13 اکتوبر 2010 - 20:30

سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان حضرت حجة الاسلام والمسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شہدائے یوم علی ع کربلاگامے شاہ لاہور اور یوم القدس کوئٹہ کے شہداءکے چہلم سے خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آغاز سخن میں اہلیان لاہور ،زندہ دلان لاہور کہ جنہوں نے 21ماہ رمضان کے شہداءاورکوئٹہ کے شہداءکے چہلم کو عظیم الشان طریقے سے منعقد کیا ہے اور مبارک باد کے مستحق ہیں اور یقین ہے کہ امام ع کی نصرت و تائیدات شامل حال تھیں اور شہداءکی ارواح ناظر ہیں آپ کی تمام سعی و تلاش پر امید ہے خالق کاینات آپ کی تمام سعی و تلاش کو عبادت قرار دیگا ۔علمائے کرام، مدارس کے مہتمم حضرات،زعماءشخصیات،برادران اہلسنت کی نمایندگی کرتے ہوئے قبلہ قادری صاحب اور اسی طرح سے عزادار ماتمی حضرات،نوحہ خوان بانیان مجالس،ذاکرین جو تشریف لائے ہیں ۔(آج یہاں) یہ جو بہترین گلدستہ جو آپ کو نظر آرہا ہے یہ شہداءکے خون کی برکت کا نتیجہ ہےما من قطرة احب اللہ من قطرة الدم شھیدخدا کی بارگاہ میں محبوب ترین قطرہ شہید کے خون کا قطرہ ہے جو زمین پر گرتا ہے ،شہادت ہماری میراث ہے ہمارے بارہ میں سے گیارہ امام شہید ہیں آرزوئے شہادت اپنے دلوں میں پالتے تھے امام اور اس کے قریبی اصحاب ،جنگ احد کے بعد چالیس سال میرا امام آرزوئے شہادت اپنے سینے میں لئے رہا اور منتظر رہا انیس ماہ رمضان کی شب کا شہادت وہ عظیم مرتبہ اور درجہ ہے جب آپ کے اور میرے امام کربلا کی طرف روانہ ہونے سے پہلے روضہ رسول ص پر گئے اپنے نان سے ودا کرنے کے لئے ہمارے استاد جوادی آملی کے بقول ایک معنوی کیفیت پیدا ہوگئی یعنی ایک کشفی اور شہودی کیفیت پیدا ہوگئی ،حجاب ہٹ گئے ،اللہ کے نبی ص سے ملے آگوش رسول نے اپنے سینے سے لگایا اپنے آغوش میں لیا اس وقت میرے مولاءنے شکوہ کیا امت کا تو اللہ کے نبی ص نے فرمایا حسین ع ان لک درجة عند اللہ لاتنالوا الا باالشھادة میرے حسین ع اللہ کی بارگا ہ میں ایک مقام ہے ،ایک درجہ اور ایک مرتبہ ہے خدا کی بارگاہ میں حسین ع اس پر فائز ہونے کے لئے شہادت چاہیے یعنی شہید ہونا ضروری ہے اور یہی وہ مقام ہے کہ قیامت تک تمام انبیاءع اولیاءع اوصیاءابرار شہداءکے خون کا ضامن خون حسین ع ٹہرا،دین کا ضامن خون حسین ع ٹہرا ،دوستو شہادت وہ حقیقت ہے کہ تمام انبیاءجس کی آرزو رکھتے تھے ،اہلبیت ع اس کی آرزو رکھتے تھے ،صحیفہ سجادیہ میں بھی پہلی دعا کے جو آخری کلمات ہیں اس میں امام ع خدا سے شہادت کی تمنا کرتے ہیں ،امیر المومنین ع جب مالک اشتر کے لئے خط لکھتے ہیں تو اس کے آخر میں لکھتے ہیں دعا کرتے ہیں کہ ان یختم لی بالسعادة و الشھادة مالک میری دعا ہے خالق کائنات تیرا اور میرا خاتمہ شہادت پر کرے شہادت وہ مقام وہ منزلت ہے کہ علی ع نے خیبر میں نہیں کہا فزت و رب الکعبہ ،خندق میں نہیں کہا فزت و رب الکعبہ احد میں نہیں کہا بلکہ فزت و رب الکعبہ کہا تو اس وقت جب فرق مبارک پر ضربت لگی یعنی جب شہادت کا یقین ہوگیالہذا علی ع کے مانے والے ان کے پیروکار شہادتوں کے امین اور وارث ہیں ،ان شہیدوں کا وارث وہی بن سکتا ہے جوخون دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔کربلاءعام لوگوں کی سرزمین نہیں ہے جب میرا حسین ع کربلا کی طرف چل پڑاتھا تو صاف فرمایا تھا کہ من کان بازلا فینا مھجتہ و موکلا الی لقاءاللہ۔۔جو شخص خون جگر دے سکتا ہے ،جو اللہ سے ملاقات کا عاشق ہے وہ میرے ساتھ کربلا کی طرف چل پڑے میں کل صبح کوچ کرنے والا ہوں ۔دوستو!شہادت کربلائیوں کی میراث ہے اور ہم اس کے امین ٹہرے ہیں ۔دوستو!پاکستان کی زمین لہو لہو ہے حسنیو کے خون سے اور گذشتہ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ،ارباب مجلس شہیدوں کے خون کے وارث کچھ چیزوں کا ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ اگر نالائق ،بزدل ،فرار کرنے والے بے بصیرت لوگ شہیدوں کے خون کے وارث بن جائیں تو یہ خون کوئی تاثیر نہیں رکھتا ۔کربلاءکے بہتر کی وارث علی ع کی شیر دل بیٹی ثانیہ زہرا ع تھیں جس نے بہتر کے خون کو نہ زمان کے حصار میں رہنے دیا اور نہ مکان کا قیدی میں بنے دیا اسے آفاقیت اور ابدیت بخشی ،ایسی پروریش کی بہتر کے خون کہ کاینات کے تمام شہیدوں کے خون پر وہ خون غالب آگیا ،ایران میں پچہتر ہزار شہیدوں کے خون کا وارث امام خمینی تھا انقلاب آگیا یزدیت کا سر کچل دیا گیا شہنشاہیت کا ڈھائی ہزار سال تاج زمین پر گرا دیا گیا کیونکہ ان شہیدوں کا وارث خمینی بت شکن تھا ،لبنان میں کئی ہزار شہید آج سے پہلے ہوچکے تھے پندرہ سال کی جانہ جنگی میں ہزاروں مومنین بچے بوڑھے خواتین شہید ہوئیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں تھا لیکن جب شہیدوں کے خون کی وارث حزب اللہ ٹہری ،جب سے حزب اللہ شہیدوں کے خون کی وارث ٹہری ان شہیدوں کے خون سے اسرائیل کو شکست دی،وطن کو آزاد کرایا اور اپنے وطن میں امن لیکے آئے ،کیوں ؟ اسلئے کہ شہیدوں کے خون کی وارث اب حزب اللہ ہے وہ یہ لیاقت رکھتی ہے کہ شہداءکے خون کی وراثت کی امین بنے ۔جب حزب اللہ نہیں تھی جب منظم نہیں تھے تو ہزاروں شہید دیکر بھی کچھ حاصل نہ تھا ،ناکامی ہی ناکامیاں تھیں لیکن جب شہیدوں کے خون کا وارث راغب حرب ،عباس موسوی اور حسن نصراللہ بنے وہ اسرائیل جو ناقابل شکست تھا اسے شکست دے دی اور اس عصر کے خیبر کو فتح کیا تو علی ع کے بیٹوں نے اور ان کے ماننے والوں ۔دوستو!پاکستان کی سرزمین پر بھی اگر ہم منظم ہو جائیں ،اگر ہم اکھٹے ہوجائیں عزادار ،ماتمی ،نوحہ خوان،عالم ،ذاکر،خطیب،شاعر چھوٹے بڑے ہم سارے اکھٹے ہوں اس ایک نقطے پر کہ یزدیوں کے مقابلے میں ہم اکھٹے ہیں ہم یزدیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔یہ ہماری تقدیر میں لکھا نہیں ہے کہ ہمیشہ شمروں کے ہاتھ میں خنجر ہونگے اور حسینیوںکے سینے ہونگے جیسے حزب اللہ کے مجاہدوں نے اس علاقے کے یزدیوں کے خنجر چھین کر ان کے سینوں میں گھونپا ہے یہ ہم بھی کر سکتے ہیں ،لیکن ایک شرط ہے بیدار ہونا پڑیگا ،منظم ہونا پڑیگا ،گھروں سے نکلنا پڑیگا ،اختلافات کو پیچھے چھوڑنا پڑیگا ،اکھٹے ہونا پڑیگا ،ہاتھ میں ہاتھ دینا پڑیگا اور مولاعلی ع کے پرچم کو اٹھا کر لبیک یا حسین ع کہہ کر آگے بڑھنا ہوگا.

جاری ہے

.........

/110