7 نومبر 2026 - 17:01
امام جمعہ بغداد کی الزیدی کے بحرین اور سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے دوروں پر شدید تنقید

بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراقی وزیراعظم کے بعض عرب ممالک کے حالیہ دوروں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی خارجہ پالیسی امریکی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کی خوشنودی کے بجائے قومی مفادات، خودمختاری اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراقی وزیراعظم کے بحرین، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے دوروں اور ان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر تنقید کی ہے۔

الموسوی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کے سیاسی اثرات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو کمزور کیا ہے، جبکہ حالیہ واقعات نے ایران کو کمزور کرنے اور اس کے سیاسی نظام کو گرانے کے امریکی اور اسرائیلی اہداف کی ناکامی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کے نتائج کو نظرانداز کرکے عراق کو ایران سے اپنے تعلقات محدود کرنے کا مشورہ دینے والے عناصر کو اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

بغداد کے امام جمعہ نے ان عراقی حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے، سرحدی گزرگاہیں بند کرنے یا پروازوں پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کے تعلقات تاریخی، سماجی اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں اور قومی مفادات کا تحفظ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے یا عوامی خواہشات کو نظرانداز کرنے کا نام نہیں۔

الموسوی نے عراق کی دفاعی خودمختاری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کے فوجی فیصلے بیرونی طاقتوں کی اجازت کے محتاج ہوں تو محض اسلحے کی موجودگی حقیقی خودمختاری کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

الموسوی نے عراقی وزیراعظم کے بعض علاقائی دوروں اور ان کے دوران ہونے والے معاہدوں کو عراق کے قومی مفادات کے تناظر میں مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ تعلقات میں ماضی کے رویوں اور موجودہ حالات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے شام کے دورے اور جولانی سے ملاقات پر بھی تنقید کی اور ایسے شخص کے ساتھ قربت بڑھانے پر سوال اٹھایا جسے انہوں نے عراق میں دہشت گردی اور خونریزی کے واقعات سے منسلک قرار دیا۔

انہوں نے سعودی عرب کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقی وزیراعظم کے استقبال اور دیگر رہنماؤں کے استقبال کے درمیان فرق بھی علاقائی تعلقات کی نوعیت پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔

الموسوی نے اردن اور بحرین کے ساتھ تعلقات کے فوائد پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایک طرف عراقی شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف بحرین میں شیعہ شہریوں اور مذہبی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خارجہ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور مشترکہ مفادات ہونی چاہیے، نہ کہ سفارتی آداب کے نام پر یکطرفہ رعایتیں دینا یا علاقائی طاقتوں کو خوش کرنا۔

بغداد کے امام جمعہ نے خطے میں طاقت کے توازن میں نئی تبدیلیوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قوتوں پر دباؤ ان کے کردار کے خاتمے کا ثبوت نہیں ہے۔

انہوں نے حزب اللہ لبنان اور یمن کی انصار اللہ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوتیں آنے والے مرحلے میں اپنی سابقہ طاقت اور پوزیشن کا کچھ حصہ دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔

الموسوی نے عراقی سیاسی قوتوں کو خبردار کیا کہ علاقائی طاقت کے توازن کو مستقل سمجھ کر پالیسیاں تشکیل دینا درست نہیں، کیونکہ مستقبل کی تبدیلیاں انہیں اپنے موجودہ مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ عراق کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور عوامی مفادات کا کس حد تک تحفظ کرتی ہے، نہ کہ یہ کہ علاقائی اور عالمی طاقتیں اس سے کتنی خوش ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha