ابنا: میکسیکو کی ایک انقلابی پارٹی کے امیدوار ایزک پینا نئے ٹو گذشتہ اتوار کو اس ملک کے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں اور ملک کے انتخابی کمیشن نے بھی ان کی کامیابی پرتائیدی مہر ثبت کردی ہے۔
انتخابی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق لوپز اوبرایڈ ور نے اس انتخاب میں پینائے ٹو سے چھ فیصد کم ووٹ حاصل کئے ہیں۔
حکمراں جماعت کی نامزد امیدوار جوزفینا ویزکزموٹا نے بھی انتخابات کے نتائج پر اعتراض کیا ہے اور میکسیکو کے صدر مملکت، فیلیپ کالڈرون نے بھی عدلیہ اور انتخابی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسلہ کے حل کے لئے جلداز ٹھوس اقدامات کریں اور اس بحرانی کیفیت سے عوام کو نجات دلائیں۔
مظاہرین اور پینا نئے ٹو کے مخالفوں نے ان پر ووٹوں کی خرید و فروخت اور قرض دینے کےوعدے جیسے الزام عائد کیئے ہیں البتہ مظاہرہ کرنے والوں کی تشویش کی ایک اصلی وجہ انقلابی پارٹی کی ستر سالہ قانونی حکومت کی دوبارہ واپسی کا خوف ہے ۔
اس انقلابی پارٹی نے اکہتر سال تک میکسیکو پر حکومت کی ہے اور آج تک اس حکومت کی زیادتیاں لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔
اس وقت حکومت کے اکثر مخالفین نے جو لوپز اوبرایڈ ور کے حامی ہیں ، اب تک تیس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حالا نکہ بیسویں صدی میں حکومت کے مخالفین اتنا زیادہ منظم نہ تھے۔
میکسیکو کے صدرارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار، پینانئے ٹو، کو ان منظم گروہوں کی مخالفت سے اسی لئے تشویش لاحق ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمیں دوبارہ خدمت کا موقع دیا ہے یہ یاد رکھیں کہ ہم لوگ اس پارٹی کی نئی نسل ہیں اور کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حالا نکہ بعض لوگوں نے اس انقلابی پارٹی کو ایک ڈکٹیٹر اور غیر جمہوری پارٹی کا نام دیا ہے اور اس بات پر گواہ ان کی ستر سالہ حکومت ہے حالانکہ ہر چھ سال میں ایک مرتبہ انتخابات ہوئے تھے لیکن ہر مرتبہ وہی امیدوار کامیاب ہوتا تھا جس کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی تھی۔
ایسے عالم میں جب کا مانوئل لوپز اوبرایڈ ور کی سربراہی میں ڈیموکریٹک انقلابی پارٹی کو ملک کے متوسط اور نچلے طبقے کی حمایت حاصل رہی اور اس کے علاوہ جن لوگوں نے امیدواروں کے منصوبوں کا جائزہ لیا انہوں نے اوبرایڈ ور کو ووٹ دیاہے۔
ان امور کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بنتخاب میں میکسیکو کے انچاس ملین افراد میں سے کم سے کم تیس ملین افراد نے اوبرایڈ ور کو ووٹ دیا ہے اس کے باوجود اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان کےحریف نئے ٹو ایک مستحکم اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔.......
/169