ابنا: علامہ اقبال کی آواز کانوں میں گونج رہی ہے: مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ مشرق سے سورج ابھر رہا ہے اور اس کی کرنیں مغرب کی تاریک گلیوں کو بھی روشن کر رہی ہیں۔2012ء کئی ظلمت کدوں کو مزید تابناک کر کے رخصت ہو گا۔ انشاءاللہ تاریخ کے لیے کسی زیرو پوائنٹ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ ہر واقعے کے پیچھے واقعات کی ایک چین اور زنجیر ہوتی ہے۔ آنے والے سال کے لیے امیدوں اور خدشات کی بات کرنے سے پہلے ہم گذشتہ سال پر ایک سرسری نظر ڈالیں گے کیونکہ آج جب ہم نئے عیسوی سال میں داخل ہو رہے ہیں تو تاریخ ایک طویل سفر طے کر کے ایک خاص مرحلے میں ہے۔ جیسے پیچھے سے آتی ہوئی دریا کی موجیں ہمارے سامنے سے آگے کی طرف گزر جاتی ہیں اسی طرح تاریخ گذشتہ سال کی روانی اور لہروں کے ساتھ اس زمین کے باسیوں کو اگلے سال کے لمحوں اور گھڑیوں کے حوالے کرنے لگی ہے۔
گذشتہ سال اپنے واقعات اور تاریخی بہاﺅ کے حوالے سے نہایت ہنگامہ خیز اور تبدیلیوں کا سال تھا۔ یہ تبدیلیاں اُس وقت انقلابی لہروں کی شکل اختیار کر گئیں جب تیونس کے پسماندہ اور بپھرے ہوئے عوام گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ پھر کیا تھا ایک کے بعد دوسرے ملک میں انقلاب کے تھپیڑوں نے شاہی محلات کے دروازوں پر دستک دینا شروع کر دی۔ تیونس کے آمر کو جب ان کے آقاﺅں نے پناہ دینے سے انکار کر دیا تو سعودی شاہی خاندان نے اپنے دوست کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ جیسے کسی زمانے میں مصر کے ڈکٹیٹر سادات نے ایران کے ٹھکرائے ہوئے بادشاہ کو پناہ دی تھی۔ تیونس کے عوام سے حوصلہ پا کر مصر کے عوام بھی بپھر گئے۔ قاہرہ کا میدان تحریر حریت پسندوں سے چھلکنے لگا۔ اسرائیل اور امریکہ کا پسندیدہ اور عوام کا دھتکارا ہوا بوڑھا آمر حسنی مبارک مصری عوام کی نظروں میں منفور ترین شخص قرار پایا۔ علاقے کے دیگر آمروں سمیت اس کے عالمی سرپرستوں نے اسے بچانے کی بہت کوشش کی، لیکن اب تاریخ اس کو مزید مہلت دینے کو تیار نہ تھی۔ اقتدار کے ڈولتے ہوئے سنگھاسن سے آخر وہ بھی لڑھک گیا۔ لیبیا کا آمر بھی اپنے انجام کو پہنچا۔
یمن میں طوفانی ہوائیں ابھی تھمی نہیں۔ بحرین کے عوام اپنی انقلاب پسندی کی بھاری قیمتیں ابھی ادا کر رہے ہیں۔ مراکش کے بادشاہ کو آخر کار اپنے بعض اختیارات سے دستبردار ہونا پڑا ہے، اسلام پسند جماعت نے وہاں انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنی تجوری کا کچھ منہ کھولا ہے، تاکہ انقلابی لہروں کے آگے کچھ بند باندھا جا سکے۔ اردن کے عوام کے دلوں میں بھی انقلاب کروٹیں لے رہا ہے۔ عراق سے رسوائیاں سمیٹ کر امریکی اور برطانوی افواج نکل چکی ہیں۔ افغانستان میں ناکامی امریکی غرور پر خندہ زن ہے۔
پاکستان میں امریکی شمسی ایئر بیس خالی کر کے جا چکے ہیں اور ہمیشہ سے امریکہ کی ساتھی پاک فوج اس پر اب مزید اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ باہر سے لا کر بسائے گئے یہودی صہیونی ریاست کے مستقبل سے پرامید نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کے حوصلے پہلے سے کہیں بڑھ چکے ہیں۔ ترکی کے عوام نئی کروٹ لے چکے ہیں اور وہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کا انتقام لینے کے لیے بے چین ہیں۔
شام میں استعماری اور رجعت پسند قوتیں اپنی ہاری ہوئی جنگ کے آخری مورچے پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں تاکہ اسرائیل کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑا رہنے والا یہ مورچہ کسی صورت جانباز مجاہدوں کے قبضے سے چھڑوایا جا سکے۔ قاہرہ کا میدان تحریر پھیل کر وال اسٹریٹ آکوپیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ میدان تحریر ہی کو انگریزی میں فریڈم اسکوئر کہتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کی علامتوں کے چراغ اک اک کر کے بجھ رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے بینک دیوالیہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور یونان کے داخلی قرضے تاریخی حدود کو پار کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہم 2012ء میں داخل ہو رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالات کی یہ طوفانی موجیں کس مرحلے میں اور کس علاقے میں کونسا رخ اختیار کریں گی، کہاں پر بند باندھا جائے گا اور کہاں بند میں شگاف ڈالا جائے گا، کہاں پر طوفان آئے گا اور کہاں طوفان سونامی کی شکل اختیار کرے گا۔؟ کیا دنیا پر حکمران طاقتیں سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں۔؟ کیا ان کی ترکش کے تیر ختم ہو گئے ہیں۔؟ کیا دنیا پر قبضہ جاری رکھنے کا ان کا عزم کمزور پڑ گیا ہے۔؟ کیا انھوں نے نئی سازشیں اور تدبیریں نہیں کیں۔؟ جو ان کے بارے میں ایسا خیال کرے اسے احمقوں کی جنت کا باسی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کی جگہ پر بڑی خوبصورتی سے اقتدار فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس کے جرنیل مصری عوام سے زیادہ امریکہ کے وفادار ہیں۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی میں خلیج تعاون کونسل کے نام پر بظاہر مسلمان فوجوں کو داخل کیا گیا ہے، تاکہ اس کو خلیج کا، عربوں کا اور علاقے کے بادشاہوں کا اپنا معاملہ قرار دیا جا سکے یا پھر مسئلے کو شیعہ سنی معاملہ بنا دیا جائے۔
لیبیا پر نیٹو کے طیاروں کو آزمایا گیا اور اس کے لیے سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے استفادہ کیا گیا۔ یمن میں بھی خلیج تعاون کونسل کا نسخہ مفید قرار دیا گیا ہے۔ شام میں عرب لیگ کا ڈول ڈالا گیا ہے۔ عراق میں شیعہ سنی جھگڑے کو ہوا دینے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اور یہاں مداخلت کے لیے بھی عرب لیگ کو تیاری کی حالت میں رہنے کو کہہ دیا گیا ہے۔ ایران کے خلاف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مزید بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ پاکستان پر امداد کی بندشیں شروع ہو چکی ہیں اور اس طرح ہر روز کوئی نیا دام ہم رنگ زمین مداری کی پٹاری سے باہر نکل رہا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ عین ممکن ہے کہ کسی اونچی جگہ بیٹھا ہوا کوئی تماشائی یہ کہہ رہا ہو۔ بازیجہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے لیکن تاریخ انسانی شہادت دیتی ہے کہ نیکی اور بدی کی قوتیں ہمیشہ اسی طرح برسر پیکار رہی ہیں۔ طاغوتی اذہان نئے سے نئے جال بنتے رہے ہیں۔ مکرو فریب کی قوتیں نئے حیلے تراشتی رہی ہیں لیکن یہ کائنات کسی منصوبے کے بغیر معرض وجود میں نہیں آ گئی، اس کے پیچھے کوئی کار ساز ذہن ہے، کوئی باشعور ذات جو شیطانی مکاریوں کے مقابلے میں اپنی تدبیریں کرتی رہتی ہے اور اس کی تدبیریں ہمیشہ غالب رہتی ہیں جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے: مکرواومکراللّٰہ واللّٰہ خیرالماکرین دنیا کے بزعم خویش حکمرانوں کو کیا خبر تھی کہ تیونس سے اٹھنے والی چنگاری بیداری کے نور کا فوارہ بن جائے گی، جن نابغہ روزگار ہستیوں نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سوویت یونین کے زوال کی پیش گوئیاں کی تھیں انھوں نے ہی سرمایہ داری کے نظام کے ڈوبنے کی پیش گوئیاں بھی کر رکھی ہیں۔ علامہ اقبال کی آواز کانوں میں گونج رہی ہے: مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ مشرق سے سورج ابھر رہا ہے اور اس کی کرنیں مغرب کی تاریک گلیوں کو بھی روشن کر رہی ہیں۔2012ء کئی ظلمت کدوں کو مزید تابناک کر کے رخصت ہو گا۔ انشاءاللہ
...............
/169