ابنا: کربلائے معلی کے ایک عالم دین، آیت الله سید محمد تقی مدرسی نے ایک بیان میں مصر کے حکام کو حکومت چھوڑنے کی نصیحت کرتے ہوئے امت اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ملک میں امن و امان اور اتحاد و یکجہتی کا تحفظ کریں۔
اانھوں نے کہا کہ دنیا کی تمام اقوام اور حکام کی ذمہ داری ہے کہ مصری عوام اور تمام عرب قومیں اسلامی ممالک کے اتحاد، امن اور انسانی کرامت کی حمایت کریں۔
انھوں نے ملت مصر کو تصادم سے بچنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ مصر کے شہری تصادم، عوامی و سرکاری املاک کی لوٹ مار اور پبلک و سرکاری سازوسامان لوٹنے سے پرہیز کریں جبکہ مصرک حکام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کریں۔
آیت الله مدرسی کا کہنا تھا کہ آمریت اور ظلم و جور کے قائل افراد کی حکمرانیوں کا زمانہ گذر چکا ہے چنانچہ مصر کے حکام ملک و قوم کے حق میں اپنے عہدوں سے سے دستبردار ہوجائیں اور عوامی خواہش کے سامنے ہٹ دھرمی سے پرہیز کریں۔
کربلائے معلیٰ سے تعلق رکھنے والے اس عالم دین کاکہنا تھا کہ مصری حکام حکومت سے دستبرداری میں جتنی بھی تأخیر کریں گے اتنے ہی عوام ناراض ہونگے اور ملک کے حالات مزید خراب ہونگے جبکہ صاف و شفاف انتخابات انعقاد موجودہ حالات کے خاتمے کا سبب ہوگا کیوں کہ انتخابات ازادی اور انسانی کرامت کے تحفظ کا سبب بنتے ہیں۔
آیت الله مدرسی نے اخر میں کہا : ظلم وجور کی حکمرانی کا زمانہ گذر چکا ہے اور آمر حکمران بھی اور ان کا طرز عمل بھی بہت جلد نابود ہوجائے گا کیونکہ خداوند متعال نے ان کے لئے بری تقدیر لکھی ہے ۔
.........
/110