19 دسمبر 2011 - 20:30

يمن کے مختلف شہروں ميں حکومت مخالف مظاہرے جاري ہيں

ابنا: يمن کے دسيوں ہزار شہريوں نے ملک گير مظاہروں ميں شرکت کرکے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا - يمني باشندوں کا کہنا ہے کہ مظاہرين کا قتل عام کرنے کے جرم ميں عبداللہ صالح کو عدالت کے کٹہرے ميں لايا جائے گا - مظاہرين نے اسي طرح اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل سے بھي مطالبہ کيا کہ وہ عبداللہ صالح پر مقدمہ چلائے جانے کا راستہ ہموار کرے-

دوسري جانب يمن کے حوثي گروہ کے سربراہ سيد عبدالمالک بدرالدين الحوثي نے اپنے ايک پيغام ميں خبردار کيا ہے کہ ملک ميں فرقہ وارانہ اختلاف پيدا کرنے کي کوشش کي جارہي ہے- انہوں نے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک امريکا کے ساتھ مل کر يمن ميں مذہبي اختلافات کو ہوا دينے ميں لگے ہوئے ہيں -سيد عبدالمالک بدرالدين الحوثي نے يمن کے عوام سے کہا کہ وہ علاقے کے بعض ممالک کي طرف سے کي جانے والي ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کريں کيونکہ يمني عوام صديوں سے مختلف قبائل کي صورت ميں پرامن اور مفاہمت آميز زندگي بسر کررہے ہيں-

حوثي جماعت کے سربراہ نے کہا کہ جس طرح سے لبنان اور عراق ميں فرقہ وارانہ اختلاف کي آگ بھڑکانے کا کوئي نتيجہ نہيں نکلا اسي طرح يمن ميں بھي يہ سازش ناکام ہوکر رہے گي -........

/169