22 جنوری 2012 - 20:30

واقعہ قتل مأمون کے دور میں ہی مشہور ہوا / امام اور آپ کے آباء و اجداد علیہم السلام نے طوس میں آپ (ع) کی شہادت کی پیشین گوئی کی تھی۔

بقلم: مرحوم ڈاکٹر سید جعفر شہیدیترجمہ و تشریح: ف.ح.مہدوی

بعض فرقوں کے نزدیک ہر حاکم واجب الاطاعت ہے اور اس کے خلاف قیام جائز نہیں خواہ وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرتا ہو یا مقدسات کی توہین ہی کیوں نہ کرتا ہو!اس عقیدے کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ حاکم وقت اولاد رسول اللہ (ص) کا خون ہی کیوں نہ بہائے اس کی اطاعت واجب ہے اور اس کی نافرمانی حرام اور ناجائز ہے۔ اہل حدیث، عام اہل سنت، (امام اشعری سے پہلے اور اس کے بعد)؛ امام اشعری کا خود یہی عقیدہ تھا۔ اس عقیدے کا ایک سرا مرجئہ طرز فکر سے بھی ملتا ہے جہاں افراد کا گناہ ان کا ذاتی عمل ہے اور اس عمل کا حساب و کتاب اللہ کے پاس ہے اور انسانوں کو ان کا محاسبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور تمام افراد چاہے کسی بھی عمل کا ارتکاب کریں قابل احترام ہیں اور قابل مؤاخذہ نہیں ہیں۔  یہ عقیدہ کلی طور پر حکمرانوں کو قانون اور شریعت سے بالاتر ثابت کرنے کے لئے استعمال ہوا ورنہ عام لوگوں کے لئے عدالتیں قائم تھیں اور ان کو معمول کے مطابق سزائیں ملتی تھیں اور ان علماء نے کبھی بھی انہیں گناہوں سے بری الذمه قرار نہیں دیا!. ان لوگوں نے اپنے عقائد کی توجیہ کے لئے بعض احادیث بھی رسول اللہ (ص) سے منسوب کررکھی ہیں۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا یہ عقیدہ اور مذکورہ جعلی احادیث قرآن کی نص صریح اور حکم عقل کے بالکل برعکس ہیں۔ یہ عقیدہ بہت سے مؤلفین کے افکار پر اثر انداز ہوا، حتی ان کے بزرگ علماء اور فقہاء بھی اسی عقیدے سے متأثر ہوئے اور اسی بنا پر حکام کے جور و ستم پر پردہ ڈالنے اور ان کے برے اعمال کی تأویل و توجیہ پر مجبور ہوئے۔ حکام کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کے حقائق کو لوگوں سے خفیہ رکھا جائے یا پھر ان حقائق کو من پسند انداز سے یوں بیان کیا جائے کہ ان کا اثر معکوس ہو۔ اس سلسلے میں درباروں سے وابستہ یا اپنے عقیدے سے مجبور ہوکر حکام کی بساط پر بیٹھنے والے علماء، مورخین اور مؤلفین نے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا اور چونکہ ان کے جبری عقیدے کے مطابق حکام کا ارادہ اللہ کا ارادہ تھا چنانچہ انھوں نے حکام کے ارادے کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش کی؛ اسی بنا پر بہت سے کتابوں میں حتی ائمہ اہل بیت (ع) کا کردار بیان کرنا تو دور کی بات، ان کے اسماء گرامی بھی ذکر نہیں کئے گئے۔ اس امر کا سبب یہ نہیں تھا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام گمنام تھے یا وہ معاشرے میں خدمت دین کے حوالے سے کام نہیں کررہے تھے یا عوام ـ حتی علماء ـ ان کو توجہ نہیں دیتے تھے۔ بلکہ سبب وہی تھا جس کی طرف اشارہ ہوا ورنہ لوگ یا تو ان کے دوست اور محب تھے یا پھر ان کے دشمن یا مخالف تھے اور دونوں صورتوں میں ان کا کسی نہ کسی انداز میں ائمہ علیہم السلام کے ساتھ واسطہ پڑہی جاتا تھا تا ہم کئی کتابوں میں ان کے نام ذکر کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے۔ جبکہ ان ہی کتابوں میں اس دور کی رقاصاؤں اور گلوکاراؤں کے نام یا اس دور کے مشہور ڈاکؤوں کے نام پڑھنے کو ملتے ہیں! اگر اس مسئلے کا دینی پہلو نظر انداز بھی کیا جائے پھر بھی ادب اور تألیف و تصنیف اور تاریخ نویسی کی دنیا اور اخلاق قلم و کتابت کی روسے یہ ایک پیشہ ورانہ خیانت ہے انھوں نے اپنے دور کے حقائق سے چشم پوشی کرکے آئندہ مسلم نسلوں سے خیانت کی ہے اور اہل قلم ہونے کے ناطی انہیں جو امانت بعد کی نسلوں تک پہنچانی تھی اس میں وہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حکومت ان ہی مستوفیوں، منشیوں اور تحصیلداروں کی حمایت کرتی تھی یا یوں کہئے کہ حکومت ان کے ہاتھ میں تھی چنانچہ تشریح حقائق کے حوالے سے اہل تشیع کے پاس تألیف و تصنیف کے لئے بہت ہی قلیل وسائل میسر تھے اور انہیں ہر وقت حکام اور اہل دربار کے عتاب و تعاقب کا سامنا تھا اور ان کی جان ہر وقت خطرے میں رہتی تھی۔بہر حال حکام وقت مختلف علماء اور دانشوروں کو دور افتادہ علاقوں سے اپنے پاس بلوایا کرتے تھے اور اس بات سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ائمۂ طاہرین علیہم السلام علم و دانش کی چوٹی پر تھے تو پھر حکام ان کے ساتھ کیوں عداوت برتتے تھے کیا یہ حکام کے عمل میں تضاد کی علامت نہیں ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ: 1۔ خلفاء کی اہل بیت علیہم السلام کی دشمنی کا سبب یہ تھا کہ ان سب کو معلوم تھا کہ امت اسلامی پر حکمرانی کا حق ائمہ طاہرین علیہم السلام کا ہے چنانچہ مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں قتل کرکے اس حق کو پامال کیا کرتے تھے۔2۔ ائمۂ معصومین کبھی بھی حکام کی تأئید نہیں کرتے تھے اور کبھی بھی ان کے کردار سے خوشنودی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔3۔ ائمۂ طاہرین علیہم السلام اپنے طرز سلوک اور با اثر سماجی شخصیت کے حامل تھے اور معاشرے میں ان کا بہت گہرا اثر و رسوخ تھا چنانچہ حکام ان کی طرف سے اپنی حکومت و اقتدار کے لئے ہر وقت خطرہ محسوس کرتے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ حکام علماء اور فقہاء کی حمایت کیوں کرتے تھے اور وہ ان علماء کی سرپرستی کیوں کرتے تھے؟اس سوال کا جواب یہ ہے:1۔ اس طرح علماء ـ جو معاشرے کے آگاہ افراد تھے اور معاشرے میں ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ـ حکام کے زیر تسلط قرار پاتے تھے اور حکام انہیں حکومت کے مفاد کی حدود میں رکھتے تھی۔2۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکام ان ہی علماء کے ذریعے بہت سے مشکل منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے تھے۔3۔ علماء کی سرپرستی کرکے عوام کو باورکراتے تھے کہ ان کے حکمران علم دوست ہیں اور علماء کی تکریم کرتے ہیں اور اس طرح وہ معاشروں کا اعتماد حاصل کیا کرتے تھے اور اہل بیت (ع) کے ساتھ اپنی دشمنی سے وجود میں آنے والے سماجی بدظنی کی تلافی بھی کیا کرتے تھے اور سادہ دل عوام ان کی اہل بیت دشمنی کو نظرانداز کرجاتے تھے۔4۔ علماء کی تکریم کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ حکام ان کو اپنے گرد جمع کرکے ائمۂ طاہرین علیہم السلام کا نورانی چہرہ عوام کی نظروں سے چھپا دیتے تھے تا کہ وہ ائمہ (ع) کو فراموش کردیں۔اور ہاں علماء کی تکریم کا سبب ہرگز یہ نہ تھا کہ حکام کسی خاص مذہب سے تعلق رکھتے تھے ان کا مذہب تو اقتدار تھا اور حکام کی طرف سے علماء کی تکریم و تعظیم بھی غیرمشروط نہیں تھی بلکہ ان کی حمایت اس وقت تک جاری رہتی تھی جب تک وہ متعینہ حدود میں رہ کر سرکاری مقاصد کے حصول میں معاون رہتے تھے اور جب ان کا کردار حکومت کے متعینہ سیاسی اہداف سے متصادم ہو جاتی تو وہی حکام ان ہی علماء کو سزائیں بھی دیتے تھے یہاں تک کہ بعض اکابرین علماء اہل سنت جیلوں میں ہی انتقال کرگئے۔ چنانچہ علم اور عالم متعینہ سرکاری اہداف کے دائرے میں محترم تھے۔احمد امین المصری عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: "منصور معتزلیوں کو ضرورت کے وقت اپنے پاس بلایا کرتا تھا اور محدثین اور علماء کو بھی دعوت دیا کرتا تھا اور یہ دعوتیں اس وقت تک ہوتی تھیں جب تک ان (معتزلیوں اور علماء و محدثین) کا کردار اس کے اقتدار سے متصادم نہیں ہوتا تھا اور اگر ان کے کردار اور سلطان کے اقتدار میں ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوتی تو انہیں بلا تکلف منصور کی سزائیں بھگتنا پڑتی تھیں"۔ (1) منصور دوانیقی وہی بادشاہ ہے جس نے حنفی مسلمانوں کے امام ابوحنیفہ کو زہر کا جام پلایا اور ساتھ ہی امام جعفر الصادق علیہ السلام اور آپ (ع) کے شاگردوں کے ساتھ بہت ناروا سلوک روا رکھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ منصور محمد بن‌ عبداللہ‌ علوی کے قیام کی وجہ سے امام (ع) کا مخالف ہوچکا تھا۔ (2) بہرحال حکام کی کوشش ہوتی تھی کہ ائمہ علیہم السلام کے حقائق بیان نہ ہوں یا توڑ مروڑ کر بیان کئے جائیں اور اس سلسلے میں علماء کہلانے والے افراد کی حمایت حاصل کیا کرتے تھے۔چنانچہ اگر کہا جائے کہ ابن اثیر، طبرى، ابوالفداء، ابن العبرى، یافعى اور ابن خلكان ان ہی علماء میں سے تھے جنہوں نے حقیقت اور تاریخ سے خیانت کی اور واقعات تاریخ کی تألیف میں بے انصاف تھے اور انھوں نے پیشہ ورانہ غیرجانبداری کا لحاظ ہرگز نہ رکھا، تو یہ عین حقیقت ہوگی۔ ان لوگوں کی ناانصافی، تعصب اور حکام جور کی اندھادھند متابعت کی ایک اہم دلیل امام رضا علیہ السلام کے بارے میں ان کی تحریریں ہیں۔ اچھا تو ان سب نے لکھا ہی کیا ہے کہ اتنی شدت سے ہماری تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں؟ہاں انھوں نے لکھا ہے: امام رضا علیہ السلام نے انگور کھانے میں زیادہ روی کی اور اسی وجہ سے انتقال کرگئے!!!؟ ۔(3)ابن خلدون نے بھی علم و فن کے ہر شعبے میں قلم فرسائی کی ہے اور حدیث کے حوالے سے تو انہیں سنی علماء کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے اور اس نے تاریخ و سیاست کے بارے میں بھی لکھا ہے اور عقائد و کلام کے بارے میں چنانچہ اس نے بھی ـ جو اموی مذہب تھا ـ ان ہی لکھاریوں کی پیروی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: «جب مأمون طوس میں داخل ہوا اسی وقت امام رضا (ع) انگور کھانے میں زیادہ روی کے باعث ناگہانی طور پر گذر گئے»۔ (4) ہم یہاں ان یاوہ گوئیوں پر تبصرہ نہیں کرتے بلکہ اپنے قارئین سے تبصرہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں؛ کتنی عجیب ہیں یہ باتیں اور ایک اہل قلم کا مقام کتنا اونچا ہوتا ہے ان بے قدر و قیمت باتوں سے؟اتنا بتانا البتہ ضروری ہے کہ ائمۂ معصومین علیہم السلام کھانے پینے اور دیگر دنیاوی امور میں نہایت متوازن تھے اور ان کے زہد و پارسائی کا تو دشمن بھی انکار نہیں کرسکتے اور پھر وہ تمام علوم و فنون کے امام تھے اور انہیں حدود کا علم تھا اور یقینا کوئی عام سا عقلمند شخص بھی کھانے پینے میں زیادہ روی کے انجام سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور کبھی بھی خودکشی نہیں کرتا چہ جائےکہ وہ فرد ایک امام معصوم ہو۔تاہم ایسی باتیں لکھنے کا سبب تعصب اور حقائق سے اعلانیہ چشم پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور کوئی بھی با ضمیر اہل قلم ایسے امام سے ایسے سخیف عمل کی نسبت نہیں دے سکتا۔ اور پھر ہم بھی اتنے زمانی فاصلے کے باوجود اپنی عقل و ضمیر کی طرف رجوع کریں تو ایسی یاوہ سرائیوں کی تصدیق نہیں کرسکتے کیونکہ کسی امام کے بارے میں ایسی کوئی صفت کسی بھی دوست یا دشمن نے ذکر نہیں کی ہے۔امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں مختلف آراء:مذکورہ بالا رائے کو کوئی بھی علمی اہمیت حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ امام علیہ السلام کی زندگی کے حالات میں غور کرنے سے آپ (ع) کی سیرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے چنانچہ ہم نے اس رائے کو شہادت کے بارے میں مختلف آراء میں شامل نہیں کیا۔دیگر مؤرخین نے مختلف آراء بیان کی ہیں جو ناہماہنگ ہیں اور ان کے نقطہ ہائےنظر میں وحدت کا فقدان ہے جس کی طرف آنے والی سطروں میں اشارہ ہوگا۔* بعض مورخین نے صرف اس حادثے کی رپورٹ دی ہے اور اس کی کیفیت اور اسباب و عوامل کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے اور صرف بر سبیل تردد متذکر ہوئے ہیں کہ «کہا جاتا ہے کہ آپ (ع) کو زہر دیا گیا اور آپ (ع) انتقال کرگئے»۔ جیسا کہ یعقوبی نے اپنی تاریخ کی جلد دوئم کے صفحہ 80 پر اشارہ کیا ہے۔* بعض دیگر نے تسلیم کیا ہے کہ امام کو مسموم کیا گیا مگر ان کی رائے یہ ہے کہ یہ جرم عباسیوں نے کیا ہے [جبکہ مامون اس سے بری الذمہ تھا]۔ سیدامیرعلی کی رائے بھی یہی ہے۔ اور احمد امین المصری نے بھی یہی رائے نقل کی ہے۔ (5)ا