7 اکتوبر 2001ء موجودہ دور کا ایک ایسا ناقابل فراموش دن ہے،جس دن امریکہ اور اسکے 42 اتحادیوں نے جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ جنگ زدہ علاقے افغانستان پر حملہ کیا۔ اتحادی افواج لیزر گائیڈڈ میزائلوں، B.52 بمباروں اور انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ کی فراہم کردہ وسیع معلومات کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئے۔ 11ستمبر کے مشکوک حملوں کے جواب میں امریکہ نے افغانستان پر لشکرکشی تھی، دنیا کے سب سے بڑی فوجی طاقت امریکہ نے جب اپنے 40 سے زيادہ اتحادیوں کے ساتھ نیٹو فورسز کی صورت میں افغانستان پرحملہ کیا تو اکثر تجزیہ کاروں کا یہ کہنا تھا کہ یہ جنگ اتحادیوں کی حد سے زيادہ مضبوط ائرفورس اور درست انٹیلی جنس معلومات کی بدولت ہفتوں کی بجائے دنوں میں ختم ہوجائیگی۔ شروع میں ایسا ہی ہوا۔ اتحادیوں نے سات اکتوبر کو افغانستان پر حملہ شروع کیا اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں امریکی فورسز کابل پر قابض ہوچکی تھیں۔امریکیوں نے طالبان کو افغانستان کے چوہے قرار دیکر دسبمر کے پہلے ہفتے میں اپنی فتح کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ امریکہ کی فتح کا یہ اعلان ایک بریکنگ نیوز کے طور پر عالمی ذرائع ابلاغ میں نشر نہیں ہوا،کیونکہ ایک جنگ زدہ ملک پر امریکی حملہ اور نیٹو فورسز کی کامیابی کوئی انہونی بات نہ تھی۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ افغانستان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں جو رپورٹیں آنا شروع ہوئیں،تو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ افغان جنگ میں ابھی تک ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کرچکا ہے۔اس جنگ میں امریکہ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اسکے ساڑھے چار ہزار فوجی افغان چوہوں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں،جبکہ اپاہج زخمی اور نفسیاتی مریض ہونے والوں کی صحیح تعداد کا اعلان بھی نہیں کیا جاتا۔اب جبکہ یہ جنگ دسویں برس میں داخل ہو چکی ہے امریکی صدر اور دیگر حکام کی طرف سے مسلسل یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ افغان جنگ کی حکمت عملی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لائی جائیگي۔ امریکی صدر باراک اوباما نے جولائي 2011ء تک افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کا اعلان کیا ہے،تاہم امریکی فوجی قیادت اس پر راضي نظر نہیں آ رہی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے اس اعلان کو نافذ کرنے اور امریکی عوام کو دکھانے کے لئے ایک ایسا اقدام کیا جائے گا،جس سے امریکہ کی فتح بھی ظاہر ہو اور امریکی فوج کے رسمی انخلا کا ڈرامہ بھی سچ نظر آئے۔امریکہ نے اسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کی جگہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو افغان جنگ کا نیا کمانڈر بنایا ہے۔نئے کمانڈر کی ابھی تک یہ حکمت عملی ہے کہ طالبان اور مزاحمتی گروہوں کے ساتھ معاہدہ کر کے ایک نیا مستقل سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے،جس میں پاکستان کی شرکت برائے نام ہو۔ اس جنگ کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچانے کے لئے جنگ کے دائرے کار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے اور اسے افغانستان سے پاکستان تک لایا جا رہا ہے،باراک اوباما کے پالیسی سازوں کے مطابق افغانستان کی جنگ میں کامیابی پاکستان کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان کو مزید دباؤ میں لانے کے لئے پاکستان سرحدوں کی خلاف ورزی اور ڈرون حملوں میں اضافہ ضروری ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کی طرح افغانستان پر امریکی حملہ اور طالبان اور القاعدہ سے اسکی جنگ ابھی تک ایک ایسی الجھی ہوئی ڈور کی مانند ہے،جسکا سرا اور خاتمہ کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ القاعدہ اور طالبان امریکہ کے پیدا کردہ ہیں۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان اور القاعدہ کی ابھی تک کی تمام بڑی کاروائیاں امریکہ کے حق میں گئی ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کے ہزاروں فوجی اور اربوں ڈالر کا سرمایہ افغانستان میں بظاہر طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے پر صرف ہوا ہے۔ امریکہ سی آئی اے اور پاکستان کی آئي ایس آئی کے افغانستان کے حوالے سے مشترکہ ایڈونچر بھی تاریخ کا حصّہ ہیں،جبکہ موجودہ حالات میں امریکہ ہند اسٹرٹیجک اتحاد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں،ان تمام زمینی حقائق کی روشنی میں باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ مسئلہ نہ افغانستان کے چوہے طالبان تھے اور نہ ہی القاعدہ کا نیٹ ورک تھا،اس تمام مشق کے پیچھے کوئی اور اہداف تھے جس کے مقدمے کے لئے امریکہ کو پہلے گیارہ ستمبر کے حملہ کا ڈراما اور بعد میں اسکو بنیاد بنا کر افغانستان پر لشکر کشی کرنا پڑی۔ افغانستان جنگ نے جب سے پاکستان کی سرزمین کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے،اس جنگ کے اہداف پر پڑے دبیز بادل آہستہ آہستہ چھٹنے لگے ہیں اور حقائق کی روشنی سامنے آنا شروع ہو رہی ہے۔ایک لمحے کے لئے اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہوتی ہوئی اسلام آباد تک پہنچ جاتی ہے تو اس صورت حال میں اسکے علاقے پر کیا اثرات مرتب ہونگے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مستقبل کیا ہو گا؟پاکستان کے ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران اور چین کا ردعمل کیا ہو گا؟پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا ردعمل اور امریکہ مخالف قوتیں اس صورت حال میں کیا اقدامات کریں گی؟ پاکستانی افواج میں وہ حلقہ جسے امریکی حکام طالبان اور القاعدہ بلکہ اسلامی بنیاد پرستی کا حامی قرار دیتے ہیں،کیا وہ ٹھنڈے پیٹوں اسے برداشت کریں گے۔یہ چند سوالات اور اسطرح کے ہزاروں سوالات علاقائي سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے دل و دماغ میں مسلسل گونج رہے ہیں۔ بہرحال اب جبکہ افغانستان کی جنگ دسویں سال میں داخل ہو رہی ہے ان طاقتوں،افراد اور علاقائی سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکر یہ ہے کہ جنہوں نے امریکی فوجیوں کا کھلے بازووں سے افغانستان میں استقبال کیا تھا۔امریکہ عرب بدو کے اونٹ کی طرح اس علاقائی خیمے میں گھس چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی اونٹ خیمے میں موجود اصل ممالک کو کب خیمہ بدر کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110