظ کیاجاسکے اورمملکت خداداد پاکستان کوبھی بکھرنے سے روکاجاسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
18 اگست 2012 - 19:30
News ID: 337869
انسانی معاشرےکے لئے امن وامان اتنا ہی ضروری ہے جتنا دل کے لئے خون کی گردش ، کیونکہ اگر معاشرے میں امن وسکون نہيں ہوگا تو کاروان انسانیت اپناسفر جاری نہيں رکھ سکے گا۔