آہ..........اے تا ریخ ہم نے تجھ بیتے سا رے رنج و غم ایک ساتھ سہہ لئے ہیں کیو ں ہم آخر الزمان (ع) کی امت ہیں اور وہ خمینی رحمۃاللہ علیہ جو بنی ہاشم کا چاند ،انبیاء کا حقیقی وارث، غربت کے زما نے میں کہ جب کسی پیغمبر کو نہ آنا تھا ایک ایسے وقت میں کہ جب ظاہراََ میں کوئی خدا کی طرف سے پیغام پہنچانے والانہ تھا ایسے نازک لمحات میں خمینی رحمۃاللہ علیہ وارث انبیاء بن کر کُرئہ ارض پر خرشید کی ما نندطلوع ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے غروب بھی ہو گیا لیکن اس کے جانے کے بعد بھی جہان آج اس کی دی ہوئی روشنی سے چمک رہا ہے مگر اُس بت شکن زمان کے جانے کا غم آج بھی ہمارے دلوں پر با قی ہے ایک ایسا داغ جسکا معالجہ نہ ہو۔۔۔۔ہم نے یہ سوچا بھی نہ تھاکہ اس کے بغیر زندہ رہ سکیں گے وہ آیات الٰہی میں سے ایک آیت تھاخمینی رحمۃاللہ علیہ کبیرکا وجود(حدیث ثقلین)کے معنوں صداقت میں بدل چکا تھااور ہم جا ن چکے تھے کہ زمین اور آسما ن کی گردش ایسے ہی لوگوں کے سبب ہے جو ہر ہزار سال میںایک دفعہ دنیا کو اپنے وجود مقدس سے نور کرتے ہیں(ہر ہزار سال سے مراد ہر ہزار سال ہی نہیں بلکہ ایسے نایاب لوگوں کی کمیابی کی مثال ہے اور ایسے لوگ واقعاََ دنیا کی گر دش کا محور ہو تے ہیں اور کیوں نہ ہو ! حق ہے ایسے شخص کے جانے پر زمین و آسمان فنا ہو جائے ، سورج اپنی روشنائی کھو بیٹھے ،چاند کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئیں ،سمندروں میں طوفان آ جائے ، آسمان سے خون کی بارش ہو اور مو منین شدت غم سے دم مرگ تک پہنچ جائے اور ہاں آج خدا کی آخری حجت (عج) پردئہ غیب میں نہ ہوتی توبلاشبہ یہ تمام باتیںبغیر کسی تا خیر انجام پہ چکی ہوتیں، ہمیں اندازہ نہیں تھا کے ہم اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکیں گے لیکن وہ چلا گیا اور ہم اس زمین پر زندہ موجود ہیں۔ روز محشر کے اندھے آج اس دنیا میں بھی اندھے ہی ہیں (من کان فی عھدہ اعمی فھوافی الاخرۃاعمی) اور نہیں دیکھتے! وہ کس طرح جانتے کہ کونسا عظیم واقعہ رونما ہوا ہے۔ ۔۔۔۔آج جب کے وہ جا چکے ہیں ورنہ آ ج بھی یہ خدا کا خالص بندہ سب کے لئیے حجّت ہوتا اور قصصاانبیاء کو سچ ثابت کر تا، جیساکہ فر عونی جادو گر اس انقلاب کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا ۔(امنا برب مو سی(ع) و ہارون(ع) )خدا کا یہ سچا سپاہی آج بھی مولا علی (ع) کے زہد وعدالت کے جلوؤں کے دکھلاتا اور اسی طرح امام حسن (ع) کی حکو مت اور امام حسین (ع) کی شجا عت کو ثا بت کر تا ۔۔۔۔ خمینی بت شکن ،خدا کے عظیم بندوں میں سے ایک بندہ ہو تا اور حق کی عظمت کو اور صفات الٰہی کو دنیا والو ں کے لیئے ثابت کرتا با لکل اُس طرح کہ جس طرح سو رج کی رو شنی نے ازل سے ابد تک کو روشنی سے بھر دیا ہے۔۔۔۔۔ ہم نے اپنی گزشتہ تا ریخ کے سارے غم اک لمحہ میں سہہ لئے ہیں کیو نکہ ایک بار پھر پیامبر خدا ، انبیاء کا وارث ا س دنیاسے چلا گیا ہے۔ ایک با ر پھر اس دور کا ہر لحاظ سے شجا ع ترین شخص چلا گیا ہے ایک بار پھر اُس کے جا نے کا غم ہما رے دلو ں کو دغدار کر گیا ہے ، ایک بار پھر حجت خدا غیب میں چلی گئی ہے ہم تو پہلے ہی امام مہدی (عج) کی غیبت میں غمزدہ افسردہ تھے لیکن کم از کم امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کا تو سہا را تھا مگر وہ بھی پلک جھپکتے آئے اور چلے گئے آخر کون چلا گیا؟ وہ کہ جس نے ہمیں انتظا ر کے صحیح معنی بتا ئے کہ انتظار کیا ہے اور انتظار کس طرح کر نا چا ہئے وہ خود کے اپنے وجو د کے آئینہ میں حقیقی منتظر ین مہدی (عج) میں تھے لیکن آج ایک بار پھر اس زمین کی گردش بے معنی ہوگئی ہے اور اس دنیا میں سوائے انتظار مہدی (عج) کے کچھ نہیں ۔۔۔۔۔امام خمینیرحمۃاللہ علیہ نے ہمیں بتایا کہ انتظار کا نا م استقامت ہے کا، دشمن سے ڈٹ کر مقا بلہ کرنے کا اور یہی امام رحمۃاللہ علیہ کا سب سے بڑا پیغام تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔لہٰذا آ ج ان کے بعد اگر کوئی چیز ہے جو ہمیں زندہ رکھ ہوئے ہے تو وہ یہی ہے کہ ظہور امام زمانہ (ع) کے لئے کوشش کریں، اپنے دشمن کے سامنے استقامت دکھائیں اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں یعنی اسلام سے اپنی محبت کا اظہا ر امام خمینی رحمۃاللہ علیہ سے کئے گئے وعدوںکو وفا کر کے ثابت کریں ۔۔۔۔۔۔ امام خمینیرحمۃاللہ علیہ نے ہمیں بتایاکہ عرفان حاصل کرنا اور دشمن سے مقابلہ کرنا یا جنگ لڑنا دو الگ الگ مطلب نہیں ہیں بلکہ وہ خود اس با ت کا ثبوت تھے کے عرفان کا حصول اور دشمن کا مقابلہ ایک سا تھ بھی کیا جاسکتا ہے۔اب اس کے بعد اُن صوفیوں اور عرفانیوں کیلئے کوئی بہانہ نہیں رہ جاتا کہ جو عرفان کو صرف شخصی عبادت تک محدود کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے کتاب و سنّت اور مستحبات کو اپنے وجود سے ثابت اور شریعت کے مختلف پہلوؤںکو اپنے کردار اور افکار سے بیان کیا ۔ہم نے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی حیات مبارکہ کو دیکھنے کے بعد یہ جان لیا۔۔۔۔۔ جیسا کہ تمام اولیائے خدا نے بھی طول تا ریخ میں اسی بات کو ثابت کیا ہے ۔آ ہ امام آئے اور چلے گئے اور ہم اس زمین پر زندہ با قی رہ گئے ایک ایسے داغ دل کے ساتھ جو شاید اب خدا کی آخری حجت کے آنے سے ہی مٹ سکے گا۔۔۔۔۔۔ آج ہم ہیں اور امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی دی ہوئی امانت،اب ضروت اس بات کی ہے کہ اپنے عہد و پیماں کو جو ہم نے امام راحل رحمۃاللہ علیہ سے کئے تھے ۔پو رے خلوس کے ساتھ انجام دیں ورنہ رحلت پیمبر اکرم (ص) کے بعد ایک بار پھر کربلا میں روز عا شور ،حسین ابن علی(ع) کے خون سے عصر خونین نمودار ہو گی ،ورنہ ایک بار پھراہل حرم کے لئے شام غریباںبرپا ہو گی ۔۔۔۔۔۔ لیکن نہیں اس بار ایسا نہیں ہو گا اس بار اتنی فرصت مل گئی تھی کے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے اپنے جا نے کے بعد اس شیرازے کو بکھرنے سے پہلے ایک نظام میں بدل دیا اور یہ چیز خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دفعہ خدا وند متعال نے ارادہ کر لیا ہے کہ الٰہی فوجوں اور مستضعفین کو اس جہان کی رہبریت دور اثت عطا کرے گا ۔ ۔۔۔۔ خدا یا ہم سب پر اپنی رحمت کا سایہ ہمارے رہبر عزیز آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شکل میں تا ظہور امام مہدی (عج) قا ئم ودائم رکھ۔
............
/110
بشکریه از ظفر جعفری