7 نومبر 2026 - 10:51
یمن: ہمارے بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، سعودی حکومت دردناک جواب کے لیے تیار رہے

یمن کی حکومت نے سعودی عرب کی جانب سے شہریوں کے خلاف جاری حملوں اور تعز کے ایک بازار میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو شرم ناک قرار دیا ہے۔ یمنی حکام نے خبردار کیا ہے کہ دشمن کو اپنے جرائم کی سزا بھگتنا ہوگی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے یمن کے شہریوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کے تسلسل اور گزشتہ روز صوبہ تعز کے ایک بازار میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے ردعمل میں یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ایک بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم جارح اتحاد کے جنگی طیاروں کی جانب سے صوبہ تعز کے علاقے الوازعیہ میں واقع مقبول الحضارہ بازار پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق، حملے کے وقت بازار شہریوں سے بھرا ہوا تھا۔

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے کہا ہے کہ اس وحشیانہ قتلِ عام میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ دکانوں اور شہریوں کی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔

کونسل نے کہا کہ ہم اس جرم اور صوبے میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف کیے گئے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ان حملوں میں بازاروں، گھروں، صنعتی و خدماتی مراکز اور اہم شاہراہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے گئے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

کونسل نے سعودی حکومت کو اس قتلِ عام اور اس کے قانونی و انسانی نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ یمنی عوام کا خون بے قیمت نہیں۔ شہریوں، بازاروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور جمہوریہ یمن کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو کسی سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن اپنے عوام اور قومی خودمختاری کے دفاع کے جائز حق کو پوری قوت سے استعمال کرے گا۔ ہم سعودی مجرم حکومت کو کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

کونسل نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی و انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جرائم پر اپنی شرم ناک خاموشی توڑیں، ان کی مذمت کریں اور الوازعیہ بازار کے قتلِ عام سمیت سعودی عرب کے دیگر جرائم کی فوری اور سنجیدہ تحقیقات شروع کریں۔

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے زخمیوں، متاثرہ خاندانوں اور شہدا کے لواحقین کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگائیں، شواہد محفوظ کریں اور تمام ضروری قانونی و انسانی حقوق کے مراحل مکمل کریں۔

کونسل نے شہدا کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یمنی بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان جرائم کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ عوام کی حمایت اور ملکی خودمختاری کا تحفظ ایسی ذمہ داری ہے جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔ ان جرائم سے یمن کا عزم مزید مضبوط ہوگا اور وہ فتح کے حصول اور اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے جمعے کے روز صوبہ تعز کے علاقے الوازعیہ کے بازار میں سعودی دشمن کی جانب سے شہریوں کے قتلِ عام کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی دشمن کی جانب سے متعدد فضائی حملوں کے ذریعے ایک عوامی بازار کو نشانہ بنانا اور یمنی عوام کے خلاف قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

انصاراللہ نے کہا کہ یہ شرم اور افسوس کا مقام ہے کہ سعودی عرب کے دستاویزی جرائم اقوام متحدہ اور نام نہاد عالمی برادری کی الماریوں میں بھلا دیے جانے والے مقدمات بن چکے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نام نہاد عالمی برادری قاتلوں اور مجرموں کی شریکِ جرم بن چکی ہے اور درحقیقت ظالموں کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کر رہی ہے۔

انصاراللہ کے سیاسی دفتر نے کہا کہ اگر امریکہ کی سیاسی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہ ہوتی تو سعودی حکومت کو ایسے وحشیانہ جرائم کی جرأت نہ ہوتی۔ دفتر نے خبردار کیا کہ یمنی عوام کے خلاف سعودی حملوں میں شدت کا جواب دردناک کارروائیوں سے دیا جائے گا۔

یمن کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغرب میں واقع علاقے الوازعیہ کے ایک مقامی اور پُرہجوم بازار پر بمباری کے نتیجے میں اب تک 30 شہری شہید اور 8 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ شہدا کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے جمعے کے روز مقامی الحضارہ بازار پر تین مرتبہ بمباری کی۔ حملے کے وقت بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور شہریوں کی آمدورفت جاری تھی، جس کے باعث بڑی تعداد میں عام شہری نشانہ بنے۔

یہ جرم یمن کے شہری مراکز پر سعودی حملوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔ ان حملوں میں عموماً بازاروں اور شہریوں کے اجتماع کی جگہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یمنی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، کشیدگی کے نئے مرحلے کے آغاز سے اب تک سعودی حکومت یمن کے 13 بازاروں کو نشانہ بنا چکی ہے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 166 افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ ان میں 68 شہید اور 98 زخمی شامل ہیں۔ یہ صورتِ حال شہری اجتماعات اور ان مقامات کو نشانہ بنانے کے دائرے میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں لوگ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

یمن کی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کے نئے مرحلے کے آغاز سے 6 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر 981 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جن میں 306 شہید اور 675 زخمی شامل ہیں۔

صرف صوبہ تعز میں سعودی حملوں میں شدت آنے کے بعد سے اب تک 517 افراد شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں 183 شہید اور 334 زخمی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار شہری آبادی کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کی سعودی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha